لاہور

لاہور

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

بہادر کا موسم شروع ہو چکا، ہفتہ رفتہ میں بارش اور رواں ہفتے کے دوران مزید باراں رحمت کی پیشگوئی کے باوجود سردی کی شدت کم اور واقعی موسم خوشگوار ہو گیا ہے۔ کونپلیں پھوٹنے لگیں اور سوکھے درختوں نے سبز پتوں کی چادر اوڑھنا شروع کر دی ہے۔ ایسے میں زندہ دلوں کے اس تاریخی شہر میں دو تقریبات کی بڑی دھوم مچی۔ ایک تو روائتی ہے جسے موسم بہار سے موسوم کرکے جشن بہاراں کہا جاتا ہے۔ لاہور کو سرسبز و شاداب رکھنے کے ذمہ دار ادارہ پی ایچ اے اس کا اہتمام کرتا اور یہ میلہ جیلانی پارک میں لگتا ہے اسی پارک میں پی ایچ اے کے دفاتر بھی ہیں اس بار بھی اسی پارک میں جشن بہاراں کا اہتمام کیا گیا۔ پارک کو خوبصورت رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا۔ خوشنما روشن دروازے نصب کئے گئے بچوں کے کھیل کا اہتمام اور کھانے پینے کے سٹال لگائے گئے ، جبکہ پارک کے مختلف حصوں کو مختلف اقسام کے پھولوں سے سجایا گیا۔ شہریوں کی بھاری تعداد یہ جشن دیکھنے کے لئے رجوع کررہی ہے کہ لاہور میں اب تفریح کے مواقع ہی کم کم ملتے ہیں کہ روائتی میلوں ٹھیلوں میں بے حد کمی آئی اور جو اتفاق سے سج جاتے ہیں ان کے اندر جانے کے لئے مشکل پیش آتی ہے کہ اب کلچر تبدیل ہو گیا اور شرارت والوں کی طرف سے خواتین کو پریشان کرنے کی وارداتیں ہو رہی ہیں، کبھی وہ دور تھا جب لاہور میں میلے ہی میلے تھے، لوگوں کو تفریح میسر آتی تھی، اسی لئے کہا جاتا تھا کہ لاہور کے آٹھ دن اور نو میلے ہوتے ہیں، بہرحال جو ہوا وہ بھی غنیمت ہے۔ البتہ دیکھنا یہ ہے کہ روائتی شجر کاری کا کیا کیا جاتا ہے کہ یہ سلسلہ سال میں دو مرتبہ ہوتا ہے اور لاہور میں ہزاروں پودے لگانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ شجر کاری شروع ہوتے ہی پودے لگوانے کی تشہیر بھی کی جاتی ہے تاہم یہ کبھی نہیں بتایا گیا کہ کتنے نئے پودے لگے اور ان میں سے کتنے درخت بنے، اگر لاہور سمیت پنجاب بلکہ ملک کے دوسرے شہروں میں لگائے جانے والے پودوں میں سے تین فیصد بھی درخت نہیں بن پاتے کہ بعد میں دیکھ بھال نہیں ہوتی اور اگر حساب لگایا جائے تو جتنے پودے اب تک لگائے گئے ان میں سے پچاس فیصد بھی پھل پھول جاتے تو اب تک لاہور درختوں سے ڈھک چکا ہوتا لیکن اب درخت کم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس سال بھی یہ روائت پوری کرنے کا سلسلہ شروع ہے۔

دوسری بڑی تقریب سہ روزہ ادبی میلہ کی تھی، یہ میلہ جسے ’’لاہور لٹریری فیسٹیول‘‘ کہا جاتا ہے، اس مرتبہ روایات سے ہٹ کر زیادہ مقبول ہوا، اس میں لاہور کی تہذیب کے حوالے سے پرانے شہر کی تصاویر کی نمائش کا اہتمام کیا گیا تو ساتھ ہی کتابوں کے سٹال لگائے گئے۔ کھانے پینے کے سٹال اپنی جگہ تھے۔ الحمرا کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا، مرکزی ہال میں مشاعرہ، مجالس مذاکراہ اور ادبی محافل ہوئیں، جبکہ ڈاکو منٹری بھی دکھائی گئیں۔ ایک تہذیبی ورثے کے حوالے سے پرانے لاہور سے متعلق تھی، جسے عتیق الدین احمد نے تیار کیا، اس کے ذریعے شہرکی تاریخی تہذیب اور عمارات کو اجاگر کیا گیا اور تجاویز بھی دی گئیں۔ اس پر گروپ بنا کر باقاعدہ بحث بھی کی گئی جہاں لاہور کے تہذیبی ورثے کے گم ہونے کا دکھ رویا گیا۔ وہاں پرانے لاہور کے ورثہ کے تحفظ اور اس کو اجاگر کرنے کے لئے بنائی گئی اتھارٹی کے سربراہ کامران لاشاری نے شہر کی تہذیب کو واپس لانے اور اس کی ہیئت کو بحال کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔ بہرحال دستاویزی فلم میں یہ تجویز تھی کہ شہر میں جو تھوک اور پرچون کی مارکیٹیں بن گئی ہیں ان کی وجہ سے شہر تنگ ہو گیا ہے، راستے بند ہو چکے ہیں، اگر یہ مارکیٹیں مناسب جگہوں پر منتقل کر دی جائیں تو راستے کھل سکتے ہیں۔ تاریخی عمارتوں اور راستوں کو استوار کر دیا جائے تو سیاحت کا بہت بڑا مرکز بن سکتا ہے۔

اسی طرح ایک بحث پیشہ صحافت خصوصاً الیکٹرونک میڈیا کے حوالے سے تھی، اس میں بھی دستاویز فلم دکھائی گئی جو منیزہ جہانگیرے نے تیار کی تھی، عارف نظامی، فصیح احمد، فہد حسین اور افغانستان سے آئے صحافی سعد محسنی مقررین میں تھے۔ بتایا گیا کہ پاکستان میں صحافیوں کے لئے کام کرنا بڑا دشوار ہو چکا، جانوں کے نذرانے الگ پیش کئے گئے اور دباؤ کا سلسلہ الگ ہے۔ مقررین نے الیکٹرونک میڈیا کے کردار کا ذکر کیا تاہم ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا کہ یہاں تربیت کا کوئی انتظام نہیں اور نوجوان ابھی نوآموز ہیں۔

ادب اور ثقافت کے حوالے سے ہونے والی گفتگو اور مشاعرے میں نوا جہاں اور فیض احمد فیض کے فنون کی تعریف کی گئی اور اس پر بحث بھی ہوئی ۔میلے کے منتظم رضی احمد کے مطابق اس مرتبہ توقع سے زیادہ شرکت تھی۔ نہ صرف لاہور بلکہ پاکستان کے دوسرے شہروں سے مہمان آئے اور طلباء کے وفود نے بھی شرکت کی تخمینہ اندازاً پچیس ہزار لگایا گیا۔ منتظم اعلیٰ رضی احمد کے مطابق یہ ادبی میلہ مقامی اور پاکستانی نہیں بلکہ عالمی میلہ بن گیا۔ بہت ہی مصروف عالمی شخصیات نے شرکت کی اور لیکچر بھی دیئے، ان میں نصیر الدین شاہ، سلیل ترپاٹھی، عائشہ جلال، اے پاٹل، شوبھا دیو اور لانس دوشے جیسی شخصیات شامل ہیں۔

لاہور والوں نے موسم کی تبدیلی کا جلد ہی اثر لیا اور نہ صرف تفریحی مقامات کا رخ کر لیا ہے بلکہ لباس میں بھی احتیاط چھوڑ دی، نوجوانوں نے توٹی ، شرٹ پہننا شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ لاہور کے ’’کھابا مراکز‘‘ کی رونق بڑھ گئی ہے، دوست مل کر چھٹی مناتے ہیں۔

سینٹ کے انتخابات کا بہت شور ہے، خبروں کا موضوع ہے، تاہم لاہور بہت سکون میں ہے کہ پنجاب میں کوئی فکر نہیں،یہاں مسلم لیگ(ن) کو اکثریت حاصل ہے اور وہ پوری نشستوں کا یقین کئے بیٹھے ہیں، تاہم حزب اختلاف(پی پی+مسلم لیگ ق) مل کر ایک نشست نکالنے کی کوشش کررہے ہیں، ندیم افضل چن پیپلزپارٹی کے امیدوار ہیں۔ مسلم لیگ (ق) ان کی حمائت کررہی ہے۔ بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین استعفے دے کر ایوان اور کارروائی کا بائیکاٹ کئے بیٹھے ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید پرانے سیاسی ورکر اور رہنما ہیں، وہ بھی کسی نہ کسی تقریب کے حوالے سے کبھی کبھار لاہور کا چکر لگا لیتے اور میڈیا سے گفتگو کرکے بعض دلچسپ باتیں کر جاتے ہیں۔ اس مرتبہ ایک دعوت ولیمہ میں شرکت کے لئے آئے تو یہ بتا کر حیران کرنے کی کوشش کی کہ حکمران جماعت اور پاکستان تحریک انصاف جوڈیشل کمیشن پر اتفاق کر چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے قمر زمان کائرہ جلد ہی تحریک انصاف سے ملیں گے، ساتھ ہی ساتھ تیکھے سوالات کے تحمل سے جواب دیئے اور آصف علی زرداری کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری کے اختلافات کی تردید کر دی اور کہا ایسا نہیں۔ بلاول مارچ میں پاکستان آکر سیاست میں حصہ لیں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -