اسلام آباد

اسلام آباد

  

اسلام آباد سے ملک الیاس

یوں تو پاکستان میں جو بھی الیکشن ہوئے ان سے پہلے تجوریوں کے منہ کھل جاتے ہیں اور الیکشن کے بعد دھاندلی کا واویلا بھی کیا جاتا ہے گزشتہ قومی الیکشن کے بعد بھی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کا رونا رویا تحریک انصاف نے تو اس دھاندلی کیخلاف پارلیمنٹ کے سامنے طویل ترین دھرنا بھی دیا مگر الیکشن میں خریدوفروخت اور دولت کا بے دریغ استعمال تو الیکشنوں کی پہچان بن گئے ہیں،سینٹ کا الیکشن آئندہ ماہ ہورہا ہے اس حوالے سے ابھی سے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ سینٹ کی نشستوں کیلئے اراکین پارلیمنٹ کو خریدنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے،خصوصاً خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور فاٹا کے حوالے سے یہ بات اٹھائی جا رہی ہے کہ یہاں اراکین اسمبلی بھاری نذرانے لیکر ووٹ کاسٹ کریں گے،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن اور حکومت کوچاہیے کہ وہ سینٹ انتخابات کوشفاف اور منصفانہ بنانے کیلئے اقدامات کرئے،وزیراعظم محمد نوازشریف نے بھی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں آئندہ سینٹ انتخابات کیلئے پیسہ یا اثر و رسوخ کے مبینہ استعمال کی خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور جمہوری اقدار کے مطابق بنانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں،وزیراعظم محمد نواشریف کی ہدایت سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ سینٹ کے الیکشن میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ اور پیسہ،اثرورسوخ کے استعمال کو حکومت بھی ہرحال میں روکنا چاہتی ہے کیونکہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ گزشتہ قومی انتخابات کے حوالے سے ابھی تک دھاندلی کا نہ ختم ہونے والا رونا رویا جارہا ہے تو کہیں سینٹ الیکشن کے بعد ایک بار پھر ہارس ٹریڈنگ کا حکومت کیخلاف نیا ایشو کھڑا نہ ہوجائے ،وفاقی وزیراطلاعات و نشریات و قومی ورثہ سینیٹر پرویزرشید کا سینٹ الیکشن کے حوالے سے کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی سیاست سے ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کیلئے 5 مارچ تک آئینی ترمیم کی خواہاں ہے، خواہش ہے کہ 5 مارچ سے پہلے آئینی ترمیم کر لی جائے،اس ضمن میں دوکمیٹیاں بھی بنادی گئی ہیں،اس حوالے سے حکومت تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جا ئیگی،انکا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے سربراہ اپنی جماعت کے 35 ارکان کے ہمراہ اس کار خیر میں شرکت کریں جس کا سب سے زیادہ فائدہ کے پی کے اور انکی جماعت کو ہوگا، عمران خان کنٹینر کے بجائے پارلیمنٹ میں آتے ہوتے تو انتخابی اصلاحات لاگو ہو چکی ہوتیں۔

وفاقی وزیر امور کشمیر ،گلگت و بلتستان چوہدری برجیس طاہر کی بطور گورنر گلگت و بلتستان تعیناتی کیخلاف اپوزیشن جماعتیں خصوصاً پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف شدید احتجاج کررہی ہیں ،اس حوالے سے حکومتی موقف سامنے آیا ہے کہ اگر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ گلگت بلتستان کے قائم مقام وزیراعلی کی تعیناتی کے مسئلہ پر عدالت گئے تو وہ اپنی ہی جماعت کے خلاف جائیں گے کیونکہ وزیراعلی کیلئے تینوں نام آئین کے درج طریقہ کار کے مطابق اپوزیشن یعنی انکی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی نے بھجوائے تھے جن میں سے ہی ایک کا تقرر ہونا تھا، اس لئے وہ عدالت گئے تو ان سے یہ پوچھا ضرور جائے گا کہ آپ اپنی جماعت کے فیصلے کے خلاف مقدمہ چاہتے ہیں اور گلگت بلتستان قائم مقام کابینہ کے اراکین وزیراعلی کی مشاورت سے مقرر کئے گئے ہیں۔

ملک میں ہونیوالی دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کا تو سبھی ذکر کرتے ہیں خصوصاً بلوچستان کے خراب حالات کا ذمہ دار غیرملکی ہاتھوں کوقراردیا جاتا رہا ہے مگر کھل کر کسی ملک کا نام نہ کبھی اپوزیشن جماعتوں نے لیا اور نہ ہی حکومتوں نے لیا گزشتہ دنوں وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے انکشاف کیا کہ بلوچستان کے علیحدگی پسند بھارتی پاسپورٹ پر سفرکرتے ہیں اور بھارت جا کر مشورے لیتے ہیں جس کے بعد اس سازش کو پاکستان میں پھیلانے کا کام کیا جاتا ہے ۔،بھارت نے نے آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر اشتعال انگیزی پیدا کر کے پریشر بڑھایا اور آپریشن ضرب عضب کے دوران کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کرنے پر اس نے رابطے منسوخ کر دیئے اور مسلسل اشتعال انگیزی بڑھا کر ہمیں مشرقی سرحد پر مصروف کرنا چاہتا ہے، ہم بھارت کو اس کی زبان میں جواب دے سکتے ہیں اور عالمی فورم پر بھی اس کی دخل اندازی ثابت کر سکتے ہیں،یہ خوش آئند بات ہے کہ ملک میں جاری دہشتگردی کیخلاف حکومت نے کھل کر موقف اپنایا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے عالمی برادری کے سامنے بھارت کے اس گھناؤنے چہرے سے نقاب ہٹایا جائے اور بھارت جو اپنے آپ کو سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کہلاتا ہے اس کا مکروہ چہرہ سب کے سامنے کیا جائے۔اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ ،امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک اوآئی سی میں اس حوالے سے اپنا موقف سامنے رکھے۔

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان معاملات بھی اپنے مراحل طے کررہے ہیں،پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمن ملک اس حوالے سے دونوں کے درمیان سیاسی جرگے کافریضہ سرانجام دے رہے ہیں انہوں نے وزیرخزانہ اسحق ڈار سے ملاقات کی اور تحریک انصاف کا خط پہنچایا جس پر انکا کہنا تھا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کا خط خوشدلی سے قبول کرلیا ہے اور اب تین دن میں اسکا جواب بھی دے گی حکومت اور تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو جوڈیشل کمیشن بنتے وقت ایک پیج پر ہونا چاہیے ،دونوں فریقین نے کافی حد تک لچک دکھائی ہے ،حکومت نے سیاسی جرگے کی کوششوں کو سراہا ہے،قوم بھی اب یہی چاہتی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی محاذ آرائی ختم ہونی چاہیے جو حل طلب معاملات ہیں انہیں مل جل کر باہمی صلاح مشورے سے حل ہونا چاہیے کیونکہ جلسے جلوس،احتجاجی دھرنے سب نے دیکھ لیے ہیں مسائل کا حل آخر کار مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ہی سامنے آتا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اب حکومت اور اپوزیشن خصوصاً تحریک انصاف دونوں نے مثبت طرز عمل اپنا یا ہے جو کہ ملک اور سیاست دونوں کیلئے نیک شگون ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مثبت طرز سیاست کا سلسلہ کب تک چلتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -