کراچی

کراچی

  

سندھ میں سینٹ کے انتخابات میں وہ کیفیت تو نہیں ہے جو بلوچستان اور مرکز میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور صوبہ خیبرپختون خوا میں حکمران جماعت جناب عمران خان کی تحریک انصاف کو درپیش ہے کہ اگر آئین میں ترمیم کر کے خفیہ رائے دہی ختم کر کے ’’شو آف ہینڈ‘‘ کے ذریعہ ووٹ کا طریقہ نہ ہوا تو دونوں جماعتوں کا بھرم کھل جائے گا۔ البتہ سندھ میں بھی پنجاب کی طرح دوسرے صوبوں کے مستقل رہائش رکھنے والوں کو سینٹ کا ٹکٹ دینے پر بات ضرور ہو رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے۔ ماضی میں بھی دوسری کئی جماعتیں اپنی وقتی سیاسی ضرورتوں کے تحت ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ کے مستقل رہائشی کو سینٹ میں منتخب کراتی رہی ہیں۔ جناب عبدالرحمن ملک بھی اب تیسری بار سندھ سے منتخب ہونے جا رہے ہیں۔ توقع یہی ہے کہ اس بار بھی ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان مفاہمت برقرار رہے گی ایم کیو ایم نے بھی سندھ سے سینٹ کے لئے خیبرپختون خواہ کے بیرسٹر سیف کو اور پنجاب کے شیخ عتیق کو سینٹ کا ٹکٹ دیا ہے ایم کیو ایم نے ماضی میں بھی ایسا کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے جناب بابر غوری کو ٹکٹ نہیں دیا انہوں نے طویل عرصے تک سینٹ میں ایم کیو ایم کی نمائندگی کی، ماضی میں جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر جناب پروفیسر خورشید احمد سندھ پنجاب او رصوبہ سرحد (اب خیبرپختون خوا) سے باری باری سینٹ کے رکن رہے ہیں۔ دوسرے صوبوں سے سینٹ میں جانے والوں نے قانونی ضرورت تو ضرور پوری کی ہو گی مگر ’’دستور پاکستان‘‘ میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی دینے کا جو مقصد بتایا گیا۔ اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی یہ روش دستور کی روح کے منافی ہے۔ اگر ان حضرات کو پارلیمینٹ میں لانا اتنا ہی ضروری ہے یا یہ پارلیمینٹ کو رونق بخشنے کے لئے اتنے ہی بے چین ہیں تو پھر یہ جماعتیں اپنے کسی رکن قومی اسمبلی کو مستعفی کرا کے ضمنی انتخابات میں منتخب کرا لیں۔ ماضی میں جناب میاں محمد نواز شریف سندھ سے تعلق رکھنے والوں محمد خان جونیجو، سید غوث علی شاہ اور غلام مصطفیٰ جتوئی کو آئی جے آئی کے ٹکٹ پر پنجاب کے حلقوں سے منتخب کرا چکے ہیں۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اس کی قانون بھی اجازت دیتا ہے اور آئین کی روح بھی اس سے مجروح نہیں ہوتی۔ ایم کیو ایم کی تنظیم کا جو سیٹ اپ ہے اس میں تو کسی کو اعتراض ہو ہی نہیں سکتا اعتراض ہو تو انجام اچھا نہیں ہوتاالبتہ پیپلزپارٹی کی قیادت کو نجی مجالس میں سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سندھ میں مسلم لیگ (ن) کے اگرچہ 8 ارکان کہنے کو ہیں مگر کتنے ارکان نظم کی پابندی کریں گے کہنا مشکل ہے۔

سندھ میں مسلم لیگ (ن) کے اپنے لوگوں کی زبان پر یہ ’’فقرہ‘‘ رہتا ہے کہ میاں صاحب سندھ کی سیاست سے دست بردار ہو چکے ہیں سندھ کو جناب زرداری کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ 1997ء کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) نے کراچی اور اندرون سندھ سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی خاصی نشستیں حاصل کی تھیں اور سینٹ میں اپنے ارکان منتخب کرائے تھے۔ صرف کراچی سے دو سینٹر منتخب کرائے تھے۔ سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے چار ارکان ہیں۔ ان کے استعفوں کا مسئلہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے سپیکر سندھ اسمبلی جناب سراج درانی نے ان کے استعفے منظور کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں جناب عبدالرحمن ملک نے منظور نہ ہونے کی نوید سنائی مگر تحریک انصاف تو خیبر پختون خوا کے علاوہ سندھ اور پنجاب میں سینٹ کے انتخاب میں حصہ ہی نہیں لے رہی ہے۔ بلوچستان میں اس کا کوئی رکن ہی نہیں ہے۔ فاٹا، خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں سینٹ کے انتخابات میں ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کی جو منڈی لگی ہوئی ہے۔ ماضی میں 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات سے لیکر 2002ء اور 2006ء میں سینٹ میں سیاسی جماعتوں کے ارکان نے اپنی پارٹی کے امیدواروں کے بجائے دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو ووٹ دیئے تھے۔ پیپلزپارٹی نے تو ڈاکٹر ارباب غلام رحیم پر اپنے ارکان کے ضمیر خریدنے کے الزامات لگائے تھے۔

’’ضمیروں کی خرید و فروخت‘‘ روکنے کے لئے حکمران جماعتیں دستور میں ترمیم کے ذریعہ خفیہ رائے دہی کی جگہ ’’شو آف ہینڈ‘‘ کے ذریعہ ووٹ ڈالنے کا طریقہ رائج کراتے ہیں۔ تو کیا عام انتخابات میں لوگوں کو پولنگ اسٹیشنوں میں جا کر اعلانیہ اپنی اپنی پسند کے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی۔ واضح رہے ہندوستان میں 1946ء میں جو عام انتخابات ہوئے تھے۔ اس میں ووٹر لسٹ تو تھی۔ بیلٹ پیپر نہیں تھا۔ پولنگ اسٹیشن کے اندر انتخابی عملے کے پاس ایک رجسٹر ہوتا تھا۔ ووٹر جس کے حق میں اپنا ووٹ دینے کا اعلان کرتا رجسٹر میں وہ ووٹ اس کے حق میں درج کر لیا جاتا کیا ’’شو آف ہینڈ‘‘ طریقہ سے ’’ضمیروں کی خرید و فروخت‘‘کی منڈی لگنا بند ہو جائے گی؟ یہ کام شو آف ہینڈ کے طریقہ سے ختم نہیں ہوگا۔ اس کے لئے سیاسی جماعتوں کو اپنی تنظیموں میں مہذب جمہوری ملکوں کی طرح جمہوری کلچر کو اپنانا پڑے گا کتنی بد قسمتی ہے کہ وطن عزیز میں جماعت اسلامی کے سوا کسی دوسری سیاسی جماعت میں جمہوری سپرٹ کے مطابق جماعتی انتخابات ہی نہیں ہوتے۔ تحریک انصاف کے جماعتی انتخابات میں جو’’دھن‘‘ چلا اس کی شہادت تحریک انصاف کے الیکشن کمیشن نے دے دی ہے۔

اب ذکر کرتے ہیں ایک ایسی باوقار قانون دان پاکستانی شخصیت کا جس نے زندگی بھر قائداعظم کے پاکستان کا شہری ہونے پر فخر کیا اور پاکستان کو بھی انپے اس مایہ ناز روشن خیال سپوت پر ہمیشہ فخر رہے گا۔ جناب جسٹس (ر) بھگوان داس نے اجلے دامن کے ساتھ زندگی گزاری دسمبر 1942ء میں لاڑکانہ کے قریب تحصیل نصیر آباد کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔

جناب بھگوان داس کے بزرگ ہندو مذہب کے ’’پیشواؤں‘‘ میں شمار ہوتے تھے اس حوالہ سے اپنے علاقے کے مہاراج کہلاتے تھے۔ جناب بھگوان داس نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے نصیر آباد کے ہائی سکول میں حاصل کی قانون اور ایم اے اسلامک اسٹیڈیز کی ڈگری جامعہ کراچی سے حاصل کی مولوی فاضل کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا۔ ان کی زندگی پر انکے سکول کے استاد جناب برکت اللہ صدیقی (مرحوم) کا بڑا گہرا اثر تھا۔ جناب بھگوان داس نے ان سے پورا قرآن مجید باقاعدہ ترجمے کے ساتھ پڑھا تھا۔ اس کے لئے عربی زبان سیکھی۔ مولانا جان محمد عباسی (مرحوم) اور جناب بھگوان داس نے ایک ساتھ مولوی فاضل کا امتحان دیا تھا لاڑکانہ میں انکی تحریک پاکستان کے معروف سیاسی رہنما عبدالغفور بھرگری سے بڑی نیاز مندی تھی۔

مولانا جان محمد عباسی کے ساتھ تو انہوں نے مولوی فاضل کے امتحان کی تیاری کی تھی دونوں کے درمیان بے تکلفی اور احترام کا رشتہ زندگی بھر رہا 1965ء میں بار میں شامل ہو کر وکالت شروع کی 1967ء میں سول جج بنے اپنی خدا داد قابلیت اور محنت سے ترقی کر کے میرٹ پر سیشن جج بنے 1994ء میں سندھ ہائی کورٹ کے جج بنے 2000ء میں سپریم کورٹ کے جج بنے جنرل پرویز مشرف نے آزاد عدلیہ پر شب خون مارنے کے لئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو برطرف کیا تو جناب جسٹس بھگوان داس سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج تھے مگر بیرون ملک ہونے کی وجہ سے جسٹس جاوید اقبال قائم مقام چیف جسٹس ہو گئے تھے۔ جسٹس بھگوان داس وطن واپس آئے تو جسٹس جاوید اقبال کی قائم مقامی ختم ہو گئی اور جناب جسٹس بھگوان داس نے سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھایا۔ ان کے حلف اٹھاتے ہی آزاد عدلیہ پر شب خون مارنے والوں کے خواب چکنا چور ہو گئے۔ جسٹس بھگوان داس نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف کیس کی سماعت خود کرنے کے بجائے جسٹس خلیل رمدے کی سربراہی میں ایک بڑا بنچ تشکیل دیا جس بنچ نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف جنرل پرویز مشرف کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر جسٹس افتخار کو بحال کر دیا تھا۔

جناب جسٹس بھگوان داس سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین بھی رہے۔ اپنے طویل عدالتی کیریئر میں انہوں نے اپنے اجلے دامن پر کوئی داغ لگنے نہیں دیا آزاد عدلیہ کی تحریک کی کامیابی میں اس کا بڑا کلیدی کردار رہا تین نومبر 2007ء کو جنرل پرویز مشرف نے دوسری بار آئین معطل کر کے پی سی او نافذ کیا۔ تو جسٹس بھگوان داس نے بھی اس کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا جس کے بعد وہ دوسرے ججوں کے ساتھ نظر بند رہے نظر بندی ختم ہوئی تو ہر فورم پر یہ ببانگ دہل جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدام کے خلاف باوقار انداز میں ایک اعلیٰ روشن خیال پڑھے لکھے دانشور، قانون دان کے طور پر آواز بلند کی وہ ذاتی زندگی میں نہایت ملنسار شخصیت تھے۔ اخبار نویسوں کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ خوش گوار رہے کسی نامہ نگار نے جب بھی ان کو فون کر کے کسی ایشو پر انکا موقف جاننے کی کوشش کی انہوں نے کسی تامل کے بغیر اپنا موقف دے دیا۔

آزاد عدلیہ کی تحریک کے دوران ایک دن امریکہ سے فون کرکے میرے بھائیوں طرح کے دوستوں میں سے ایک عزیز ترین دوست جناب طارق مصطفی باجوہ نے کہا کہ آج میں نے جسٹس عبداللہ کا خطاب سنا مزا آ گیا۔ میں نے استفسار کیا کون جسٹس عبداللہ کہا کہ بھائی میں اپنے جسٹس بھگوان داس کو جسٹس عبداللہ کہتا ہوں میں نے فون کر کے جسٹس بھگوان داس کو طارق بھائی کا تبصرہ سنایا تو بے ساختہ کہا اس میں کیا شک ہے کہ میرے نام کا بالکل صحیح ترجمہ عبداللہ ہی ہے۔ اب اس اللہ کے بندے کا معاملہ اس قادر مطلق مالک و مختار کے سپرد ہو چکا ہے وہ اپنے جس بندے کے ساتھ جو معاملہ فرمائے۔

جناب جسٹس بھگوان داس نے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کیا ایک بار ایک محفل میں کسی نے ان سے پوچھا کیا آپ کے ساتھ بھی ہندو مذہب کے پیرو کار ہونے کی وجہ سے پاکستان میں کوئی امتیازی سلوک روا رکھا گیا؟ جواب دیا جی نہیں اللہ کا شکر ہے کہ میرٹ پر پورا اترنے کے بعد میری ترقی میں کسی نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی شاید اتنی ترقی پاکستان سے ہجرت کر جاتا تو نہ کرتا۔

واضح رہے ان کے بھائی تو پاکستان میں ہی رہے۔ مگر ان کی ایک بہن بھارت میں ہے۔ وہ ان سے ملنے کئی بار بھارت گئے۔ ان کا خاندان اپنے آبائی علاقے نصیر آباد سے منتقل ہو کر کراچی میں آباد ہے۔ اسی وجہ سے ان کی آخری رسومات کراچی میں ادا کی گئیں جس میں بہت بڑی تعداد میں ہر مکتبہ فکر اور منصب کے جاننے والوں نے شرکت کی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی حب الوطنی اور اعلیٰ انسانی اقدار پر غیرمتزلزل ایمان رکھنے والے واقعات کی مثالوں سے اپنی نئی نسل کو روشناس کرایا جائے۔ تاکہ ان قوتوں کو پسپائی ہو سکے جو پاکستان کو دنیا کے سامنے تنگ نظر انتہا پسندی کا سمبل بنانے کی دن رات تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں۔ جناب جسٹس بھگوان داس وسیع المطالعہ اعلیٰ ادبی ذوق رکھنے والے علم دوست انسان اور پکے پاکستانی تھے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -