2020ء تک سمارٹ سرنجوں کا استعمال شروع کیا جائے، عالمی ادارہ برائے صحت

2020ء تک سمارٹ سرنجوں کا استعمال شروع کیا جائے، عالمی ادارہ برائے صحت

  

  اقوام متحدہ  (اے پی پی) عالمی ادارہ برائے صحت نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ 2020ء تک موجودہ سرنجوں کا استعمال ترک کرکے سمارٹ سرنجوں کا استعمال شروع کریں ۔ یہ سرنجیں صرف ایک بار انجیکشن کے لئے استعمال ہو سکتی ہیں اور ایڈز ‘ ہیپاٹائٹس اور دیگر مختلف امراض کی منتقلی کو روکنے میں نہایت موثر ثابت ہوں گی۔ اس سرنج میں مائع دوا پر دباؤ ڈالنے والے حصے (پلنجر)کو ایک بار استعمال کے بعد واپس نہیں کھینچا جاسکتا ۔ ڈبلیو ایچ او کے ایچ آئی وی /ایڈز شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر کوٹرائیڈ ہرنشال کے مطابق اگرچہ نئی سرنجوں کے استعمال سے علاج معالجہ کے اخراجات میں اضافہ ہوگا لیکن یہ اضافہ ایڈز ‘ ہیپاٹائٹس اور دیگر امراض کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات کے مقابلہ میں کہیں کم ہوگا۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق صرف 2010 میں 17 لاکھ افراد میں ہیپاٹائٹس بی 3 لاکھ 15 ہزار میں ہیپاٹائٹس سی کا وائرس اور 33 ہزار 8 سو میں ایچ آئی وی آلودہ سرنجوں کے استعمال کے نیتجہ میں منتقل ہوا۔ صرف ایک بار استعمال کے بعد سرنج کو ناکارہ بنانے کے لئے مختلف تکنیکیں استعمال کی گئی ہیں جن میں سے ایک کے مطابق سرنج کا پلنجر انجیکشن کے بعد واپس کھینچنے کی صورت میں ٹوٹ جائے گا دوسری صورت میں ایک دھاتی کلپ اس کو واپس کھینچنے سے روک دے گا اور تیسری تیکنیک کے مطابق پلنجر کو واپس کھینچنے کی صورت میں سرنج کی سوئی والا حصہ ٹوٹ کر بیرل میں آجائے گا۔

مزید :

عالمی منظر -