سانحہ کنن پوشہ پورہ : حریت پسند جماعتوں کامتاثرہ خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی

سانحہ کنن پوشہ پورہ : حریت پسند جماعتوں کامتاثرہ خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی

  

 سرینگر(کے پی آئی)کنن پوشہ پورہ اجتماعی عصمت دری واقعہ پر انجمن شرعی شعیان، ماس مومنٹ، مسلم خواتین مرکز، سالویشن مومنٹ ، ڈیموکریٹک پولٹیکل مومنٹ اور جموں و کشمیر فریڈم لیگ نے متاثرہ خواتین کے ساتھ اپنی دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر پر قابض رہنے کے لئے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنے کے علاوہ فورسز نے جنسی زیادتیوں کا شکار بناکر ہزاروں خواتین کی عزت کو پامال کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی و خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لئے کام کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کی مظلوم خواتین کو انصاف فراہم کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو بروئے کار لائیں۔انجمن شرعی شیعان نے کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری سانحہ کی برسی پرکہا ہے کہ صنف نازک کی سلامتی اور جملہ حقوق کی حفاظت حکومتوں کا فرض منصبی ہے۔انجمن کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خواتین کی عزت و عصمت کی حفاظت زندہ اور باضمیر قوموں کا طرہ امتیاز ہے لیکن بھارتی تسلط کے سائے میں کشمیریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کی کوئی ضمانت نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کشمیریوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ 1947سے ہی کشمیری خواتین کی عصمت ریزی کوبطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے ۔ آغا حسن نے کنن پوش پورہ سمیت گذشتہ 24سال کے دوران ریاست میں فورسز کے ہاتھوں رونما ہوچکے تمام عصمت دری کے سانحات کے ملوثین کو قانون کے شکنجے میں لانے کا پرزور مطالبہ دہرایا۔انہوں نے کہا کہ ایسے انسانیت سوز سانحات کا شکار کشمیری ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں۔ ماس موومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن جی نے متاثرہ خواتین کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی فورسز کی ظالمانہ کاروائیوں کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز نے ریاست جموں کشمیر پر قابض رہنے کے لئے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنے کے علاوہ جنسی زیادتیوں کا شکار بناکر ہزاروں خواتین کی عزت کو پامال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہنیں احترام کے قابل ہیں جن سے جنگی ہتھیار کے طور ان کی عصمتیں چھین لی گئیں۔انہو ں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو ان سنگین واردات میں ملوث اہلکاروں کو سزا دلانے اور کشمیر ی خواتین کو انصاف فراہم کرنے کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہئے۔ مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ نے برسی پر غمزدہ اور متاثرہ خواتین کے ساتھ اپنی دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کنن پوشہ پورہ میں دس برس سے لیکر ستر سالہ بزرگ خاتون تک کی درجنوں خواتین کی دامانِ عزت و عصمت کو تار تار کرکے پیوندِ خاک بنا دیا اور جموں کشمیر کے لاکھوں لوگوں پر تاریخ انسانی کی سب سے بڑی اور ہلاکت خیز قیامت توڑ دی۔ انہو ں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جموں کشمیر میں ہزاروں خواتین کی عزت و عصمت کی پامالی کے کسی بھی مجرم کو آج تک سزا نہ دی گی۔انہو ں نے اقوام متحدہ اور انسانی اور خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لئے کام کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کی مظلوم خواتین کو انصاف فراہم کرنے کے لئے ملوث بھارتی فورسز کو سزا دلانے کے لئے اپنی کوششوں کو بروئے کار لائیں۔ سالویشن مومنٹ نے کہا ہے کہ سانحہ کنن پوشپورہ کی برسی پرایک بیان میں بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ممبر ان نے کہا کہ عالمی برادری کے سامنے جو ملک اپنے آپ کو جمہوریت اور انصاف کا علمبردار پیش کر رہا ہے وہ سالہا سال گذرنے کے باوجود بھی ملوث فوجی اہلکاروں کو سزا دینے میں ناکام ہے۔تنظیم نے حادثے کی تحقیقات عالمی برادری کے کسی آزاد ادارے سے کرانے کی مانگ کی ۔ سالویشن مومنٹ کے شعبہ خواتین کی سیکریٹری نے کہا کہ کشمیر کی صنف نازک نے تحریک کشمیر میں ایک اہم رول ادا کیا اور بھارتی فوج کی زیادتیوں کو برداشت کرکے ثابت کیا کہ جبری قبضے کی زنجیروں کو توڑنے میں کشمیریوں کی مائیں اور بہنیں اہم رول ادا کرسکتی ہیں بلکہ کر بھی رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے جنسی زیادتیوں کو کشمیر میں جنگی حربے کے بطور استعمال کیا جس کو عالمی برادری نے جنگی جرم کے بطور تسلیم کیا ہے ۔ڈیموکریٹک پولٹیکل مومنٹ نے کشمیری خواتین کے عزم، حوصلے اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود اس واقعہ کے اصل مجرمین کو آج تک عدالت کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا اور یہ مجرمین آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ موصولہ بیان میں پارٹی کے جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی نے مقامی انسانی حقوق اداروں کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ ان جیسے سانحات کے بارے میں کام کریں تاکہ کنن پوشہ پورہ سے شوپیان تک ہماری بہنوں کو انصاف فراہم کرنے کی راہ ہموار ہو اور ا4160ہیں اس بات کا بھی احساس ہو کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔جموں کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے ترجمان امتیاز احمد شاہ نے بیان میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کنن پوشہ میں درجنوں خواتین کی عزت و عصمت کو پامال کرنے والے ملوث فورسز اہلکاروں کو آج تک کوئی سز ا نہ دی گئی۔انہوں نے کہا کہ سانحہ کنن پوشہ پورہ تاریخ انسانی کا بدترین واقعہ ہے جب فورسز نے جنسی زیادتیوں کا شکار بنا کردرجنوں مظلوم خواتین کی عصمت ریزی کی۔انہوں نے کہا ہے کہ سانحہ کنن پوشہ پورہ اور دیگر عصمت دری کے واقعات میں ملوث کسی بھی اہلکار کو سزا نہ دی گئی بلکہ محض تحقیقات کا اعلان کرکے ملوث اہلکاروں کو تحفظ فراہم کیا گیا ۔ترجمان نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر میں ہزاروں خواتین کی عزت و عصمت ریزی ،قتل و غارت گری لوٹ ماراور انسانی حقوق کی سنگین ورزیوں میں ملوث فورسز اہلکاروں کو سزا دینے کے لئے خصوصی ٹربیونل قائم کیا جائے۔

مزید :

عالمی منظر -