عدالت نے حکومت کوکنن پوشہ پورہ کے متاثرین کو معاوضہ دینے کیلئے9مارچ تک کی مہلت دیدی

عدالت نے حکومت کوکنن پوشہ پورہ کے متاثرین کو معاوضہ دینے کیلئے9مارچ تک کی ...

  

 سرینگر(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر کی عدالت عالیہ نے کنن پوشہ پورہ کے متاثرین کو معاوضہ دینے کیلئے حکومت کو9مارچ تک کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت دی کہ سابقہ عدالتی احکامات کی من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔اس سانحہ کی تحقیقات سے متعلق سنگل بنچ کے امتناع کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو چیف جسٹس کے سامنے پیش کرنے کا آپشن فراہم کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے کہاکہ مفاد عامہ عرضی میں دوسری عرضی شامل کرنے کے حوالے سے ریاستی چیف جسٹس ہی فیصلہ لے سکتے ہیں ۔گذشتہ روز جسٹس مظفر حسین عطار اور جسٹس علی محمد ماگرے پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے کنن پوشہ پورہ کیس کی سماعت ہوئی ۔اس موقعے پر متاثرہ خواتین کی جانب سے کیس کی پیروی کررہے معروف وکیل ایڈوکیٹ پرویز امروز نے ڈویژن بنچ کے سامنے ایک عرضی پیش کی جس میں گذشتہ ایام میں فوج کی جانب سے سنگل بنچ کے ذریعے تحقیقاتی عمل پر حکم امتناع حاصل کرنے کے خلاف دلائل پیش کئے گئے اور سنگل بنچ میں دائر عرضی کو بھی مفاد عامہ کے تحت سماعت کرنے کی درخواست پیش کی ۔ انہوں نے ڈویژن بنچ کو بتایا کہ سرکار متاثرہ خواتین کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے لیت ولعل کی پالیسی اپنا رہی ہے لہذا اس معاملے میں سخت اقدامات کئے جائیں تاکہ کنن پوشہ پورہ کی متاثرہ خواتین کو انصاف مل سکے۔عدالت عالیہ نے دونوں طرف کے دلائل سماعت کرنے کے بعد سرکار کو حکم دیا کہ سابقہ احکامات کی رو سے متاثرہ خواتین میں معاوضے کی رقم 9فروری تک ادا کی جائے اور اس حوالے سے موثراقدامات کئے جائیں ۔ڈویژن بنچ نے سنگل بنچ میں جاری امتناع عرضی کو مفاد عامہ کے تحت جاری جاری سماعت میں شامل کرنے کے حوالے سے کہاکہ کسی دوسرے بنچ میں جاری عرضی کویہاں شامل کرنے کیلئے ریاستی چیف جسٹس کی اجازت ضروری ہے ۔لہذا عرضی گذاروں کو یہ حق ہے کہ وہ اس حوالے سے چیف جسٹس سے رجوع کریں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ 23فروری 1990کو ہی کنن پوشہ پورہ نامی دیہات میں اجتماعی عصمت ریزی کا سانحہ پیش آیا تھا ۔

مزید :

عالمی منظر -