پیداواری لاگت سے بھی کم پرفروخت سے پولٹری انڈسٹری بندہوجائیگی

پیداواری لاگت سے بھی کم پرفروخت سے پولٹری انڈسٹری بندہوجائیگی

  

 لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سینئر رہنما عبدالباسط نے کہا ہے کہ مرغی کے گوشت کی پیداواری لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت پولٹری انڈسٹری دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ گزشتہ ایک برس سے زائد عرصہ سے صنعت یومیہ بنیادوں پر کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کر رہی ہے، ان حالات میں فارمر کیلئے سبسڈی کا اہتمام نہ کیا گیا تو انڈسٹری بندی ہو جائے گی اور پیداوار متاثر ہونے سے بڑے پیمانے پر گوشت کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔گزشتہ روز ’’پاکستان‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولٹری انڈسٹری روزانہ 30 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کر رہی ہے حکومت سستی پروٹین مہیا کرنے والی صنعت کو بچانے کی فکر کرے اور 55روپے کلو کے حساب سے زندہ مرغی پر پولٹری فارمرز کو فوری طور سبسڈی کا اہتمام کرے۔ انہوں نے بتایا کہ پولٹری فارموں پر روزانہ 60لاکھ کلو زندہ مرغی تیار ہو رہی ہے جس کی قیمت فارم پر 135روپے کلو آتی ہے لیکن مارکیٹ میں 85 روپے کو فروخت کی جا رہی ہے ۔اس طرح ایک کلو زندہ مرغی پر پولٹری فارمر ز کو پچاس روپے فی کلو کے حساب سے روزانہ 30کروڑ روپے نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت نے اگر ہنگامی طور پر فارمرز کو 55روپے فی کلو سبسڈی نہ دی تو پولٹری فارم بند ہو جائیں گے ۔ عبدالباسط نے کہا کہ اس قدر زیادہ نقصان برداشت کرنا فارمرز کے بس کی بات نہیں رہی اس لیے حکومت زندہ مرغی پر سبسڈی دینے کا بندو بست کرے بصورت دیگر اگر ہزاروں پولٹری فارم بند ہو گئے تو اس انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں افراد بے روزگار اور عوام سستی پروٹین سے محروم ہو جائیں گے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین نے مزید بتایا ہے کہ چوزہ پولٹری فارم پر 40روپے میں تیار ہو رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں صرف 6 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اس لیے ہنگامی طور پر فارمرز کو 55 روپے فی کلو کے حساب سے سبسڈی فراہم کرے ۔

مزید :

کامرس -