تھر کول فیلڈ بڑے پیمانے پر کول مائننگ کیلئے 5 ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو لیز پر فراہم

تھر کول فیلڈ بڑے پیمانے پر کول مائننگ کیلئے 5 ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو ...

  

 کراچی (اکنامک رپورٹر ) سندھ کے وزیر خزانہ و توانائی سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے تھرکول فیلڈ میں بڑے پیمانے پر کول مائننگ کے لیے 5ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو لیز دے دی ہے ۔سندھ میں پانچ جگہوں پر 20، 20 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹس کے لیے مختلف کمپنیوں کو کنٹریکٹ بھی دے دیئے گئے ہیں ۔ یہ باتیں انہوں نے منگل کو سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان کے تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب میں بتائیں ۔ انہوں نے کہا کہ تھر کول کے بلاک نمبر 1کی لیز سندھ سینو ریسورسز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کودی گئی ہے ۔یہ بلاک 122مربع کلومیٹر ہے ۔مذکورہ کمپنی 900میگاواٹ پاور پلانٹ قائم کرنے کی منصوبہ بندی ہے ۔99.5مربع کلومیٹر کے بلاک 2کی لیز سندھ اینگرو مائننگ کمپنی کو دی گئی ہے ۔یہ کمپنی 600میگاواٹ کا پلانٹ لگانا چاہتی ہے ۔66.159مربع کلومیٹر کے بلاک 6کی لیز سندھ کاربن انرجی پرائیوٹ لمیٹڈ کو دی گئی ہے ۔یہ کمپنی 300میگاواٹ کا پاور پلانٹ لگانا چاہتی ہے ۔مزید دو بلاکس کی لیز بھی دے دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پنجاب میں کو پاور پلانٹس لگانے کا منصوبہ بنایا تھا ۔یہ ناقابل عمل منصوبہ تھا کیونکہ پنجاب میں کوئلہ نہیں ہے ۔تھر سے کوئلہ پنجاب لے جانا آسان نہیں ۔پھر وفاقی حکومت نے گڈانی میں کول پاور پلانٹس لگانے کا منصوبہ بنایا ۔اس منصوبے پر سندھ کو شدید تحفظات تھے کیونکہ گڈانی کراچی سے صرف 20کلومیٹرز کے فاصلے پر ہے ۔کراچی پر ماحولیاتی اثرات مرتب ہوسکتے تھے ۔یہ منصوبہ بھی ختم ہوگیا ۔پاکستان کا مستقبل تھر کول سے وابستہ ہے ۔ہم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کے مطابق کیٹی بندر میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر قائم کرنے کے لیے کام کررہے ہیں ۔   انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کو کط لکھا ہے کہ لاکھڑا کول پاور پلانٹ سندھ کے حوالے کیا جائے کیونکہ پاور پلانٹ کے لیے جو کوئلہ استعمال کیا جارہا ہے وہ سندھ حکومت کی ملکیت ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیر خزانہ اور توانائی سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ 2008سے 2012تک سندھ کے 3736دیہات کو بجلی فراہم کی جاچکی ہے ۔مزید 552دیہات کو بجلی کی فراہمی کے لیے سندھ حکومت نے فنڈز مہیا کردیئے ہیں ۔اس سال کے آخر تک ان دیہات کو بھی بجلی فراہم ہوجائے گی ۔حیسکو اور سیسکو کی طرف سے کام کی رفتار سست ہے ۔یہ وفاقی حکومت کے ادارے ہیں ۔ہم وفاقی حکومت سے بات کریں گے کہ جن کاموں کے لیے سندھ حکومت پیسے دے چکی ہے ،وہ کام مکمل کیے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ گیس کمپنیاں مقامی لوگوں کو نوکریاں نہیں دیتی ہیں ۔اس حوالے سے بھی وفاقی حکومت سے بات کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبے میں 5جگہوں پر 20,20میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کی تنصیب کے کنٹریکٹ دے دیئے ہیں ۔

مزید :

کامرس -