اساتذہ کو بدنام کرنے والے عناصر بے نقاب ہو چکے ہیں،سجاد کاظمی

اساتذہ کو بدنام کرنے والے عناصر بے نقاب ہو چکے ہیں،سجاد کاظمی

  

 لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر سید سجاد اکبر کاظمی، امتیاز احمد عباسی ، چوہدری محمد سرفراز، رانا لیاقت علی، جام صادق، امتیاز طاہر، ملک سجاد اختر اعوان، عبدالقیوم راہی، رانا انوار اور رحمت اللہ قریشی و دیگرنے کہا ہے کہ پنجاب ایگزامنیشن کمیشن کی نااہلی سب پر عیاں ہو چکی ہے۔ اساتذہ کو بدنام کرنے کے لئے منفی ہتھکنڈے استعمال کرنے والے عناصر بے نقاب ہو چکے ہیں۔ پنجاب ایگزامنیشن کمیشن کے تحت سائنس اور ریاضی کے پرچے بھی بدنظمی کا شکار رہے ہیں۔ کہیں پرچے کم تھے اور ریاضی کی جگہ پر بعض اضلاع میں سائنس کے پرچے پیک کئے گئے تھے۔ اور بعض سنٹروں میں معروضی کے پیکٹ میں انشائیہ پرچے بھی نکلے ہیں پنجاب ایگزامنیشن کمیشن مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ لیکن اسے زبردستی کامیاب بنانے کے لئے سالانہ کڑوڑوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ پوری دنیا میں کہیں بھی اس طرح امتحان نہیں لیا جاتا      جس طرح پنجاب ایگزامنیشن کمیشن لے رہا ہے۔ پچھلے سال بھی پنجاب ایگزامنیشن کمیشن کے تما پرچے آؤٹ ہوتے تھے اور اس مرتبہ بھی پنجا ب ایگزامنیشن کمیشن کی وجہ سے تقریباً 12 لاکھ بچے کنفوژن کا شکار ہوئے ہیں۔ پرچوں کا پیٹرن اسقدر مشکل بنایا گیا کہ بچے پرچہ حل نہیں کر سکے بلکہ پرچہ میٹرک یا ایف ایس سی پاس بچہ بھی حل نہیں کر سکتا۔ اور اس پیٹرن سے نہ تو اساتذہ کو آگاہ کیا گیا اور نہ ہی DTE\'s حضرات نے اس طرز پر سکولوں میں بچوں سے ٹیسٹ لئے جبکہ سکولوں میں 6 مختلف پرچوں پر مشتمل امتحان لینا ممکن نہیں۔ حالانکہ 9th اور 10th میں بور ڈز بھی اس طرز پر امتحان نہیں لیتے وہاں پر بھی سوالات ایک جسے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی ترتیب بدل دی جاتی ہے۔ پنجاب ایگزامنیشن کمیشن کی اتنظامیہ صرف اور صرف پرائمری و ایلیمنٹری اساتذہ اور ہیڈ ٹیچرز کو بدنا م کرنے کے لئے سازش کرر ہی ہے اوار ایک مخصوص فرم کو پرچوں کی پرنٹنگ کی ذمہ داری سونپنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ پنجاب ایگزامنیشن کمیشن کے موجودہ امتحان کی وجہ سے لاکھوں بچے فیل ہو جائیں گے جو کہ سکول چھوڑنے پر مجبور ہونگے۔رہنماؤں نے وزیر اعلی پنجاب ، صوبائی وزیر تعلیم پنجاب اور سیکرٹری سکولز پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب ایگزامنیشن کمیشن کی نااہلی کا نوٹس لیں اور ذمہ داران کے خلاف فی الفور کاروائی کی جائے۔ اور محکمہ تعلیم میں کچھ عناصر اساتذہ میں خوف و ہراس پیدا کرکے حکومت کے خلاف احتجاج کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ہم گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل کہہ رہے ہیں کے تعلیمی اصلاحات کرتے وقت اساتذہ تنظیموں سے مشاورت کی جائے تاکہ مثبت نتائج پرآمد ہوں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -