سرکاری ملازمین کا پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا،ایوان وزیراعلٰی کے گھیراؤ کا اعلان

سرکاری ملازمین کا پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا،ایوان وزیراعلٰی کے گھیراؤ کا ...

  

 لاہور( خبرنگار) پنجاب بھر کے سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا اس موقع پر ملازمین کے احتجاجی دھرنے کے باعث مال روڈ، شاہراہ فاطمہ جناح، کوئینز روڈ، شاہراہ قائد اعظم اور ارد گرد شاہراؤں اور سڑکوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا۔ احتجاجی مظاہرہ سے قبل سرکاری ملازمین نے لاہور میں واقع تمام صوبائی محکموں میں دفاتر کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا اور ملازمین کی محکمہ صحت کے دفتر واقع کوپر روڈ، محکمہ زراعت کے دفتر واقع ڈیوس روڈ اور اے جی آفس سمیت ساندہ سے احتجاجی ریلیاں نکالیں، جواسمبلی ہال کے چوک میں پہنچیں اور اسمبلی ہال چوک میں ملازمین نے مسلسل چار گھنٹے تک احتجاجی دھرنا دیا۔ اس موقع پر ملازمین نے مختلف بینرز اور کتبے اٹھا رکھے اور مظاہرہ کے دوران ملازمین پنجاب اسمبلی کے سامنے لیٹ کر احتجاج کرتے رہے جبکہ احتجاج کے دوران ملازمین اپنے مطالبات کے حق میں سینہ کوبی کرتے رہے۔ اس موقع پر وزیر قانون میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ملازمین کے وفد کو اسمبلی چیمبر میں طلب کر کے مذاکرات کیے جس میں ایپکا کے رہنماؤں حاجی محمد ارشاد ، یونس بھٹی ، لالہ محمد اسلم، میاں ریاض الدین، راشد خان، میاں غلام مصطفیٰ اور ارشد باجوہ نے مذاکرات میں حصہ لیا۔ بعد ازاں وزیر قانون میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ملازمین کے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات حل کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے سیکرٹری فنانس اور اپیکا کے رہنماؤں کو آج طلب کیا گیا ہے اور اس کے بعد وزیر اعلیٰ سے ملازمین کے مطالبات منظور کروانے کے لئے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا جس پر ملازمین نے احتجاجی دھرنا ختم کردیا۔ تاہم اس موقع پر اپیکا کے صوبائی صدر حاجی محمد ارشاد نے کہا کہ حکومت نے ملازمین کے مطالبات منظور نہ کیے تو 5 مارچ کو پنجاب بھر کے ملازمین ایوان وزیر اعلیٰ کا گھیراؤ کریں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -