امریکہ اور اتحادیوں کا اہم فوجی مشن موصل شہر سے داعش کا قبضہ ختم کرنے پر مرکوز

امریکہ اور اتحادیوں کا اہم فوجی مشن موصل شہر سے داعش کا قبضہ ختم کرنے پر مرکوز

  

 واشنگٹن(تجزیاتی رپورٹ،اظہرزمان)ایک بات طے ہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی اورمشرق وسطیٰ کے اتحادی القاعدہ کی قوت کو خاصی حدتک کم کرنے کے بعد اس کی ایک باغی شاخ نام نہاد ’’اسلامی مملکت‘‘یا داعش کو ہر محاذ پر شکست دینے کے لئے پوری سنجیدگی کے ساتھ سرگرم ہو چکے ہیں۔امریکہ پینٹا گون کے ذریعے عراق اور شام میں داعش کے خاتمے کے لئے جو بالواسطہ اوربلا واسطہ کوششیں کر رہا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ عراق اور اتحادیوں کا اگلا اہم فوجی مشن موصل پر داعش کا قبضہ ختم کرکے اسے واپس لینا ہے۔ بغداد کے بعد عراق کے اس دوسرے بڑے شہر موصل کی اہمیت کا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پینٹا گون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے واپس لینے کے لئے اتحادی طیاروں کی بمباری کی مدد سے اگر عراقی فوجیں آگے نہ بڑھ سکیں توپھرامریکی فوج دوبارہ عراق کی سر زمین پر اتر کر اس جنگ میں براہ راست شریک ہو سکتی ہے۔ شام اور عراق کے قریب سمندرمیں موجود امریکی سنٹرل کمانڈرکے ذرائع کی اطلاع کے مطابق اپریل یا مئی میں موصل پر بھرپور حملے کے لئے 20ہزار عراقی فوج تیار کی جا رہی ہے۔ اس وقت اگر عراقی فوج مناسب پیش قدمی نہ کر سکی تو پھر ایسی صورت میں اتنی ہی تعداد میں امریکی فوج بحری جہازوں کے ذریعے عراقی سر زمین پر اتر کر جنگ میں شریک ہو سکتی ہے۔امید ہے کہ اس وقت تک اوبامہ انتظامیہ کو کانگریس داعش کے خلاف فوج کے استعمال کا باقاعدہ اختیار دے دے گی۔داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کچھ پیچیدگیوں کا بھی سامنا ہے۔عراق سے امریکی انخلاء کے بعد امریکہ اور اتحادیوں کا شام کے صدر بشار الاسدکے ساتھ محاذ کھل گیا جہاں اس کی آمرانہ حکومت کے خلاف مزاحمت جاری تھی۔ اقوام متحدہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کی تحقیقات میں مصروف تھی اور ایک وقت امریکہ کے بحری جہازوں سے شام پر گولہ باری کی تیاری ہو چکی تھی لیکن اس کی نوبت نہیں آئی۔داعش کے ابھرنے سے قبل امریکہ شام کی اعتدال پسندمخالف جماعتوں کی آمرانہ حکومت کے خلاف فوجی اور سیاسی جدوجہد میں مدد دے رہا تھا۔تب داعش کا معاملہ واضح نہیں تھا ۔لگتا ہے داعش نے اس دورمیں اگر امریکہ سے براہ راست حاصل نہیں کیا تو اس نے دوسری اپوزیشن تحریکوں سے لڑ کر وہ اسلحہ ضرور حاصل کیا اور پھر اچانک القاعدہ کی اس باغی شاخ نے اپنی خوف ناک دہشت گردی کا آغاز کر دیا ۔امریکی وزارت دفاع کے نئے سربراہ ایشٹن کارٹرنے افغانستان کا پہلا دورہ مکمل کرنے کے بعد کویت میں خطے کوامریکی سفیروں اور فوجی کمانڈروں کے ایک اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ داعش کو مکمل شکست دینے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے خلاف فوجی کے ساتھ ساتھ سفارتی جدوجہد بھی کی جائے۔امریکی وزیردفاع کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ امریکہ داعش کے مقابلے کے لئے ایک ہمہ صورت سٹریٹجی تشکیل دے رہا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ داعش کا خطرہ بہت سنجیدہ اور پیچیدہ نوعیت کا ہے اس لئے اس کے خاتمے کے لئے ماہرانہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورتحال اتنی مایوس کن نہیں ہے اور داعش کے خلاف اس وقت جو کارروائیاں ہو رہی ہیں اس کا یقیناًاثر پڑ رہا ہے۔امریکی آرمی جنرل مارٹن ڈیمپسی نے آسٹریلیا میں ایک میڈیا راؤنڈ ٹیبل میں شرکت کے دوران بھی حوصلہ افزاء باتیں کی ہیں۔ انہوں نے بھی یہ کہا ہے کہ اتحادیوں کی کارروائی کے نتیجے میں داعش مشکلات سے دوچار ہو چکی ہے۔ جنرل ڈیمپسی نے بھی داعش کی پالیسی کا ذکرکرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد شام اور عراق میں اپنی مرضی کی حکومت بنانے کے بعد اس کا دائرہ دوسرے ممالک تک بڑھانا ہے اور وہ اپنی حمایت کے لئے مسلسل پراپیگنڈاکرنے میں مصروف ہے۔امریکی حکام اور جنرل داعش کے خطرے کویقیناًبہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لئے آخری حد تک جا سکتے ہیں چاہے اس کے لئے انہیں دوبارہ عراق میں فوجیں اتارنی نہ پڑیں۔

مزید :

علاقائی -