سیاسی جماعتوں کو جمہوری بنائیں

سیاسی جماعتوں کو جمہوری بنائیں
سیاسی جماعتوں کو جمہوری بنائیں

  

 سینٹ الیکشن کے حوالے سے ایک شور مچا ہوا ہے۔ حکومت ایک آئینی ترمیم لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ کہ ہارس ٹریڈنگ کو روکا جا سکے۔ ایک کالم نویس نے ہارس ٹریڈنگ کو مویشی منڈی لکھا ہے۔ دوسرے نے اسے monkey منڈی قرار دیا ہے۔ کچھ لوگ اسے بے غیرتی کہہ رہے ہیں۔ یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ اگر کوئی ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے سینٹ میں آیا تو اس کا محاسبہ کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ارکان اسمبلی اپنی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے پابند ہیں۔ ہر گز نہیں ۔ آئین پاکستان انہیں ا پنی مرضی کے امیدوار کو ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن پارٹی قیادت ایسا نہیں چاہتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ساری اخلاقیات ارکان اسمبلی کے لئے ہیں۔ ہم نے پہلے ہی انہیں پارٹی قیادت کا غلام بنا دیا ہوا ہے۔ جو لوگ آج ارکان اسمبلی پر تنقید کر رہے ہیں۔ وہ یہ کیوں نہیں کہہ رہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ذاتی ملکیتیں ہیں۔ یہ پرائیوٹ انٹر پرائزز ہیں۔ ان کے اندر بادشاہت نہیں بلکہ آمریت قائم ہے۔ سیاسی جماعتوں میں فیصلے جمہوریت یا اکثریت رائے پر نہیں بلکہ جماعت کے سربراہ کی ذاتی پسند و نا پسند پر ہوتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں میں بادشاہت ہی نہیں بلکہ مکمل آمریت ہے۔ سیاسی جماعتوں میں اپنے لیڈر کے خلاف لب کشائی کی سزا سیاسی موت ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت ارکان اسمبلی کو اپنا ذاتی غلام سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی۔ ان کو تو سیاسی جماعتوں میں وہ حقوق بھی حاصل نہیں جو ایک مزدور کو اپنی فیکٹری میں حاصل ہوتے ہیں۔ وہاں بھی مالک کو مزدور کو نوکری سے نکالنے سے پہلے شو کاز اور وجہ بتانی پڑتی ہے جسے بعد میں عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی قیادت جب اپنی پارٹی کے لوگوں کو پارٹی سے نکالتی ہے تو شو کاز دینا بھی مناسب نہیں سمجھتی۔ اور نہ ہی اس فیصلہ کو پاکستان کی کسی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان میں الیکشن میں ٹکٹیں تقسیم کرنے کا کوئی قانون نہیں ۔ سب سیاسی قیادت کی ذاتی پسند و نا پسند کا معاملہ ہے۔ کیا جس حلقہ میں ٹکٹ دیا جا تا ہے وہاں کے کارکنان سے پوچھا جا تا ہے کہ آپ اپنے حلقہ سے کس کو پارٹی ٹکٹ کے لئے موزوں سمجھتے ہیں۔ سب فیصلے ڈارئنگ رومز میں کئے جاتے ہیں ۔ اور ان پر جمہوریت کی مہریں لگ جاتی ہیں۔ آج ارکان اسمبلی پر لعنت و ملامت کرنے والے تجزیہ نگار کیا اتنی ہی لعنت و ملامت پارٹی قیادت کو کر سکتے ہیں کہ انہوں نے ٹکٹ میرٹ سے ہٹ کر جاری کئے۔کیا سیاسی جماعتوں کی قیادت پیسہ لیکر ٹکٹ نہیں جاری کرتی۔ پاکستان کا الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں میں جمہوریت لانے میں مکمل طور پر نا کام ہوا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت ایسی قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ ہے جس سے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت آجائے۔ جماعت اسلامی کے سواکسی بھی سیاسی جماعت میں کوئی فیصلہ ساز ادارہ نہیں ہے۔ جن جماعتوں میں یہ ادارے موجود ہیں وہ بھی نام کے ہیں پارٹی قیادت ان اداروں میں اپنی رائے کے خلاف آواز سننے کے لئے تیار نہیں۔ پیپلز پارٹی میں سنٹر ل ایگزیکٹو موجود ہے ۔ لیکن اس کا اجلاس سال میں دو یا تین مرتبہ سے زیادہ نہیں ہو تا۔ اور اس میں بھی پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد کے اظہار کے سواکوئی کارروائی نہیں ہوتی۔سارا سال پارٹی قیادت اپنی مرضی سے فیصلے کرتی ہے۔جو اختلاف کرے اسے مشاورتی اجلاسوں میں بلانا بند کر دیا جا تاہے۔ جیسا کہ مخدوم امین فہیم سینٹ کی ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت بیمار ہو گئے۔ اسی طرح تحریک انصاف میں بھی کور کمیٹی ہے۔ لیکن مزے کی بات ہے کہ یہ کور کمیٹی ایک غیر منتخب ادارہ ہے۔ جہاں چیئر مین اپنی مرضی سے جس کو چاہے کور کمیٹی کا ممبر نامزد کر سکتا ہے۔ اور جس کو چاہے کور کمیٹی سے نکال سکتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب کی گورنری سے استعفیٰ دینے والے چودھری سرور جو تحریک انصاف کے صدر تو نہ بن سکے۔لیکن پہلے ہی دن کور کمیٹی کے ممبر بن گئے۔ وہ کہتے ہیں صدر منتخب عہدہ ہے لیکن کور کمیٹی کا ممبر بننے کے لئے صرف چیئر مین کا منظورنظر ہو نا کافی ہے۔ ویسے ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر تحریک انصاف کا صدرمنتخب ہو تا ہے تو عمران خان نے کنٹینر پر ایک اعلان سے جاوید ہاشمی کو کیسے ہٹا دیا۔ تب تو کسی کو سیاسی اخلاقیات نظر نہیں آئی۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی بھی کسی طرح منتخب نہیں ۔ قائد ایم کیو ایم کا جب دل چاہتا ہے جس کو مرضی معطل کر دیتے ہیں۔ رابطہ کمیٹی بھی ایک ربڑ سٹیمپ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ نبیل گبول نے گزشتہ روز ہی قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ خود کو ایم کیوء ایم میں مس فٹ محسوس کر رہے تھے۔ شائد ان کا دم گھٹ رہا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں بھی مرکزی مجلس عاملہ تو موجود ہے۔ لیکن اس کا اجلاس بھی سال میں ایک دو دفعہ سے زیادہ نہیں ہو تا۔ اور تب بھی کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں ہو تی۔ سارا سال میاں نواز شریف خود ہی فیصلے کرتے ہیں۔ مشاورتی اجلاسوں میں بھی انہی کو بلا یا جا تا ہے جو پسند ہوتے ہیں۔ اے این پی میں جمہوریت کا یہ عالم ہے کہ کہ خان ولی خان کی بیگم کے لئے اب اس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ بیگم نسیم ولی خان اس عمر میں سیاسی طور پر دھکے کھا رہی ہیں۔ بے شک ارکان اسمبلی کو سینٹ انتخابات میں پیسہ لیکر ووٹ نہیں بیچنا چاہئے۔ لیکن اکیلے اس کا راستہ روکنے سے پاکستان میں جمہوریت نہیں آئے گی اور نہ ہی مضبوط ہوگی۔ بلکہ اس سے سیاسی جماعتوں میں موجود آمریت مزید مضبوط ہو گی۔ ارکان اسمبلی مزید دم گھٹ کر مریں گے۔ ان کے لئے سانس لینا مزید مشکل ہو جائے گی۔ ان کی غلامی کے درجہ میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔اگر سیاسی جماعتوں کی قیادت پیسہ لیکر ٹکٹ دے سکتی ہے اور یہ جائز ہے تو پھر ارکان اسمبلی اگر پیسہ لیکر ووٹ دے دیں تو یہ نا جائز کیسے ہے۔ لیکن یہ ارکان اسمبلی اس قدر مجبور اور لا چار ہیں کہ انہیں جتنی مرضی گا لیاں دی جائیں یہ آگے سے بولنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ ٹکٹ جو لینا ہو تا ہے۔ او روہ پسند و نا پسند پر ملتا ہے۔ اس لئے جو لوگ ارکان اسمبلی کو کسی نئی آئینی ترمیم سے مزید باندھنے کے حق میں ہیں انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ اس سے جمہوریت کو نقصان ہو گا۔ پہلے یہ فیصلہ کریں کہ سیاسی قیادت کے فیصلوں کو جمہوری کیسے بنا یا جائے پھر ایسی ترامیم کا فائدہ ہے۔ اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے سب چوہے مل کر سوچیں کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔کیونکہ بلی ان کو گھنٹی باندھنے سے پہلے ہی کھاجاتی ہے۔یہی پاکستانی سیاست اور جمہوریت کی حقیقت ہے۔

مزید :

کالم -