سینیٹ امیدواروں کے گوشواروں کی تفصیلات ایف بی آر کو نہ بھیجی گئیں

سینیٹ امیدواروں کے گوشواروں کی تفصیلات ایف بی آر کو نہ بھیجی گئیں

  

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) سینٹ کے انتخابات میں الیکشن کمیشن کی سکروٹنی محض رسمی نکلی۔ کسی بھی امیدوار کے گوشواروں کی تفصیلات ایف بی آر کو نہ بھیجی گئیں۔ چیلنج کئے جانے پر امیدواروں کی بڑی تعداد الیکشن کے بعد بھی نااہلی کی زد میں آسکتی ہے۔کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اثاثوں اور ایف بی آر کے گوشواروں میں مطابقت نہ ہونے پر کوئی بھی امیدوار کامیابی کے بعد بھی نااہل قرار پاسکتا ہے۔لیکن سردست الیکشن کمیشن کے پاس اثاثہ جات کے گوشواروں کی چھان بین کا اختیار نہیں ہے۔معلو م ہوا ہے کہ ملک میں سینٹ کے 54نئے امیدواروں کے چناؤ کے لیے پانچ مارچ کو پولنگ ہورہی ہے۔ اس ضمن میں 144امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کاعمل مکمل ہونے کے بعد اپیلوں کا مرحلہ جاری ہے۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ سکروٹنی محض رسمی رہی۔ اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن کی طرف سے کسی قسم کا تردد نہیں کیا گیااور کئی امیدواروں کی طرف سے جمع کروائے جانے والے اثاثہ جات اور ان کے ایف بی آر کے روبرو جمع کرائے جانے والے گوشواروں کی تفصیلات میں فرق موجود ہے لیکن الیکشن کمیشن نے امیدواروں کی فیملی ٹری پر مشتمل تفصیلات ایف بی آر کو ارسال کی ہیں۔ البتہ امیدواروں کے اثاثہ جات کی تفصیلات ایف بی آر کو ارسال نہیں کیں۔حالانکہ حقیقی سکروٹنی کو مد نظر رکھتے ہوئے ا یسا کیا جاتاتو بہت سے امیدواروں کے اثاثہ جات کے گوشواروں اور ٹیکس ریٹرن میں پائے جانے والے فرق سے انہیں حقائق چھپانے کے الزام میں نااہل قرار دیا جاسکتا تھا۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سینٹ الیکشن اور کسی بھی امیدوار کے کامیاب ہونے کے بعد بھی کسی عام شہری کے عدالت سے رجوع کرنے پر حقائق چھپانے والا سینیٹر نااہل ہوسکتا ہے۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہناتھا کہ اثاثوں اور ایف بی آر کے گوشواروں میں مطابقت نہ ہونے پر کوئی بھی امیدوار کامیابی کے بعد بھی نااہل قرار پاسکتا ہے۔لیکن سردست الیکشن کمیشن کے پاس اثاثہ جات کے گوشواروں کی چھان بین کا اختیار نہیں ہے۔البتہ انتخابی اصلاحات کے پیکج میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ جنرل یا سینٹ انتخابات میں امیدواروں کے اثاثہ جات کی چھان بین اور سکروٹنی کے لیے کمیشن کا اپنا خود مختار پولیٹیکل فنانس ونگ بنانے کی اجازت دی جائے۔لیکن تاحال اس پر پیش رفت نہیں ہوسکی۔ سینٹ امیدوار

مزید :

صفحہ آخر -