الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات شفاف نہ کرائے تو آئین حرکت میں آئیگا ،ہائیکورٹ

الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات شفاف نہ کرائے تو آئین حرکت میں آئیگا ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے قرار دیا ہے کہ سینٹ انتخابات میں الیکشن کمیشن نے شفاف انتخابات کرانے کی ذمہ داری پوری نہ کی تو پھر آئین حرکت میں آئے گا اور عدالت دستور کے مطابق فیصلہ کرے گی ، فاضل جج نے یہ ریمارکس سینٹ انتخابات میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63کونظر انداز کرنے اور امیدواروں کو دوسرے صوبوں کی نشستوں پر انتخابات لڑنے سے روکنے کے لئے دائر درخواستوں پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرتے ہوئے دیئے۔جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی طرف سے دائر ان دو متفرق درخواستوں کی سماعت کے دوران اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے 11فروری کوالیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63کی روشنی میں سینٹ انتخابات شفاف طریقے سے کروائے جائیں تاہم ایسا نہیں کیا گیا اور نہ ہی سینٹ انتخابات ایکٹ کی دفعہ 78 پر عمل درآمد کیا گیا ہے جس کے تحت انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں سے بیان حلفی لئے جاتے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے تحت اہلیت کی شکایت پر پورا اترتے ہیں، درخواست گزار نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے 144امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کئے ہیں تاہم الیکشن کمیشن نے انٹرنیٹ پر دوہری شہریت، نادہندگان اور سزا یافتہ لوگوں کو کوئی ریکارڈ نہ رکھا اور یوں اہلیت اور نا اہلیت کی کوئی جانچ پڑتال ہو سکی اور نہ ہی تمام تفصیلات ریٹرننگ آفیسر کو دی گئیں، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت سینٹ کے انتخابات میں متعلقہ صوبے کا امیدوار ہی حصہ لے سکتا ہے تاہم اس ضمن میں بھی حکومت اور الیکشن کمیشن آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کیونکہ سندھ کے رہائشی نہال ہاشمی ، سلیم ضیاء سمیت متعدد امیدوار پنجاب سمیت دیگر صوبوں کی نشستوں پر سینٹ کے انتخابات لڑ رہے ہیں ،الیکشن کمیشن کو امیدواروں سے بیان حلفی طلب کرنے کا حکم دیا جائے اور دوسرے صوبوں کی نشستوں سے انتخابات لڑنے سے روکنے کا حکم دیا جائے، عدالت نے دونوں متفرق درخواستوں پر الیکشن کمیشن کو 17مارچ کے لئے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -