اراضی کا حدود اربعہ تبدیل ،ایگری کلچرل انکم ٹیکس کی حکمت عملی ادھوری رہ جانے کا خدشہ

اراضی کا حدود اربعہ تبدیل ،ایگری کلچرل انکم ٹیکس کی حکمت عملی ادھوری رہ جانے ...

  

 لاہور(عامر بٹ سے)فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ٹیکس پیڈ صارفین کے اندراج کردہ ایڈریس اور استعمال کی جانے والی زرعی زمینوں کے حدود اربعے تبدیل ہونے سے ایگری کلچرل انکم ٹیکس کی آمدنی کے لحاظ سے اکھٹا کرنے کی حکمت عملی ادھوری رہ جانے کا خدشہ لاحق ہو گیا ،50ایکٹر سے زائد زرعی زمین کو استعمال کرنے والے صارفین کا مکمل ریکارڈ موجود ہے ،کوئی بھی صارف انکم ٹیکس کی وصولی سے نہیں بچ سکتا ،بورڈ آف ریونیو نے اعلامیہ جاری کر دیا مزید معلوم ہوا ہے کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب ندیم اشرف کی ہدائت پر پنجاب بھرمیں ڈویژن ،ڈسٹرکٹ او ر تحصیل سطح پر محکمہ ریونیو کے انتظامی افسران جن میں کمشنر ڈی سی او اور اسسٹنٹ کمشنر صاحبان بھی شامل ہیں نے ٹیکس پیڈ صارفین کی فہرست مرتب کرنا شروع کی ہیں لاہور ڈویژن کی حدود میں اکھٹی ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق ضلع لاہور میں 2905ٹیکس پیڈ ہیں، شیخوپورہ میں 249،قصور میں240،اور ننکانہ صاحب میں87،ٹیکس پیڈ منظر عام پر آئے اسی دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر ٹیکس پیڈ کے ایڈریس کا اندراج لسٹ کے مطابق کسی دوسرے اضلاع میں ہے اور ان کے پاس استعمال کی جانے والی زرعی زمین دوسرے اضلاع میں ہے جس کی وجہ سے بعض اضلاع جن میں بالخصوص ضلع لاہور میں ایڈریس کی نسبت سے رپورٹس کی جاری ہیں ان ٹیکس پیڈ کی زرعی زمین نہ ہے جس سے یہ تاثر بھی عام ہو تا جارہا ہے کہ ایڈریس اور زمینوں کے حدود اربعے میں فرق ہونے کی وجہ سے بورڈ آف ریونیو کی 41ارب روپے ریونیو اکھٹی کرنے کی حکمت عملی کہیں دھری کی دھری نہ رہ جائیں تاہم بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 50اایکڑ زرعی زمین کو استعمال کرنے والے تمام بڑے زمینداروں کی فہرست موجود ہے اگر ان کے ا یڈریس کہیں اور بھی ہو نگے جہاں پران کی زمین موجود ہے وہاں کی انتظامیہ ان کے ایڈریسز پر نوٹسز جاری کرے گی اور اس ضمن میں بورڈ آف ریونیو میں قبل از وقت فہرست مرتب کی جاچکی ہے اب اس حوالے سے کوئی سقم نہیں رہ سکتا ہے کو ریونیو اکٹھا کرنے کے حوالے ہماری حکمت عملی ناکافی ہے بندہ آئندہ آنے والے چند ماہ کے دوران ہی بڑے پیمانے پر ریونیو اکٹھا کرتے ہوئے حکومتی خزانے میں جمع کروایا جائے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -