جوئے خانے جانے کا معاملہ،معین خان کی معذرت مسترد، پی سی بی نے آسٹریلیا سے واپس بلا لیا،تحریری وضاحت طلب

جوئے خانے جانے کا معاملہ،معین خان کی معذرت مسترد، پی سی بی نے آسٹریلیا سے ...

  

لاہور(سپورٹس رپورٹر) قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر معین خان کو جوئے خانے جانا مہنگا پڑ گیا،معافی نامہ مسترد،وطن واپس بلا لیا گیا،پی سی بی میں پیش ہو کر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت،نوید اکرم چیمہ کو ٹور سلیکشن کمیٹی کا سربراہ،وقار یونس اور مصباح الحق کو ممبر بنا دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روزپی سی بی ہیڈ کوارٹر لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا اجلاس ہوا۔بورڈ چیئرمین شہریار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں چیف سلیکٹر معین خان کے برسبین میں کسینو جانے کی معاملے پر غور کیا گیا اور اس حوالے سے میڈیا میں آنے والی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اس سکینڈل کے حوالے سے برسبین میں پی سی بی کی جانب سے تیارکی گئی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ معین خان جوا خانے ضرور گئے تھے تاہم انھوں نے تحقیقات کے دوران موقف اختیار کیا ہے کہ وہ کسینو صرف کھانا کھانے گئے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معین خان نے اپنے اس عمل پر معافی بھی مانگی ہے۔رپورٹ کے مطابق معین خان ورلڈ کپ میں قومی دستے کا حصہ نہیں تھے۔اجلاس کے دوران چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے معین خان کو فون بھی کیا،بات چیت میں معین خان نے کسینو جانے کا اعتراف کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ صرف کھانا کھانے گئے تھے اس کے سوا کوئی مقصد نہیں تھا۔معین خان پی سی بی کو مطمئن نہیں کر سکے جس کے باعث بورڈ نے انھیں واپس بلا کر تحریری وضاحت لینے کا فیصلہ کیا جس سے معین خان کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور انھیں جلد از جلد واپس آنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار خان نے کہا کہ معین خان کو واپس بلانے کا فیصلہ کیاگیا ہے اور اس فیصلے سے انھیں آگاہ کر دیا گیا ہے۔میری معین خان سے بات بھی ہوئی ہے ان کا کہنا کہ وہ کسینو صرف کھانا کھانے گئے تھے۔شہر یار خان نے کہا میں نے معین خان کو واپس بلا لیا ہے ان کی واپسی سے ٹیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔معین خان کی واپسی پر ٹور کمیٹی کے سربراہ ٹیم منیجر نوید اکرم چیمہ ہونگے جبکہ وقار یونس اور مصباح الحق اس کمیٹی کے ممبر ہونگے انھوں نے کہا کہ میں معین خان کو کہا کہ واپس آ کر وضاحت دیں۔اس معاملے پر سینیٹ میں بھی بات ہو رہی ہے اور ہمارے وزیر نے بھی بات کی ہے۔ شہر یار خان کا کہنا ہے کہ کھیل کو منفی اندازمیں کھیلیں گے تو نتائج بھی منفی آئیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -