21ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کیلئے لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش

21ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کیلئے لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش

  

 اسلام آباد(آن لائن ،اے این این) سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 21ویں آئینی ترمیم ا ور فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کرتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا،وفاقی انتظامیہ کو جواب داخل کرنے کے لئے 3دن کی مہلت دے دی گئی۔منگل کوسپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 21ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ دوران سماعت ہائی کورٹ بار کے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ نے بتایا وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا نے جواب جمع کرا دیے۔ باقی صوبوں نے جمع نہیں کرائے۔ صوبائی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ تحریری جواب جمع کرا دیے گئے ہیں جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ میر قاسم نے کہا سندھ حکومت نے جواب کراچی رجسٹری میں جمع کرایا ہے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیے کہ سماعت اسلام آباد میں ہو رہی ہے ،،، جواب کراچی رجسٹری میں جمع کرانے کی کیا منطق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کا جواب بھی نہیں آیا جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالروف نے کہا ہمیں صرف نوٹس ہوا تھا جواب نہیں مانگا گیا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھیں اس میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اسلام آباد کا ایڈووکیٹ جنرل جواب جمع نہیں کرانا چاہتا تو نہ کرائے تاہم عدالت نے درخواست منظور کر تے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔تین رکنی بینچ نے آئینی ترامیم کی سماعت کے لیے لارجر بنچ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا ۔

مزید :

صفحہ اول -