اسلام آباد ہائیکورٹ کا حملوں کی ایف آئی آر درج نہ کرنے پر اظہار برہمی، آئی جی طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ کا حملوں کی ایف آئی آر درج نہ کرنے پر اظہار برہمی، آئی جی ...

  

 اسلام آباد(اے این این)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈرون حملوں کی ایف آئی آر درج نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے کہا ہے کہ ڈرون حملوں میں شہری کیڑے مکوڑوں کی طرح مارے جاتے ہیں، بے گناہوں کی ہلاکت پر افسوس تک نہیں کیا جاتا، دکھ کی بات ہے کہ حکومت کے نزدیک اپنے شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کوئی اہمیت نہیں،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو (آج) ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈرون حملوں کی ایف آئی آر درج نہ ہونے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس شوکت عزیز نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں کا مقدمہ درج کرنے کے عدالتی حکم پر ہر صورت عمل ہوگا۔ اس موقع پر وفاق کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وہ آئی جی اسلام آباد کو بعض خفیہ معلومات چیمبر میں بتانا چاہتے ہیں۔ یہ دو ملکوں کے درمیان تعلقات کا معاملہ ہے۔ دفتر خارجہ کو سنے بغیر ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت عوامی جذبات نہیں قانونی تقاضے دیکھتی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں قبائلی علاقوں میں ناحق مارے جانیوالے بچوں کے لواحقین کا مداوا کیسے ہوگا۔ ڈرون حملے کے متاثرین صرف اپنی شکایت درج کرانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دکھ کی بات ہے کہ حکومت کے نزدیک اپنے شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کوئی اہمیت نہیں۔ ڈرون حملوں میں بے گناہ شہری کیڑے مکوڑوں کی طرح مارے جاتے ہیں۔ بے گناہوں کی ہلاکت پر افسوس تک نہیں کیا جاتا۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد طاہر عالم کی جانب سے مقدمہ درج نہ کیے جانے کی وجوہات پر مبنی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے انہیں کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

مزید :

صفحہ اول -