پنجاب اسمبلی، ارکان کا واٹر سپلائی کمیونٹی ڈویلپمنٹ سکیموں پر عدم اعتماد کا اظہار

پنجاب اسمبلی، ارکان کا واٹر سپلائی کمیونٹی ڈویلپمنٹ سکیموں پر عدم اعتماد کا ...

  

لاہور (نمائندہ خصوصی ) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں واٹر سپلائی کی کمیونٹی ڈویلپمنٹ سکیموں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔ نجی رہائشی سکیموں میں الاٹمنٹ اور ان سکیموں کے مالکان کی طر ف سے شہریوں کے سرمائے کی لوٹ مار اور تعلیمی اداروں میں فیسوں اور عملے کی کم ترین تنخواہوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان تمام معاملات پر ایک جامع پالیسی مرتب کرنے اور اس سلسلے میں قانون سازی کیلئے مفصل بحث کر انے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پنجاب اسمبلی موبائل فون کمپنیوں کے مختلف پیکیجز پر بھی مفصل بحث کرے گی ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز صبح قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا تو اجلاس کے وقفہ سوالات میں وزیرہاؤسنگ ملک تنویر اسلم نے کہا کہ واٹر سپلائی کی کمیونٹی ڈویلپمنٹ سکیمیں کامیابی سے چل رہی ہیں لیکن ا رکان اسمبلی نے اس موقف سے اتفاق نہ کیا اور کہا کہ یہ سکیمیں تو ڈیڈ پڑی ہیں۔ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ بہاولپور میں ان کے گھر کے باہر تین سال پہلے پائپ لائین بچھائی گئی کروڑوں روپے خرچ کیے گئے لیکن وہاں سے پانی کے بجائے صرف لال بیگ نکل رہے ہیں کئی دیگر ارکان نے بھی واویلا کیا کہ یہ سکیمیں ٹھیک نہیں چل رہیں جبکہ وزیر ہاؤسنگ ملک تنویر اسلم نے کہا کہ ان کے حلقے میں یہ سکیمیں کامیابی سے چل رہی ہیں لیکن قائم مقام سپیکر نے اراکین کی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ راجن پور ، ڈی جی خان سمیت یہ سکیمیں کہیں بھی کامیابی سے نہیں چل رہی ہیں میرا مشاہدہ ہے کہ نوے فیصد سکیمیں بند اور ناکام ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا گیا کہ پنجاب اسمبلی سمیت 39سرکاری ادارے واسا کے نادہندہ ہیں ۔ حکومتی رکن نگہت شیخ نے سوال اٹھایا کہ نادہندگی کی بنا پر غریب آدمی کا کنکشن کاٹ لیا جاتا ہے تو سرکاری اداروں کیلئے پالیسی مختلف کیوں ہے ؟ جس پر قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی نے رولنگ دی کہ قا نون سب کیلئے یکساں ہے سب کے ساتھ قانون کے تحت مساوی سلوک کیا جائے جو ادارے نادہندہ ہیں ان سے بھی عام شہریوں کی طرح وصول کی جائے۔ بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی پنجاب اسمبلی واسا کی نادہندہ نہیں بلکہ تئیس ہزار روپے کا بل اسمبلی نے جنوری میں ادا کیا تھا اور اب اس کے ذمے ایک پائی بھی واجب الادا نہیں محکمے کی جانب سے پرانا جواب داخل کیا گیا ہے ۔ اجلاس کے دوران ارکان نے نکتہ اٹھایا کہ جن رہائشی کالونیوں میں ڈویلپمنٹ کا کام ان کالونیوں کے مالکان کے بجائے سرکاری فنڈ اور ارکان اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز سے کروانا پڑتا ہے جبکہ نجی مالکان شہریوں سے لیے جانے والے پیسے ہڑپ کرجاتے ہیں ارکان کا کہنا تھا کہ مفادِ عامہ کے تحت ہسپتال وغیرہ کیلئے قانون کے تحت مختص کی جانے والی اراضی بھی بھی پلاٹوں کی شکل میں فروخت کردی جاتی ہے اور پلاٹوں کی الاٹ منٹ میں بھی گھپلے کیے جاتے ہیں جس پر وزیر ہاؤسنگ نے تسلیم کیا کہ ایل ڈی اے سے متعلقہ سکیموں میں یہ شکایت کم ہے البتہ کو آپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے پاس رجسٹرڈ کوآپریٹو ہاؤسنگ کالونیوں میںیہ شکایات ہیں جو متعلقہ محکمہ ہی حل کرسکتا ہے تو ارکانِ اسمبلی نے یہ موقف تسلیم کیا اور اس کا کسی نہ کسی طور پر ترقیاتی اداروے کو ذمہ قراردیا ۔ حکومتی رکن علیم شاہ کا کہنا تھا کہ یہ اسمبلی اس قدر بے بس نہیں کہ عوام کو ریلیف نہ دے سکے نجی کالونیوں کے مالکان شہریوں سے پیسے لینے کے بعد دس دس سال تک الاٹمنٹ نہیں کرتے ۔ سپیکر نے اراکین کے اتفاقِ رائے سے اس معاملے پر اگلے بدھ کو عام بحث کروانے کا اعلان کردیا اجلاس کے ددوران نجی تعلمی اداروں میں سٹاف اور خاص بطور پر معلمات کی کم ترین تنخواہوں کا معراملہ بھی اٹھایا گیا ، پارلیمانی امور کے پارلیمانی سیکرٹری نذر گوندل نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب ایجوکیشن کمیشن بنایا جارہا ہے جس میں نجی تعلیمی اداروں کے بابت تمام امور کا احاطہ کیا جائے گا ، اس کی ابتدائی سمری تیار کر کے وزارتِ وقانون کو بھجوادی گئی ہے جس پر نگہت ناصر شیخ سمیت متعدد ارکان نے زور دیا کہ اس پر ایوان می�ئ مفصل بحث ہونی چاہئے جبکہ حکومتی رکن شیخ علاؤالدین نے نکتہ اٹھایا کہ موبائل فون کمپنیاں اور ان کے پیکجز معاشرے کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ افیون اور چرس نے معاشرے میں اتنا بگاڑ پیدا نہیں کیا جتنی تباہی موباء�أفون نے مچائی ہے لیکن صرف سرمایہ اکٹھا کرنے کیلئے ان کمپنیوں پر بحث نہیں کی جاتی ان کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت ارکان کی ایوان میں دلچسپی نہیں رہی بہتر ہے کہ انہوں نے جن امور کی نشاندہی کی ہے ان پر عام بحث کروائی جائے جس پر سپیکر نے اتفاق کیا۔ اجلاس جمعہ کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -