شو آف ہینڈ زکے ذریعے سینیٹ انتخابات کی خاطرآئینی ترمیم غیر منطقی ہوگی 

شو آف ہینڈ زکے ذریعے سینیٹ انتخابات کی خاطرآئینی ترمیم غیر منطقی ہوگی 
شو آف ہینڈ زکے ذریعے سینیٹ انتخابات کی خاطرآئینی ترمیم غیر منطقی ہوگی 

  

تجزیہ (سعید چودھری) سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا شور و غوغا ہے ۔پاکستان تحریک انصاف نے سینیٹ الیکشن میں ووٹروں کی مبینہ خرید وفروخت روکنے کے لئے "شو آف ہینڈز"کے ذریعے ووٹنگ کی تجویز دی ہے ،جس کے لئے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی ۔اس پرمستزا د یہ کہ اخباری اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لئے آئین میں ترمیم لانے کا فیصلہ بھی کرلیا گیا ۔کیا "شو آف ہینڈ ز"یعنی ہاتھ کھڑے کرکے سینیٹروں کو منتخب کرنا ممکن ہے ؟کہیں یہ طریقہ انتخاب غیر منطقی اور ناقابل عمل تو نہیں ہے ؟ آئین کے آرٹیکل 226میں واضح کردیا گیا ہے کہ دستور پاکستان کے تحت وزیراعظم اور وزیراعلی ٰ کے انتخابات کے سواءتمام انتخابات خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہوں گے ۔وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو خفیہ رائے دہی کے طریقہ انتخاب سے باہر رکھنے کے لئے آئین کے آرٹیکل 226میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیلی کی گئی ،اس سے قبل جنرل ضیاءالحق کے دور میں پی او نمبر24مجریہ 1985کے تحت آرٹیکل 226میں ترمیم کرکے تمام آئینی انتخابات کے لئے خفیہ رائے دہی کوضروری قرار دیا گیا تھاجس میں وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ کا الیکشن بھی شامل تھا تاہم 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے پرانا طریقہ کار بحال کرتے ہوئے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے الیکشن کو خفیہ رائے دہی سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ۔اگر سینیٹ کے انتخابات "شو آف ہینڈ ز"کے ذریعے کرانا مقصود ہیں تو اس کے لئے آئین کے آرٹیکل 226میں ترمیم کرنا پڑے گی ۔
آئین کے آرٹیکل 59(2)کے مطابق سینیٹ میں ہر صوبے کے لئے مختص نشستوں کے لئے الیکشن واحد قابل انتقال ووٹ کے ذریعے متناسب نمائندگی کے نظام کے مطابق ہوگا۔دوسرے لفظوں میں سینیٹ کی جن نشستوں پر انتخاب ہورہا ہو ان کی تعداد کے مطابق ارکان صوبائی اسمبلی کے پاس ووٹ ہوں گے اور ووٹر ترجیحات مقرر کرکے اپنے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ دے گا ۔جیسا کہ پنجاب اسمبلی کے ممبران سینیٹ کے لئے 11امیدواروں کا چناﺅ کریں گے ۔ہر ایم پی اے کے پاس 11ووٹ ہوں گے اور وہ اسے 11امیدواروںکے حق میں استعمال کرنے کا مجاز ہوگا ۔
ہر ووٹر ایم پی اے اپنی منشاءکے مطابق اپنے پسندیدہ امیدواروں کے لئے ترجیحات مقرر کرے گا اور پہلی ترجیح ،دوسری ترجیح ،تیسری ترجیح ، چوتھی ترجیح، پانچویں ترجیح، چھٹی ترجیح، ساتویں ترجیح، آٹھویں ترجیح ،نوویں ترجیح ، دسویں ترجیح اور گیارھویں ترجیح تک اپنا حق رائے دہی استعمال کرے گا ۔جس کے بعد گنتی ہو گی اور ایک طے شدہ فارمولا کے تحت مقررہ تعداد میں پہلی ترجیح کے ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کو کامیاب قرار دینے کے بعد دیگر ترجیحات کے ووٹ دوسرے امیدواروں کے لئے اسی ترتیب سے شمار کرلئے جائیں گے جس ترتیب سے انہیں ترجیح دی گئی ہوگی ۔مثال کے طور پر اگر ایک ووٹر کی پہلی ترجیح الف خان اور دوسری ترجیح ب خان ہو اور الف خان مقررہ تعداد میں پہلی ترجیح کے ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوجائیں تو ب خان کے لئے دوسری ترجیح کے ووٹ پہلی ترجیح کے طور پر شمار کئے جائیں گے ۔اس طرح یہ سلسلہ 11کامیاب امیدواروں تک جائے گا۔دنیا بھر میں جہاں متناسب نمائندگی کا نظام انتخاب رائج ہے وہاں خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہی الیکشن ہوتاہے ۔شو آف ہینڈ زکے ذریعے صرف ان عہدوں کے لئے الیکشن ہوتے ہیں جہاں صرف ایک نشست ہو جیسا کہ وزیراعظم یا پھر وزیراعلیٰ کا عہدہ ہے ۔شو آف ہینڈ زکے ذریعے ووٹروں کی ترجیحات کا تعین کیسے ہو گا ؟ ایک ووٹر کتنی مرتبہ اپنی ترجیحات کے مطابق اپنا حق رائے دہی استعمال کرے گا اور اس کی گنتی کیسے ہوگی ؟ زبانی جمع خرچ کے ذریعے تو اس کا جواب بہت آسان نظر آتا ہے لیکن عملی طور پر اس پر عمل درآمد انتہائی مشکل اقدام ہوگا ۔شو آف ہینڈ زکے ذریعے سینیٹروں کا انتخاب ایک تماشا بن کر رہ جائے گا اور صوبائی اسمبلیاں تماشا گاہ نظر آئیں گی ۔اگر سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنا مقصود ہے تو اس کے لئے آئین میں ترمیم کرکے ووٹروں کو پارٹی پالیسی کا پابند بنایا جاسکتا ہے اور پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دیا جاسکتا ہے جیسا کہ وزیراعظم کے انتخاب ،اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور بجٹ کی منظوری کے لئے رائے شماری کے وقت پارٹی پالیسی سے انحراف کر نے والے ارکان آرٹیکل 63(اے)کے تحت نااہل ہوسکتے ہیں ۔تاہم ایسی کوئی شرط رکھنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے کیوں کہ کسی ووٹر کو اپنی پسندیدہ امیدوار کے حق میں رائے دہی کرنے سے نہیں روکا جاسکتا ۔آئین کے تحت ہر شہری کو اپنے پسندیدہ امیدوار کے چناﺅ کا حق حاصل ہے ۔

مزید :

تجزیہ -