’اگر کوئی یورپ آنا چاہتا ہے تو ہمارے پاس آجائے‘ ایک طرف سارے ممالک مہاجرین سے گھبرارہے ہیں، دوسری جانب یورپی ملک نے سرحدیں کھول دیں، حیران کن اعلان کی انوکھی ترین وجہ بھی سامنے آگئی

’اگر کوئی یورپ آنا چاہتا ہے تو ہمارے پاس آجائے‘ ایک طرف سارے ممالک مہاجرین ...
’اگر کوئی یورپ آنا چاہتا ہے تو ہمارے پاس آجائے‘ ایک طرف سارے ممالک مہاجرین سے گھبرارہے ہیں، دوسری جانب یورپی ملک نے سرحدیں کھول دیں، حیران کن اعلان کی انوکھی ترین وجہ بھی سامنے آگئی

  

لزبن(مانیٹرنگ ڈیسک) شام اور عراق میں جنگ کے باعث پناہ گزینوں کا ایک سیلاب ہے جو یورپی ممالک کا رخ کر رہا ہے۔ لاکھوں شامی و عراقی پناہ گزینوں کو جگہ دینے کے بعد اب یورپی ممالک نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں لیکن پرتگال ایک ایسا یورپی ملک ہے کہ جو مہاجرین کو خود بلا رہا ہے۔

پرتگال روایتی طور پربذات خود مہاجرینوں کا ملک کہلاتا ہے اوروہ خود ہمیشہ آبادی کی کمی کا شکار رہا ہے۔ اس وقت بھی پرتگال کی آبادی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرتگالی حکومت نے اپنے ملک کی آبادی کو بڑھانے کے لیے مزید مہاجرین کو پناہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔بھارتی ٹی وی چینل زی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پرتگال کے وزیراعظم انٹونیو کوسٹا نے گزشتہ ہفتے آسٹریا، یونان، اٹلی اور سویڈن کو خط لکھا ہے کہ ”اس وقت ہمارے ملک میں 4500مہاجرین موجود ہیں اور ہم 10ہزار افراد کو پناہ دینا چاہتے ہیں۔ اس لیے مزید5ہزار800پناہ گزین ہمارے ملک بھیج دیئے جائیں۔“ آسٹریا، یونان، اٹلی اور سویڈن وہ ممالک ہیں جنہیں پناہ گزین راستے کے طورپر استعمال کر رہے ہیں اور ان کے ذریعے دیگر یورپی ممالک تک پہنچ رہے ہیں۔

مزیدجانئے: ’اس اسلامی ملک کے دارالحکومت میں بڑا حملہ ہونے والا ہے‘ آسٹریلیا نے خطرناک اعلان کردیا، ایسے اسلامی ملک کا نام کہ جان کر آپ بھی پریشان ہوجائیں

قبل ازیں پرتگالی وزیراعظم نے اپنے دورہ¿ بیلجیئم کے دوران برسلز حکومت کوکہا تھا کہ ”ہم ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں کہ ہم یورپ کی اس پالیسی کے خلاف ہیں جس کے تحت اس نے پناہ گزینوں پر اپنے دروازے بند کر دیئے ہیں۔“یہ خط انٹونیو کوسٹا نے اس وقت لکھا تھا جب تمام یورپی ممالک نے شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنے بارڈر بند کر دیئے تھے اور انہیں گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ ”باقی ممالک نے اپنے بارڈر بند کرکے اکیلے جرمنی پر مہاجرین کا بوجھ ڈال دیا ہے حالانکہ یہ تمام یورپی ممالک کی ذمہ داری تھی۔“ واضح رہے کہ صرف گزشتہ ایک سال میں جرمنی میں 10لاکھ سے زائد شامی پناہ گزین پہنچے تھے۔ایک طرف پرتگال مزید پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں رکھنا چاہتا ہے تو دوسری طرف پناہ گزین پرتگال جانے پر رضامند نہیں ہیں۔ وہ اس کی بجائے سویڈن اور ڈنمارک جیسے یورپی ممالک کی طرف جانا چاہتے ہیں، جنہوں نے اپنے بارڈر کی سکیورٹی سخت کر رکھی ہے اور مہاجرین کو داخل نہیں ہونے دے رہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں یونان میں تعینات پرتگال کے سفیر روئی البرٹو ٹیرینو نے یونان میں واقع شامی پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کا دورہ بھی کیا ہے اور انہیں پرتگال آنے کی دعوت دی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -