داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی یورپی نوجوان حاملہ لڑکی، جب اسے چھڑا کر واپس لایا گیا تو پھر کیا کیا؟ایسی حرکت کہ جان کر آپ کیلئے بھی یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی یورپی نوجوان حاملہ لڑکی، جب اسے چھڑا کر ...
داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی یورپی نوجوان حاملہ لڑکی، جب اسے چھڑا کر واپس لایا گیا تو پھر کیا کیا؟ایسی حرکت کہ جان کر آپ کیلئے بھی یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق کے شہر موصل میں داعش کے خلاف کارروائی کے دوران کرد جنگجوﺅں نے دوسری بار ایک سویڈش لڑکی کو رہا کروایا، کیونکہ اس سے قبل بھی اس لڑکی کو کرد جنگجو داعش کے قبضے سے چھڑوا یا گیا تھا مگر حیران کن طور پر وہ دوبارہ فرار ہو کر شدت پسند تنظیم میں شامل اپنے بوائے فرینڈ سے جا ملی تھی۔ یہ 15سالہ میریلین سٹیفنی نامی لڑکی اپنے 19سالہ بوائے فرینڈ کے ساتھ گزشتہ سال داعش میں شامل ہوئی تھی۔ گزشتہ بار جب اسے کرد جنگجو داعش کے قبضے سے نکال کر لائے تھے اس وقت یہ بچے کی ماں بننے والی تھی۔کرد جنگجوﺅں کے قبضے سے فرار ہو کر وہ واپس اپنے دوست کے پاس چلی گئی جہاں کچھ ماہ بعد اس نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سٹیفنی گزشتہ سال جون میں سویڈن سے لاپتہ ہوئی۔ اسے آخری بار 31جولائی کو ایک ریلوے سٹیشن پراپنے اسی دوست کے ساتھ دیکھا گیا ۔

مزید جانئے: ہر 5 میں سے ایک لڑکی کو سکول میں جنسی ہراساں کیا گیا: سروے

سویڈن کے میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ان دونوں نے 2015ءمیں شادی کر لی تھی۔ اس کے بعد یہ ڈنمارک اور بلغاریہ کے راستے ترکی پہنچے اور وہاں سے شام میں داخل ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق سٹیفنی کا کہنا ہے کہ ”مجھے میرے بوائے فرینڈ نے گمراہ کیا، وہ شدت پسندانہ رجحان رکھتا تھا اور داعش میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ اس نے مجھے بھی اس کام پر آمادہ کر لیا۔ “ اس کا کہنا تھا کہ ”داعش کے ساتھ زندگی گزارنا واقعی بہت مشکل اور تکلیف دہ کام ہے۔“سٹیفنی کے بوائے فرینڈ کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ وہ روس کی بمباری میں ہلاک ہو چکا ہے۔ سٹیفنی اس وقت کرد جنگجوﺅں کے پاس ہے اور جلد اسے سویڈش حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔

مزید :

بین الاقوامی -