باغبان نئے پھلدار پودے لگانے کا عمل مارچ کے آخر تک مکمل کریں، محکمہ زراعت

باغبان نئے پھلدار پودے لگانے کا عمل مارچ کے آخر تک مکمل کریں، محکمہ زراعت

  

ملتان(اے پی پی )محکمہ زراعت کے ترجمان نے کہا ہے کہ باغبان آڑو، امرود ، ناشپاتی ،لیچی ،آم اور کھجور سمیت نئے پھلدار پودے لگانے کا عمل مارچ کے آخر تک مکمل کریں۔پھل دار پودوں کی کامیاب کاشت کے لیے مناسب روٹ سٹاک پر پیوند شدہ پودوں کا انتخاب انتہائی ضروری ہے۔پودوں کی عمر ایک تا دو سال اور پیوند کی اونچائی ایک تا ڈیڑھ فٹ ہونا چاہیے۔پنجاب میں پھل دار پودے عام طورپر مربہ نما طریقے سے لگائے جاتے ہیں کیونکہ یہ آسان ترین طریقہ ہے اور پودوں کے درمیان نلائی یا گوڈی ، تحفظ نباتات اور غذائی ضروریات کی فراہمی آسانی سے ہوسکتی ہے۔

پودے لگانے سے ایک ماہ پہلے منتخب شدہ کھیت میں نشانوں والی جگہ پر3فٹ چوڑے اور3 فٹ گہرے گڑھے کھودے جائیں ۔ان گڑھوں کو 15سے 20دن تک کھلا رکھیں پھر ان گڑھوں کو ایک حصہ زمین کی اوپر والی مٹی ایک حصہ بھل والی مٹی اور ایک حصہ پودوں کی گلی سڑی گوبر اور پتوں والی کھاد وغیرہ کو ملا کر بھر دیں۔گڑھے بھر نے کے بعد پانی لگائیں اور پودوں کو گاچی سمیت ان گڑھوں میں منتقل کردیں۔اگر پودے بڑے ہوں یا دور سے خرید کر لائے گئے ہوں تو ان کو اوپر سے تھوڑا سا کاٹ دیں تاکہ پودے پانی کے زائد اخراج کی وجہ سے سوکھ نہ جائیں۔پودوے لگانے کے بعد دو تین دن تک ورزانہ پانی لگائیں اور دراڑیں پیدا ہونے کی صورت میں ہلکی گوڈی کرکے نمی کو محفوظ بنائیں۔گوڈی کرتے وقت پودوں کے تنوں کو زخمی ہونے سے بچائیں اور پانی اتنالگائیں کہ وہ پودوں کے تنے کو نہ چھوئے ۔دو تین سال تک پودے کی صحت اور مطلوبہ شکل بنانے پر خصوصی توجہ دیں تاکہ پودا بڑا ہو کر پوری طرح سے بارآور ہوسکے ۔نئے پودے لگانے کے بعد مختلف سبزیاں اور پھلی دار اجناس کی کاشت کی جاسکتی ہے تاہم نئے باغات میں جوار ،باجرہ ،دھان، کماد ، گندم اور برسیم وغیرہ کی کاشت سے اجتناب کیا جائے ۔

مزید :

کامرس -