اخوت کا نیا سفر، یونیورسٹی کے لئے ایک اینٹ!

اخوت کا نیا سفر، یونیورسٹی کے لئے ایک اینٹ!
 اخوت کا نیا سفر، یونیورسٹی کے لئے ایک اینٹ!

  

آسمان بالکل صاف شفاف اور چاند پوری آب و تاب کے ساتھ روشنی پھیلا رہا تھا، موسم بھی خوشگوار تھا ایسے میں گورنر ہاؤس کے وسیع و عریض سر سبز لان میں بڑا خوبصورت منظر تھا، دور دور تک میزیں اور کرسیاں ترتیب سے رکھی نظر آ رہی تھیں۔ روشنی کا بھی حسین امتزاج تھا اور مشرقی جانب ایک بڑی سٹیج بنا کر عقب میں بادشاہی مسجد میں ہونے والی خود روزگار سکیم کی تقریب کی بہت بڑی تصویر تھی۔ یہ سب اہتمام و انتظام دِل کو بھا رہا تھا، مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا ہر کوئی شوق سے آ رہا تھا، پنڈال سے پہلے اور پنڈال کے اردگرد نوجوان رضا کار بڑی نرمی اور خلوص کے ساتھ مہمانوں کی رہنمائی کر رہے تھے اور ان کو ترتیب وار نشستوں پر پہنچانے کا فرض ادا کر رہے تھے۔

یہ کوئی سرکاری اجتماع نہیں تھا، اگرچہ ہو گورنر ہاؤس میں رہا تھا، یہ دراصل ’’اخوت خاندان‘‘ کا سالانہ اجتماع تھا، اور یہ محفل ’’اخوت‘‘ کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے سجائی تھی۔ کہا گیا کہ یہ سالانہ ڈنر اور اس کا خصوصی اہتمام ہے کہ ’’اخوت‘‘ کا سفر اور آگے بڑھ گیا، اب تک قریباً دس لاکھ سے زائد خاندانوں سے تعاون کر کے ان کو برسر روزگار کیا جا چکا ہے۔ اس شہر میں ہر روز تقریبات ہوتی ہیں، بڑے بڑے لوازمات اور تفریح والی بھی، لیکن اخوت کی ہر تقریب ایسی ہی ہوتی ہے کہ مہمان شوق سے آتے اور انتہائی مہذب پن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں کہ یہ ’’اخوت‘‘ کا اعزاز ہے، جس کی کارکردگی نے خود کو منوایا اور آج عوام اعتماد کرتے ہیں، تقریب کے مہمان خصوصی خود گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ تھے۔

یہ سالانہ عشائیہ سابقہ تقریبات سے ذرا مختلف تھا، کہ یہ ایک اگلے سنگ میل کی ابتدا بھی ثابت ہونا تھا۔ اخوت نے اب تعلیم کے میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔ لاہور میں کالج اور فیصل آباد میں سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم شروع ہو چکی۔ اگرچہ ابھی ابتدا ہے اور ڈھانچہ مکمل ہونا ہے، یونیورسٹی کو مکمل عمارت سے عملے تک کی ضرورت ہے اور کالج کے لئے بھی سایہ دار چھت چاہئے، ہر دو تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم یا آئندہ تعلیم حاصل کرنے والے وہ ذہین اور ضرورت مند طلباء و طالبات ہوں گے، جن کے پاس اعلیٰ تعلیم کے وسائل نہیں، ان کے لئے خوراک، لباس اور رہائش کے ساتھ تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا اور اچھوتا خواب تھا، جس کی تکمیل پر شاید دُنیا کا واحد ادارہ ثابت ہو، جو مُلک کے ذہین اور مستحق افراد کے لئے تعلیم و ترقی کا زینہ ہو گا۔

اس تقریب کا آغاز بھی معمول کے مطابق تلاوت کلام پاک اور نعت رسولؐ مقبول سے ہوا اور حسب سابق طلبا ء و طالبات ہی نے یہ فرائض انجام دیئے، پھر چند طالب علموں نے خود سٹیج پر آ کر بھی بتایا کہ ان کو کس طرح سہارا دیا گیا ہے۔ اخوت کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب کو دعوت دی گئی تو انہوں نے بڑی ہی فصیح ادبی زبان میں ادارے کی کارکردگی، اخوت برادری کے تعاون اور مستحقین کے جذبے کا ذکر کیا، ان کے بقول چند ہزار روپے سے شروع ہونے والے پروگرام نے اب 20-21ارب روپے کو چھو لیا ہے اور صرف اس سال جنوری کے مہینے میں ایک ارب18کروڑ روپے کے قرض حسنہ دیئے گئے ہیں، انہوں نے اس سلسلے میں پنجاب حکومت کی خود روزگار سکیم اور بادشاہی مسجد میں ہونے والی بڑی تقریب کا بھی حوالہ دیا اور اس ساری تمہید کے بعد یہ بتا کر کہ ابھی تک بھی اخوت کے قرض حسنہ کی واپسی کی شرح99.9فیصد ہی ہے، آگے چلے اور بتایا کہ اخوت نے مستحقین کے لئے ایک اور قدم اُٹھایا ہے، جو تعلیم کے حوالے سے ہے۔ اخوت کالج لاہور میں اور سائنس ریسرچ یونیورسٹی فیصل آباد میں ہو گی۔ لاہور میں ابھی88 طلباء و طالبات اور فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ میں جو ابھی یونیورسٹی بنے گی،قریباً66 زیر تعلیم و کفالت ہیں ان سب کا تعلق کسی ایک علاقے، شہر یا صوبے سے نہیں یہ پورے مُلک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ان میں فاٹا، گلگت، بلتستان، آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے طلباء و طالبات بھی ہیں۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد ہی بتایا کہ یونیورسٹی کے لئے50 کروڑ روپے کی ضرورت ہو گی اور اس کے لئے تجویز ہے کہ اخوت سے پیار کرنے والے اور مُلک کے ہونہار بچوں کا مستقبل روشن دیکھنے کے خواہش مند ایک ایک اینٹ لگائیں، تجویز کیا گیا کہ یہ اینٹ ایک ہزار روپے سے لگائی جائے اور اس طرح صرف پانچ لاکھ اینٹوں سے یونیورسٹی کا یہ خواب تعبیر حاصل کر لے گا، حاضرین کے دِل کو، بات چھو گئی،بات معقول نظر آئی، اس بار یہاں کوئی چندہ مہم اور کوئی یادگار نیلام نہیں ہوئی، خالص تقریب ہی ہوئی، لیکن حاضرین میں سے بھاری اکثریت نے گھر واپسی سے پہلے اپنے اپنے حصے کی اینٹیں لگا بھی دیں۔

شاید یہ ماحول اور ڈاکٹر امجد ثاقب کی دِل کو چھو لینے والی باتوں ہی کا اثر تھا کہ بعد میں تقریر کرنے والے محترم مجیب الرحمن شامی اور ملک رفیق رجوانہ دونوں ہی بڑے جذباتی تھے،ہمارے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کہ ایک اچھے مقرر ہیں ایک اور ہی سماں باندھ دیا، بڑے جذباتی انداز میں اینٹ کا ذکر کیا، اور کہا کہ یہاں لوگ پانچ پانچ ہزار روپے فی کس چائے اور دس دس ہزار روپے فی کس کے حساب سے کھانا کھانے والے بھی ہیں، ان کو ایسے نیک کاموں کی طرف بھی توجہ دینا چاہئے کہ ایک اینٹ تو معمولی بات ہے۔ شامی صاحب! اپنے جذبات میں بہتے چلے گئے اور پھر بہت بڑا انتباہ بھی کیا، انہوں نے حوالہ دے کر بتایا کہ بحری جہاز کے عرشہ اور اس کی نچلی منزل پر مسافر سفر کر رہے تھے، نچلی منزل والوں کا پانی ختم ہوا،اوپر والوں کے پاس تھا، نیچے والوں نے پیاس بجھانے کے لئے کچھ پانی مانگا تو اوپر والوں نے ہوس کے مارے انکار کر دیا، پھر نیچے والوں میں سے کسی نے تجویز کیا کہ ان اوپر والوں کی منت کرنے کی کیا ضرورت ہے، ہم سمندر میں ہیں اور سمندر سے لے لیتے ہیں،چنانچہ پانی کے لئے پیندے میں سوراخ کر دیا گیا، اس سوراخ سے سمندر کا پانی جہاز میں داخل ہو گیا اور پورا جہاز ہی ڈوب گیا۔ انہوں نے اہلِ ثروت سے کہا کہ وہ ایسا وقت آنے سے پہلے ہی اپنا حصہ ڈال دیں، محترم شامی صاحب نے انقلاب کا نام تو نہیں لیا تاہم یہ مثال ہی کافی تھی کہ بھوکے رکھو گے تو پھر انقلاب ہی آئے گا۔

اس تقریب اور خطابات کے حوالے سے خیال آیا کہ ’’اخوت‘‘ کے پیالے سے اب قریباً 11لاکھ پیاسے مستفید ہوئے اور یہ تعداد بڑھ بھی جائے گی، لیکن پاکستان تو بیس کروڑ سے زیادہ افراد کا مُلک ہے،کہا جاتا ہے کہ غربت کی لکیر سے نیچے والے54فیصد ہیں۔اس حوالے سے تو اخوت جیسے درجنوں ادارے درکار ہیں اور اخوت جو خدمت کر رہا ہے اس میں مزید ترقی ہو گی تو کتنے فیصد لوگ مزید مستفید ہوں گے، کیا یہ ضروری نہیں کہ ریاست اپنا فرض ادا کرے، ڈاکٹر امجد ثاقب نے خود روزگار سکیم کی تعریف کی ہے تو سرکاری سطح پر ایسی کئی اور سکیمیں متعارف ہونا چاہئیں، ویسے سب سے بہترین عمل تو روزگار کے وسائل اور ماحول پیدا کرنا ہے جس میں لوگ اپنا اپنا حصہ وصول کر سکیں۔

گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ پیشہ کے لحاظ سے وکیل ہیں اور دلائل رکھتے ہیں، وہ بھی جذباتی تھے انہوں نے لکھی تقریر کو چھونے سے انکار کر دیا اور بزبان خود کلام کیا اور کیا خوب تھا کہ وہ بھی کچھ امتیاز ہی کی بات کر گئے اور معاشرے کی اونچ نیچے میں اخوت کے کام کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بھی اخوت برادری میں شامل ہیں۔تقریب کا احوال تو لکھے چلے جانے کو جی چاہتا ہے، لیکن جگہ مانع ہے، بات یہاں ختم کرتے ہیں کہ واپسی میں خیال آیا کہ موقع ملا تو ڈاکٹر امجد ثاقب سے یہ بھی پوچھیں گے! قبلہ! دُنیا فانی اور انسان بھی فانی ہی ہے، تو کیا اتنا کچھ کر لینے اور مزید کرنے کے جذبے کے ساتھ ادارہ بھی مستحکم بنیادوں پر استوار کر دیا ہے؟ کہ لوگ آتے جاتے رہیں، لیکن یہ کام جاری و ساری رہے۔

مزید :

کالم -