افغانستان میں بھارتی فوج کی تعیناتی کیوں؟

افغانستان میں بھارتی فوج کی تعیناتی کیوں؟
 افغانستان میں بھارتی فوج کی تعیناتی کیوں؟

  

بھارت افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں کی سیکیورٹی کے نام پر افغانستا ن میں پانچ ہزار فوجی اہلکار تعینات کرنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی حکومت نہ صرف افغان حکومت کے ساتھ مسلسل بات چیت میں مصروف ہے ،بلکہ امریکا کو بھی قائل کرنے کی کوشش کر رہیہے۔ اس حوالے سے بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے دسمبر 2015ء کو اپنے دورۂ امریکا کے دوران بھارتی افواج کے پانچ ہزار اہلکار افغانستا ن میں تعینات کرنے سے متعلق امریکی حکام کو آگاہ کیا۔ افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے حالیہ بھارتی دورے کے دوران بھی اس معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ امریکی رضامندی کے بعد بھارت کی جانب سے گورکھارجمنٹ اور تبتن بارڈر فورس سے افغانستان میں تعیناتی کے لئے سلیکشن کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ افغانستان اور طالبان کے درمیان امن عمل کے (چین ، افغانستان ، امریکا اور پاکستان پر مشتمل) چہار فریقی مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ سے پہلے بھارتی افواج کی افغانستان میں تعیناتی کی کوشش کی جارہی تھی ،تاہم پاکستان کی جانب سے بھر پور مخالفت کی وجہ سے معاملہ التوا کاشکار ہوتا نظر آرہا ہے۔ اس وقت پانچ سو سے زیادہ بھارتی سیکیورٹی اہلکار افغانستان میں مختلف جگہوں پر تعینات ہیں۔ بھارتی افواج کی افغانستان میں تعیناتی سے خطے کی کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بھارت نے افغان فوج کے لئے روس سے خریدے جانے والے ہتھیاروں اور آلات کی قیمت ادا کرنے سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں۔معاہدے کے تحت روس افغانستان کو چھوٹے ہتھیار فراہم کرے گا ، جن کی قیمت بھارتی حکومت براہِ راست ماسکو کو ادا کرے گی۔یہ بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آگے چل کربھارتی حکومت افغان فوج کے لئے روس سے خریدے جانے والے بھاری ہتھیاروں، بشمول ٹینکوں اور لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی قیمت ادا کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کرسکتی ہے۔ اس معاہدے کے مطابق مارٹرلانچر اور ہلکی توپیں، افغانستان بھیجی جائیں گی، البتہ مستقبل میں اس معاہدے میں ہیوی مارٹرلانچر، ٹینک اور جنگی ہیلی کاپٹر بھی شامل ہوجائیں گے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی ’’رائٹرز‘‘کے مطابق خدشہ ہے کہ بھارت کی جانب سے افغانستان کو ہتھیاروں کی بالو اسطہ فراہمی کے اس معاہدے پر پاکستان برہمی ظاہر کرسکتا ہے ،کیونکہ یہ اسلحہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں میں تقسیم کر کے بھارت اور افغانستان پاکستان میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے درمیان فوجی تعاون میں گزشتہ برسوں کے دوران خاصا اضافہ ہوا ہے اور بھارت نے رواں سال اپنی سرزمین پر تربیت پانے والے افغان فوجی اہلکاروں کی تعداد بڑھا کر 1100 کردی ہے، جبکہ 2013ء میں 574 افغان فوجیوں نے بھارت میں تربیت حاصل کی تھی۔ بھارت افغان فوج کو گاڑیوں اور طبی آلات سمیت دیگر سامان بھی فراہم کرتا رہا ہے۔

سابق کرزئی حکومت نے بھارت سے کابل کے نواح میں برطانوی تعاون سے قائم کی جانے والی ملٹری اکیڈمی کے لئے اساتذہ بھیجنے کی درخواست بھی کی تھی۔ حکومت افغانستان نے ایک سال پہلے ہندوستان سے ان ہتھیاروں کی درخواست کی تھی۔ ہندوستان پہلے سے ہی افغان فوج کو ٹریننگ دے رہا ہے۔ کابل حکومت نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہندوستان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔اگرچہ ہندوستان فوجی ساز وسامان بنانے میں روس کے ساتھ تعاون کرتا ہے اور اپنے بعض ہتھیاروں کی پیداوار کے سلسلے میں خود کفیل ہے اور انہیں برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اپنا فوجی ساز وسامان افغانستان بھیجنے میں تحفظات رکھتا ہے۔اسی بنا پر ہندوستان اپنے بنائے ہوئے ہتھیار افغانستان بھیجنے کے بجائے روسی ہتھیار خرید کر افغانستان بھیجنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ ہندوستان اور روس کے سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان کا روس سے اسلحہ خرید کر افغانستان بھیجنے کا ایک مقصد اور بھی ہے اور وہ یہ کہ ہندوستان اس طرح افغانستان میں اپنا فوجی اثر و رسوخ بڑھاناچاہتا ہے۔ بھارت روسی ہتھیاروں کے افغانستان بھیجے جانے کے اخراجات برداشت کر کے افغانستان کے سیکیورٹی اور عسکری اداروں میں نفوذ حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ روس اس ذریعے سے افغان فوج کے ہتھیاروں کے ایک حصے کوروسی بنائے رکھنا چاہتاہے ،تاکہ افغان فوج، مستقبل میں بھی روس سے وابستہ رہے۔انٹیلی جنس اداروں کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان جنگجو افغانستان میں بارود سے بھری گاڑیاں تیار کر کے پاکستان بھجوا رہے ہیں ، جنہیں امریکی اور بھارتی خفیہ ادارے مطلوبہ تکنیکی مدد فراہم کررہے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی میں بھی یہی افغان جنگجو گروپ ملوث ہیں اور یہ ملک میں مزید تخریبی کارروائیوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف بھارتی خفیہ ایجنسی ''را''کے1200 سے زائد ایجنٹ افغانستان میں اسی بات کے لئے تعینات کئے گئے ہیں کہ وہ بھارتی اسلحہ پاکستان میں اپنے ٹاؤٹوں اور ایجنٹوں کو فراہم کریں، تاکہ وطن عزیز میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ''را'' کے ایجنٹ افغانستان سے افغانوں کے بھیس میں پاکستان میں داخل ہو کر یہاں دہشت گردی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیشتر خود کش حملوں اور بم دھماکوں کی کڑیاں جنوبی وزیرستان سے ملتی ہیں، جن کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔

مزید :

کالم -