سائبر وار فیئر: ایک نئی طرزِ جنگ! (3)

سائبر وار فیئر: ایک نئی طرزِ جنگ! (3)
 سائبر وار فیئر: ایک نئی طرزِ جنگ! (3)

  

جنوری 2009ء میں امریکی صدر اوباما کی پہلی ٹرم شروع ہوئی تھی۔ وہ امریکی تاریخ میں امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر تھے۔ ان کے والد مسلمان تھے لیکن وہ خود مسلمان نہیں تھے۔ جب ان کو حلف دلایا جا رہا تھا تو میں نے اپنے کانوں سے ان کا نام ’’بارک حسین اوباما‘‘ سنا تھا۔ ان کے مخالفین ری پبلکن پارٹی کے زعماؤں نے ان کے آئندہ بین الاقوامی طرزِ عمل پرطرح طرح کی افواہیں پھیلائی ہوئی تھیں۔ ایران، مشرقِ وسطیٰ کے اس خطے میں ایک ابھرتی ہوئی فوجی قوت تھی اور جیسا کہ میں نے گزشتہ سطور میں ذکر کیا نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کے دوسرے یورپی حواری بھی ایران کی عسکری پیشرفت کو آنے والے خدشات کی عینک سے دیکھ رہے تھے۔ اوباما انتظامیہ کے بعض اہلکار بھی اس خیال کے حامی تھے کہ اوباما ایران کی ابھرتی اور بڑھتی ہوئی فوجی قوت کو زیادہ سنجیدہ انداز میں نہیں لے رہے۔ اس دور میں رابرٹ گیٹس امریکہ کے وزیر دفاع تھے۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں کو حال ہی میں کتابی شکل میں شائع کیا ہے، جس کا نام "Duty" ہے۔ اس خود نوشت میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ : ’’میں نے جنوری 2010ء میں وائٹ ہاؤس کو ایک انتہائی خفیہ خط لکھا تھا جس میں صدر اوباما کو بتایا تھا کہ ان کی ٹاپ ملٹری اور سیکیورٹی لیڈرشپ نے ابھی تک کوئی ایسا کاؤنٹر پلان تیار نہیں کیا کہ اگر ایران نے اس علاقے میں کوئی جارحانہ اقدام اٹھایا تو امریکہ کا ’’جوابی ہنگامی پلان‘‘ کیا ہوگا!

لیکن رابرٹ گیٹس کے اس دعوے کے برعکس امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیروں اور CIA نے ستمبر 2009ء میں اس حقیقت کا سراغ لگا لیا تھاکہ ایران، قُم کے نزدیک ایک قصبے میں جس کا نام فورڈو (Fordow) ہے ایک گہری سرنگ کھود کر اس میں یورینیم کو افزودہ کرنے کا پلانٹ لگا چکا ہے اور یہ سرنگ اتنی گہری ہے کہ اس کو امریکی دفاعی ترکش کا کوئی سمارٹ بم بھی تباہ نہیں کر سکتا۔ اس وقت یہ بات صیغہء راز میں رکھی گئی تھی کہ امریکی انٹیلی جنس کو فورڈو فیکٹری کا علم ہو چکا ہے۔ ایرانی حکام یہی سمجھتے تھے کہ ان کی یہ فیکٹری ہنوز کسی دشمن انٹیلی جنس ایجنسی (CIA یا موساد وغیرہ) کے علم میں نہیں۔ کچھ ہفتے پہلے اگر آپ گوگل پر جا کر فورڈو کی اس فیکٹری کی سائٹ کو دیکھتے تو قطعاً معلوم نہ ہوتا کہ اس جگہ زیرزمین ہزاروں سنٹری فیوج دن رات گھوم گھوم کر یورینیم کو ویپن گریڈ شرح تک افزودہ کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ جب گزشتہ برس جوہری معاہدے پر بات چیت کا آغاز ہوا تھا تو تب ایرانیوں کو معلوم ہوا تھا کہ فورڈو اور نتانز کی فیکٹریوں کا نہ صرف یہ کہ امریکیوں کوعلم ہو چکا ہے بلکہ ان کو یہ تک بھی معلوم ہے کہ کس فیکٹری میں کتنے سنٹری فیوج کام کر رہے ہیں اور ان میں یورینیم کی افزودگی کی حد تک کہاں تک پہنچ چکی ہے۔

اب اس بات کا سراغ بھی مل رہا ہے کہ اس وقت کے امریکی وزیر دفاع (رابرٹ گیٹس) تک کو بھی معلوم نہ تھا کہ اوباما کی پہلی ٹرم کے آغاز پر CIA اور قومی سلامتی کی دوسری امریکن ایجنسیاں یہ طے کر چکی تھیں کہ اگر ضرورت پڑی تو ایرانی فیکٹریوں پر سائبر اٹیک لانچ کرکے ان کو ناکارہ یا برباد کر دیا جائے گا۔۔۔ یہ ایک قسم کا ’’متبادل کولڈ اٹیک پلان‘‘ تھا۔ لیکن اس کی آزمائش گرم اور فزیکل اٹیک سے پہلے کی جانی تھی۔ اس موضوع پر حال ہی میں ایک دستاویزی فلم بھی تیار کی جا چکی ہے۔ جب وہ فلم ریلیز ہوگی تو سب کچھ سامنے آ جائے گا کہ کس نے کیا کیا اور ایران کی جوہری فیکٹریاں (Facilities) اس معاہدے سے پہلے کس درجہ کے خطرات سے دوچار تھیں۔ اس سائبراٹیک پلان کا خفیہ نام نائٹرو زی ایس (Nitro Zeus) رکھا گیا تھا اور اس کا مقصد ایران کے فضائی دفاع، مواصلاتی نظام اور برقی نظام (پاور گرڈ) کو سائبر وار فیئر کا نشانہ بنانا تھا۔

راقم السطور نے گزشتہ برس اپنے ایک قسط وار کالم میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن یاہو کی اس تقریر کا ترجمہ پیش کیا تھا جو انہوں نے امریکی کانگریس میں کی تھی اور صدر اوباما کی ڈیمو کریٹس انتظامیہ کو ایران کے ’’خطرناک امکانی عزائم‘‘ سے آگاہ کیا تھا۔ یہودی وزیراعظم کی اس تقریر کا بڑا شہرہ ہوا تھا لیکن ان کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ امریکی صدر، ان کی CIA اور ان کی قومی سلامتی کی دوسری ایجنسیاں، بنجمن یاہو سے کہیں زیادہ معلومات رکھتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں جو قارئین یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ سارے ہی سٹرٹیجک موضوعات پر ایک صفحے پر ہوتے ہیں تو یہ گمان درست نہیں۔ جس طرح امریکہ، بہت سی انٹیلی جنس معلومات، اسرائیل سے چھپاتا ہے اسی طرح اسرائیل بھی ایسی بہت سی معلومات امریکی انتظامیہ کو نہیں بتاتا جو اس کے مفادات کے لئے از بس ضروری ہوتی ہیں۔ اگر ان مفادات کا ٹکراؤ امریکی مفادات سے ہو جائے تو بھی اسرائیل اپنے ریاستی مفادات کو امریکی مفادات پر مقدم رکھتا ہے۔۔۔ اور یہ ایک فطری تقاضا ہے!

گزشتہ برس جب امریکہ، ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کر رہا تھا تو فریقین کو معلوم تھا کہ ایران جوہری پیشرفت میں کس حد تک آگے جا چکا ہے۔ اور جب اس معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر آئی تھیں تو دنیا حیران تھی کہ ایران نے اس معاہدے کی رو سے اپنی جوہری صلاحیت کو کس درجہ کم کر لیا ہے۔ بعض مبصر تو یہ بھی کہتے تھے کہ ایران کو اس حد تک ’’نیچے‘‘ نہیں جانا چاہیے تھا۔ لیکن ایرانیوں کو معلوم تھا کہ اگر انہوں نے امریکی مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو نہ صرف یہ کہ عالمی پابندیاں ان کی ترقی کے راستے میں مزاحم رہیں گی بلکہ ’’سائبر وار فیئر‘‘ کے توسط سے ایران کی موجودہ جوہری تنصیبات کو بھی درہم برہم کیا جا سکے گا۔ ایران کو معلوم ہو چکا تھا کہ اس کی انٹیلی جنس کی کمزوری کے باعث انتہائی خفیہ ایرانی معلومات کا علم بھی امریکہ کو ہو چکا ہے۔

جیسا کہ پہلے کہا گیا سائبر وار فیئر ایک جدید ترین طرز جنگ ہے۔ امریکہ اس نئی طرز جنگ کو کس سنجیدگی سے دیکھتا ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے آج سے سات برس پہلے 2009ء میں سائبر آپریشنز کنڈکٹ کرنے کے لئے ایک علیحدہ کمانڈ قائم کر دی تھی۔ اس کو سائبر کمانڈ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کمانڈ ہنوز معرضِ تکمیل میں ہے۔ اس کی تنظیم (آرگنائزیشن) کی تفصیلات ابھی طے کی جا رہی ہیں، متعلقہ افرادی قوت کی سلیکشن اور بھرتی جاری ہے، دنیا بھر میں جہاں جہاں اس کی ضرورت پڑ رہی ہے اس فورس کی تعیناتی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک پاکستان کی ٹی ٹی پی کی بیخ کنی بھی اس کمانڈ کا اولین مشن تھا لیکن اس مشن میں فاٹا کے دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان میں جو مواصلاتی نیٹ ورکس قائم کر رکھے تھے ان میں وائرس کا داخل کرنا اور جاسوسی Chips کو طالبان کے مواصلاتی نیٹ ورکس میں رکھنا مقابلتاً آسان کام تھا۔ ان برسوں میں (اور آج بھی ایک حد تک) امریکہ کے جو مسلح ڈرون فاٹا پر حملہ آور ہوتے رہے، ان کی کامیابی کا دارومدار بھی سائبر وار فیئر کو فزیکل وار فیئر کے ساتھ مربوط کرنے پر تھا۔ پاکستان نے ضربِ عضب میں طالبان کے جو مواصلاتی نیٹ ورکس توڑے اور ان پر قبضہ کیا، ان کی ٹیکنیکل تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ طالبان کے کمپیوٹروں میں جو جاسوسی Chips رکھے گئے تھے اور جو آپریشن ضرب عضب کے دوران پاک فوج کے شعبہ مواصلات (Signals) کے ہاتھ لگے، ان سے بھی انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں کافی مدد ملی۔ (اور مل رہی ہے)

اس امر پر یقین کرنے کی کافی اور شافی دلیلیں موجود ہیں کہ امریکہ اپنی ٹیکنالوجیکل برتری کو مبالغہ کی حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ لیکن ایران کی نیوکلیئر ڈیل میں امریکی ٹیم نے ایران کی خفیہ فیکٹریوں میں موجود سنٹری فیوجوں کی تعداد اور ان کی استعدادِ کار کا جو گراف پیش کیا، وہ حقیقی تھا اور اس میں مبالغے کے آثار نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس لئے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ امریکی (اور اسرائیلی) انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایران کی جوہری تنصیبات کو Pinpoint کرنے کے جو مواقع میسر آئے وہ ایرانی انٹیلی جنس سسٹم کی ناکامی کے باعث آئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات کی جاسوسی میں ایران کے وہ ہزاروں شہری شامل تھے جن کو یہودیوں اور امریکیوں نے اخذِ معلومات کے لئے لانچ کیاتھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ کیسے ممکن تھاکہ ان ایرانی تنصیبات کے کمپیوٹر نیٹ ورک میں وہ Chips رکھ دیئے جاتے جن کی مدد سے CIA وغیرہ کو ساری معلومات مل رہی تھیں۔امریکہ کی قومی سلامتی کے محکمے کے جس آفیسر (سنوڈن) نے امریکہ سے بغاوت کی اس نے ان تمام طریقوں (Methods) اور پرزوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے جو کس کمپیوٹر میں دور کے فاصلے سے بھی کمپیوٹر میں داخل کئے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے لیکن سنوڈن نے اس کی جزئیات کو جس طرح بیان کیا ہے وہ ایرانی تنصیبات میں نقب لگانے (Bug) میں استعمال کی جا سکتی تھیں (اور کی گئیں)

قارئین گرامی! ہم پاکستانیوں کے لئے حاصلِ کلام یہ ہے کہ آپ کے ہاتھوں میں جو موبائل سیل فون یا سمارٹ فون ہے یہ دو دھاری تلوار ہے۔ 26/11 اور پٹھانکوٹ ائر بیس پر حملوں کے کیس میں یہ موبائل فون جو رول ادا کررہے ہیں، وہ آج ہم میڈیا پر دیکھ ، سن اور پڑھ رہے ہیں۔ اسی چھوٹے سے آلے سے کئی میگا سکینڈلوں کے راز طشت ازبام ہو رہے ہیں۔ اگر آج نہیں تو کل پاکستان آرمی کو بھی ایک ’’سائبر کمانڈ‘‘ تشکیل دینی پڑے گی۔ اس کا دائرہ کار یا حلقہء اثر آج محدود ہے تو کل محدود نہیں رہے گا۔ اور دوسری سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہمارے وہ محکمے جن کا کام جاسوسی کرنا بھی ہے مثلاً آئی ایس آئی، آئی بی، ملٹری انٹیلی جنس، نیول انٹیلی جنس اور ائر انٹیلی جنس وغیرہ ان سب کو ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ ہمارا کوئی مواصلاتی سیارہ خلا میں موجود نہیں۔ہمیں اخذِ معلومات کے لئے اپنے دوستوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ افواجِ پاکستان کے وہ ریٹائرڈ افسران اور عہدیداران جو سگنل مواصلات کو جانتے ہیں، ان کو اس موضوع پر عوام کو آگاہی دینی چاہیے کہ یہ ان کا قومی فریضہ بھی ہے۔(ختم شد)

مزید :

کالم -