ایمان،الحاد اور تصوف ( 2)

ایمان،الحاد اور تصوف ( 2)
 ایمان،الحاد اور تصوف ( 2)

  

اہل القرآن کے برعکس ایک ایسا طبقہ بھی پیدا ہو گیا جنہوں نے قرآن کو روایات کے تابع کر دیا یہ لوگ خود کو اہل الحدیث، سلفیہ اور اصلی اہلِ سنت کہتے ان کے نزدیک مؤرخینِ ایران جنہوں نے صحاحِ ستہ مرتب کی معتبر ٹھہرے یہ لوگ قرآن اور حدیث سے آگے جانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے انکے نزدیک دین کا مآخذ قرآن اور حدیث ہے لیکن انکے علماء قرآن کو محض روایات سے متشرح کرتے ہیں اور منطق و قیاس سے یکسر گریز کرتے ہیں ۔۔۔اہل سنت والجماعت کے علاوہ ایک دوسرا بڑا مکتب اہل تشیع کا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو سلسلہِ خلافت کے قائل نہیں یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو آپ کا جانشین اور حقیقی امام تسلیم کرتے ہیں انکے نزدیک امام کا وہ مفہوم نہیں جو اہل سنت کے ہاں پایا جاتا ہے ۔

یہاں امام سے مراد ماہرِ فن نہیں بلکہ وصیِ رسول ہے چنانچہ ان کے دین کے منابع قرآن، روایاتِ معصومین، عقل اور اجماع ہے یہ سنن نبوی دراصل معصومین کی جاری کردہ روایات سے اخذ کرتے ہیں اہل سنت کے برعکس اہل تشیع میں عقل کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے اثناء عشریہ کے برعکس اسماعیلیہ اور نزاریہ جو پانچ ائمہ پر قیام کرتے ہیں ان کے نزدیک روایت کی جگہ عقل اور بیعت پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اب اسماعیلیہ اور نزاریہ کے نزدیک روایت قریباً ناپید ہو چکی ہے دین کے اس قدر مختلف النظر مکاتب بیان کرنے کا مقصد صرف یہی تھا کہ دین میں جب غور و فکر سرانجام پاتا ہے تو پھر فرقے جنم لیتے ہیں ہم اسے اصطلاحاً مکاتب کہہ رہے ہیں لیکن دراصل یہ تفرقہ ہی کی علمی شکل ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو کوئی بھی دینی مکتب کسی دوسرے مکتب پر تنکیر یا تکفیر کے فتوے نہ لگاتا یہاں پر ایک علمی اعتراض پر بات ہو جائے کہ اکثر ذہین علماء دین میں علمی اختلاف کو احسن قرار دیتے ہیں حتی کہ اس ضمن میں ایک روایت بھی گھڑ لی گئی کہ اْمت میں اختلاف رحمت ہے حالانکہ کوئی بھی سلیم الفطرت یہ بات تسلیم نہیں کر سکتا کہ اختلاف باہم رحمت بن سکتا ہے اختلاف تو زنگ ہے جو دلوں کو میلا کرکے کدورت پیدا کرتا ہے اس کو رحمت کہنا تفرقہ بازی اور مفاد پرستی کی اخیر ہے نظریہ کوئی اس قدر غیر اہم بھی نہیں کہ اسے آپ عملی زندگی میں غیر موثر قرار دیں لیکن نظریہ انسانی ذات سے بڑھ کر نہیں جب ہم نظریاتی اجتماع کو قوم بنا لیتے ہیں تو پھر نظریاتی اختلاف کو رحمت نہ معلوم کس بنیاد کہہ دیتے ہیں؟ دوسرا علمی اعتراض یہ ہے کہ دین کے اصول میں کوئی اختلاف نہیں یہ اختلاف تو فروعی ہے حالانکہ آپ درج بالا معروضات کو غور سے پڑھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ہر مکتب میں دین کے مآخذ تک مختلف نظر آئیں گے گویا نظریہ دین کے مآخذ تک تبدیل کر دیتا ہے تو اس قدر جوہری اختلاف کو فروعی اختلاف کہنا قرینِ جہل ہے ۔

تصوف ایک روش کا نام ہے یہ کوئی مکتب یا فرقہ نہیں بلکہ یہ ایک طرح سے عالمگیر جذباتی تحریک ہے صوفیاء محبت و عشق ہی کو دین سمجھتے ہیں یعنی ان کے نزدیک دین دراصل محبت و عشق کا دوسرا نام ہے یہاں روایت، عقل اور اجماع وہ حیثیت نہیں رکھتے جو دیگر مکاتب میں رکھتے ہیں صوفیاء کے نزدیک دین دراصل سات جذباتی مقامات کا نام ہے ۔۔۔اْنس، محبت، عقیدت، ایمان، عبادت، عشق اور عشق کے بعد جنون یا موت، تصوف میں محبتِ دوست ہی دراصل دینِ حق ہے سیدی جلال الدین رومی فرماتے ہیں:

آدمی دید است باقی پوست است

دید آں باشد کہ دید دوست است

صوفیاء کے نزدیک دین محبتِ خدا سے شروع ہو کر عقیدتِ انسان پر تمام ہو جاتا ہے عارفین کہتے ہیں خدا کو انسان کی ضرورت نہیں لیکن انسان کو انسان کی ضرورت بہرصورت ہے پس انسان سے محبت دراصل خدا سے محبت ہے تصوف لغوی اعتبار سے بھی رویہ کی صفائی کا نام ہے اور محبت تو رویہ کی شفافیت کی انتہا ہوتی ہے صوفیاء نے دین کو علم سے منقطع کرکے عشق کے تابع کر دیا صوفیاء کے نزدیک دین علم نہیں عشق ہے سلطان العارفین حضرت سلطان باہو فرماتے ہیں :

جے کر دین علم وچ ہوندا

تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھو

صوفیاء نے دین کو عشق کے تابع کرکے انسانیت میں لسانی، نظریاتی اور ثقافتی تفریق کو ناپید کر دیا یہی وجہ ہے کہ صوفی کسی اہلِ مذہب کو بھی گمراہ نہیں سمجھتا تصوف میں محبت کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے نہ کہ نظریات کو، صوفیاء کے نزدیک حضرت موسی ؑ ، حضرت مسیح ؑ ، حضرت محمدؐ، شری کرشنا، شری راما، سدھارتھ گوتم بدھ، زرتشت، اور مہاویر خدا کے نیک بندے اور مصلح اعظم تھے تصوف ایک عالمگیر جذباتی روش ہے جو دنیا کے تمام مذاہب میں یکساں پائی جاتی ہے ہم اگر اپنے علاقائی مذہب کی بات کریں تو وہاں پر بھی ہمیں ایک عالمگیر جذباتی ربط ملے گا ہندو آرتی، اسلامی حمد، یہودی سالم، پارسی یاسنا، بدھسٹ وندنا، مسیحی مناجات اس امر پر دال ہیں کہ تمام مذاہب میں تصوف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے :

ہندو آرتی

ایشور اللہ تیرو نام

سب کو سنمتی دے بھگوان

اسلامی حمد

الحمدللہ رب العالمین

الرحمن الرحیم

مسیحی مناجات

لّلْو یاہ۔یاو سوتریا کائے یا دوکیسا کائے یا دْو نامس تْو تھیوس یمون اوتی ایثنائی کائے دکائیا اے

پارسی یاسنا

ستوتو گارو واہمنگ اہورائی مزدائی اشائچا واہشتائی دادم مہیچا شماہیچہ اچہ اوائد یمہی وہو

بدھسٹ وندنا

وم جے جگدیش ہرے، سوامی جے جگدیش ہرے بھگت جنوں کے سنکٹ، چھن میں دور کرے اوم جے جگدیش ہرے

یہودی سالم

ہلّلْو اث۔ یہواہ کل گوہِس شبہوئے ہوے کل ہوامِس کہ جبار، علینوے ہصراؤ وآمث یہواہ لاؤس ہلّلْویاہ

درج بالا مناجات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر مذہب میں اصول صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے خدا سے محبت کے ساتھ التجا کرنا کیونکہ محبت ایمان کا میوہ ہے اسی لئے کسی بھی صاحبِ ایمان کے دل میں نفرت یا کدورت نہیں پنپ سکتی۔ تصوف میں نظریہ کی بجائے انسانی ذات کو مرکزِ ہدایت سمجھا جاتا ہے اور انسانی ذات پر ہی ہر طرح کا نظریہ قربان کر دیا جاتا ہے تصوف میں علم و دلیل کیلئے نہیں حْسن و ادا کیلئے لڑا جاتا ہے معروف صوفی بزرگ سعید سرمد سرمست فرماتے ہیں :

سرمد در دیں عجب شکستے کر دی

ایماں بہ فدائے چشمِ مستے کر دی

عمرے کہ بہ آیات و احادیث گزشت

رفتی و نثار بت پرستے کر دی

تصوف مذاہب سے وراء ہوتا ہے لیکن کوئی بھی مذہب تصوف سے ماوراء نہیں ہو سکتا کیونکہ محبت ہر مذہب کی بنیاد ہے اور بغیر محبت کے مذہب کوئی معنی نہیں رکھتا اس لئے تصوف ابتداء ہی سے انسانی معاشروں میں مقبول رہا ہے۔

مزید :

کالم -