تبدیلی آ تے آتے رُک گئی

تبدیلی آ تے آتے رُک گئی
 تبدیلی آ تے آتے رُک گئی

  

پاکستان کے فرسودہ کرپٹ نظام میں تبدیلی کی امید جگانے والا کپتان کروڑوں دلوں کی آواز بن کر ابھرا۔وہ اس نظام کو بدلنے کا نعرہ لے کر میدان میں اترا جس میں امیروں کے لئے اوپر جانے کے لئے سیڑھی، بلکہ لفٹ موجود ہے، جبکہ غریبوں کے لئے ہر قدم پر زور دار دھکے ۔اس نظام میں امیر ،امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔عجیب نظام ہے۔۔۔ یہاں معاشر ہ کبھی دو طبقات میں تقسیم تھا ایک امیر اور دوسرا سفید پوش، مگر اب یہ طبقاتی تفریق ارب پتی اور تیز چائے پتی سے روٹی کھانے والوں میں تقسم ہو چکی ہے۔کپتان جب اس پسے ہوئے طبقے کے سامنے خطاب کرتا ،ٹی وی ٹاک شوز میں گفتگو کرتا یا اخباری بیانا ت جاری کرتا تو غربت،ناانصافی ،کرپشن ،اقربا پروری اور موروثی سیاست کے خلاف اس کا اعلان جہاد اور سچا جذبہ ان خرافات سے بیزار پاکستانیوں کے دلوں کی آواز ہوتا۔کپتان کے چند فقرے تو مجھ سمیت کروڑوں پاکستانیوں کو ازبر ہو چکے ہیں، بلکہ سات آٹھ سال کے بچوں کو، جن کا سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ، بھی کپتان کے یہ فقرے زبانی یاد ہیں۔ جیسے ’’ایاک نعبدو وایاک نستعین۔۔۔اے اللہ تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔

حفرت علیؓ کا فرمان ہے کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ناانصافی کی نہیں،مہذب ملکوں میں احتساب کا نظام آزاد ہوتا ہے جیسے برطانیہ میں ہے ،احتساب ایسا ہوتا ہے جیسے حضرت عمرؓ کے دور میں تھا، ایک عام آدمی نے اٹھ کر پوچھا اے امیرالمومنین آپ نے جوکرتا پہنا ہوا ہے، وہ کہاں سے آیا ؟ کیونکہ مال غنیمت سے ملنے والی ایک چادر سے تو کُرتا بننا ممکن نہیں تھا،ہماری حکومت جب آئے گی تو احتساب کا ایسا نظام لائیں گے جس میں اگر وزیراعظم بھی کرپشن کرے گا تو اسے بھی معاف نہیں کیا جائے گا،ہم نے خیبر پختو نخوا میں احتساب کا ا یسا آزاد ادارہ قائم کیا ہے جس پر کوئی بھی دباؤ نہیں ڈال سکتا ۔ اس ادارے کے قیام کے لئے ہمیں دو سال لگے۔ نواز شریف اور خورشید شاہ کی طرح مک مکا کرکے نیب ہیڈ نہیں لگایا ،خیبر پختو انخوا میں اگر وزیراعلیٰ ٰپرویز خٹک بھی کرپشن کرے گا تو اس کا بھی احتساب ہوگا۔ میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے، مجھے کوئی لالچ نہیں، میں چاہتا تو دنیا میں کہیں بھی خوشحال زندگی گذار سکتا تھا۔ میں تو اس نظام میں تبدیلی کے لئے جدوجہد کر رہا ہوں۔ قرآن کہتا ہے ہر شخص کا باطن ایک دن ضرور بے نقاب ہوگا اور آخری نعرہ ۔۔۔تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی ۔۔۔آ چکی ہے۔‘‘

کپتان کی سینکڑوں تقاریر میں شاید ہی کوئی تقریر ایسی ہو جس میں اس نے یہ فقرے دہرائے نہ ہوں۔اس کے چاہنے والوں اور مخالفین میں شائد ہی کوئی فرد ایسا ہو جسے یہ فقرے رٹ نہ چکے ہوں۔سچ پوچھئے تو کپتان کی یہ باتیں کروڑوں پاکستانیوں کی آرزو ہیں اور ان کے دل میں اتر چکی ہیں کیونکہ یہ ان کے دل کی آواز ہیں۔کپتان جب یہ باتیں کر رہا ہوتا تو اس کے چہرے پر درد اور لہجے کی سچائی محسوس ہو رہی ہوتی ہے ۔تبدیلی کی تڑپ اور ایک جنون صاف دکھائی دے رہا ہوتا ہے، کبھی ایک لمحے کے لئے بھی محسوس نہیں ہوا کہ دوسرے سیا ستدانوں کی طرح وہ بھی محض اداکاری کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں جب اسے اقتدار میں آنے کا موقعہ ملے گا تو ان ارادوں کو ایک ایک کرکے روندتا چلے جائے گا اور وہ بھی دوسرے سیاست دانوں کی طرح ایک روائتی سیاستدان ثابت ہو گا۔خیبر پختو انخواہ میں نیب کا آزاد ادارہ قائم کرکے جہاں کپتان نے اپنی واہ واہ کرائی تھی، اب اسی ادارے کے پر کاٹ کر کپتان بھی لیڈر سے سیاستدان بن گیا ہے۔۔۔لیڈراور سیاستدان میں یہ فرق ہوتا ہے کہ لیڈر کے سامنے ایک مشن ہوتا ہے، اس نے ایک قافلے کے ساتھ منزل تک پہنچنا ہوتا ہے ، جبکہ سیاست دان کے سامنے صرف ایک مشن ہوتا ہے، اقتدار،اقتداار اور صرف اقتدار۔۔۔کپتان بھی ایک گھاگ سیاستدان بن چکا اور اسے بھی خورشید شاہ اور میاں نواز شریف کی طرح پتہ چل چکا ہے کہ نیب کا ادارہ محض شو پیس ہوتا ہے اور اقتدار قومی خزانے پر ہاتھ صاف کر کے سرمائے کے بل بوتے پر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، ایمانداری سے ہرگز نہیں۔

کپتان ایاک نعبدو وایاک نستعین کا منشور چھوڑ کر دولت کے دیوتا کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو چکاہے، کپتان کاحضرت علیؓ کے اس قول کہ کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے نا انصافی کی نہیں، پر یقین متزلزل ہو چکا، وہ نا انصافی کی حکومت کو قائم کرنے کے لئے خیبر پختو انخوا میں سمجھوتا کر چکا۔اس نے حضرت عمرؓ سے پوچھے جانے والے کرُتے کے سوال کی اپنے وزیر اعلیٰ سے پوچھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور اس تک عام آدمی کی پہنچ مشکل بنا دی۔کپتان اپنے ان دعوؤں کہ میری حکومت آئے گی تو میں وزیراعظم بن کراگر غلط کام کروں گا تو احتساب کا ایسا آزاد ادارہ ہو گا جیسے برطانیہ میں ہے جو وزیراعظم کا بھی احتساب کر سکتا ہے،کپتان نے احتساب کا عمل چھوٹے لوگوں تک محدود کر دیااور بڑے لوگوں کی طرف بڑھتے سائے دیکھ کر نیب کے بااصول سربراہ کو ااستعفا دینے پر مجبور کر دیا۔کپتان بھی اپنے کرپٹ ساتھیوں کو بچانے کے مک مکا کے روائتی ہتھیار کا شکار ہو چکا پتہ نہیں اب کپتان کس منہ سے خورشید شاہ اور میاں نواز شریف پر نیب کے ادارے کا سربراہ لگانے پر مک مکا کا الزام لگائے گا۔کپتان جب کہتا تھا۔۔۔ مجھے اللہ نے سب کچھ دے دیا ہے اور مجھے اب کوئی لالچ نہیں تو آج لگتا ہے کپتان کا یہ فقرہ محض سیاسی بیان تھا ، اسے ہر حال میں اقتدار چاہئے اور خیبر پختو انخوا کی حکومت بچاکر اقتدار میں رہنا اس کی دلی خواہش ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ احتساب کے عمل کو خیبر پختو انخوا میں جس طرح محدود کردیا گیا، اس سے ہم جیسے کپتان کے چاہنے والوں کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔کپتان کے حق میں ہم نے کئی کالم لکھے ہیں لیکن ہم نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ کپتان جب غلط ڈگر پر چلے گا یا ڈنڈی مارے گا اس کو آڑے ہاتھوں لیں گے اور ہمیشہ اس پر عمل کیا ہے۔کپتان بے شک خیبر پختو انخوا میں اپنے کرپٹ لوگوں کا احتساب نہ ہونے دے مگر ہم اپنی تحریروں میں اس کا احتساب ضرور کریں گے۔آج کا کالم بھی کپتان کے اسی مشہور زمانہ فقرے ( جو شاید اب بدنام زمانہ لگنے لگا ہے )سے کرتے ہیں ۔۔۔تبدیلی آ نہیں رہی ، تبدیلی۔۔۔آچکی۔۔۔جی ہا ں تبدیلی سچ مچ آچکی مگر اس نظام میں نہیں کپتان کے نظریے میں۔۔۔کپتان کی سوچ میں یہ انقلابی تبدیلی کیسے آئی، کیونکہ اس کی منزل اب نظام بدلنا نہیں، اقتدار کا حصول ہے اور وہ جان چکا ہے کہ اقتدار کے لئے لیڈر بن کر نہیں، سیاستدان بن کر آگے بڑھنا ضروری ہے، وہ اب لیڈر سے ایک گھاک سیاستدان بن چکا ۔وہ بھی اس فرسودہ کرپٹ نظام کو بچانے والوں کی صف میں کھڑا ہو کر دوسرے سب سیاستدانوں جیسا نظر آنے لگا ہے پی ٹی آئی کے دوستو اور سب پاکستانیوایک بار پھر ہم سب کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے چلئے چھوڑئیے دل چھوٹا نہ کیجئے ۔ آؤ غم غلط کرنے کے لئے سب مل کر نعرہ لگاتے ہیں ۔۔۔تبدیلی آ نہیں رہی ،تبدیلی۔۔۔آچکیٍ۔

مزید :

کالم -