سولر بجلی: دوسرے ادارے اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی یہ کام کریں

سولر بجلی: دوسرے ادارے اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی یہ کام کریں

  

پارلیمینٹ ہاؤس اسلام آباد اب بجلی کے معاملے میں خود کفیل ہو گیا ہے، یہ بجلی شمسی توانائی سے حاصل ہو گی، پارلیمینٹ ہاؤس کے اندر ضرورت کے مطابق جتنی بجلی خرچ ہو گی اس سے فالتو بجلی اسلام آباد کو بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی خرید لے گی، اس طرح ایک ہی بار سرمایہ کاری کے بعد پارلیمینٹ کو بجلی نہ صرف سال ہا سال مفت ملتی رہے گی، بلکہ فالتو بجلی کی فروخت سے جو آمدنی ہو گی اُسے بجلی سپلائی کرنے والے سسٹم کی دیکھ بھال پر خرچ کیا جا سکے گا۔ یہ نظام چین کے تعاون سے لگایا گیا ہے۔اس نظام کی فزیبلٹی، اخراجات، دیکھ بھال وغیرہ کا جائزہ لے کر اگر دوسرے ادارے بھی آگے بڑھیں تو وہ بھی سولر کے ذریعے بجلی سپلائی سسٹم قائم کر سکتے ہیں، جن سرکاری و غیر سرکاری یا پرائیویٹ اداروں کے پاس یک مُشت اخراجات کرنے کی صلاحیت موجود ہے یا جو ادارے بینکوں سے قرض لینے کی پوزیشن میں ہیں وہ اگر اس سسٹم کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی جانب متوجہ ہوں تو اس کے تین فائدے ہوں گے ایک تو خود اُنہیں بلاتعطل مفت بجلی ملتی رہے گی اور لوڈشیڈنگ وغیرہ سے نجات مل جائے گی۔ دوسرے وہ فالتو بجلی فروخت بھی کر سکیں گے، جو بجلی کمپنیوں کے سسٹم میں شامل ہو گی تو اس سے نہ صرف فروخت کنندہ کو آمدنی ہو گی، بلکہ بجلی سپلائی کمپنی کے پاس اپنے صارفین کو دینے کے لئے بجلی دستیاب بھی ہو گی۔ اگرچہ بجلی کی یہ مقدار بہت زیادہ تو نہیں ہو گی تاہم اس سے چند سو گھریلو صارفین تو ضرور مستفید ہو سکیں گے اور اگر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ادارے یا اداروں کا کوئی گروپ اس سمت میں آگے بڑھے تو ’’قطرہ قطرہ بہم می شود دریا‘‘ کے مصداق بجلی کی قلت پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکے گی۔ بڑے صنعتی اداروں اور پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں کو تو باقاعدہ طور پر پابند کر دینا چاہئے کہ وہ اپنی ضرورت کی سولر بجلی خود پیدا کریں اور اگر چاہیں تو فالتو بجلی فروخت کر دیں۔

برطانیہ میں باقاعدہ ایک سکیم کے تحت گھریلو صارفین کو بینکوں سے گھروں میں سولر بجلی کا سسٹم لگانے کے لئے قرضے دیئے جاتے ہیں گھروں کے مالکان سے بھی معاہدہ کر لیا جاتا ہے اور اُن کی فالتو بجلی روزانہ کے حساب سے خود کار طریقے سے بجلی سپلائی کمپنیوں کے نظام میں جاتی رہتی ہے اور اس کا حساب کر کے مالکان کو ادائیگی کر دی جاتی ہے۔ پاکستان میں اِس وقت بجلی کا شدید بحرن ہے اِس بحران پر قابو پانے کے لئے حکومت اپنے طور پر اگرچہ بعض کوششیں کر بھی رہی ہے اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ 2018ء تک لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر قابو پا لیا جائے گا، جو منصوبے اس وقت زیر تکمیل ہیں یا نئے بننے والے ہیں، اِن سے بجلی کے حصول کو پیشِ نظر ر کھ کر یہ بات کی جا رہی ہے، لیکن طلب میں اضافے کا عمل تو مسلسل آگے بڑھنے کا عمل ہے۔ بجلی کی ضرورت آبادی میں اضافے اور لائف سٹائل میں بہتری کے ساتھ ساتھ تو بڑھتی رہتی ہے۔

گزشتہ چند سال میں گھروں میں ائر کنڈیشنر کا استعمال بھی بہت بڑھ گیا ہے۔ جن گھروں میں ایک ائر کنڈیشنر تھا اب اُن کے ہاں دو دو ،چار چار اور بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ ائر کنڈیشنر استعمال ہو رہے ہیں، اِس لئے2018ء تک لوڈشیڈنگ اگر ختم ہو بھی گئی تو دو چار برس میں اس کی ڈیمانڈ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، صنعتی ترقی بھی بجلی کی محتاج ہے اور جتنے زیادہ کارخانے ہوں گے اتنی زیادہ بجلی کی ضرورت ہو گی، اس لئے بجلی کی قلت پر مستقل طور پر قابو پانے کا ایک حل تو یہ ہے کہ حکومت پاور سیکٹر میں زیادہ سرمایہ کاری کرے، پانی اور ایٹمی قوت سے سستی بجلی حاصل کرے،اگرچہ ہمارے ہاں کوئلے سے بھی بجلی گھر بنائے جا رہے ہیں، لیکن یہ فضائی آلودگی پیدا کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں اور دُنیا کے کئی ملکوں میں کوئلے سے بجلی گھر لگانے کی یا تو سرے سے ممانعت ہے یا پھر شہروں سے بہت دور یہ کارخانے لگائے جاتے ہیں، عام طور پر زرخیز زرعی اراضی اس مقصد کے لئے استعمال نہیں ہوتی، لیکن ہم سستے ایندھن کے چکر میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر لگا رہے ہیں، حالانکہ سرمایہ کاروں کے تعاون سے گرین بجلی کے منصوبے بھی لگائے جا سکتے ہیں۔

حکومت کو چاہئے کہ نئی قائم ہونے والی تمام ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو بجلی کے کنکشن دینے پر پابندی لگا دے اور ان سوسائٹیوں کے مالکان کو اس امر کا مُکلّف بنائے کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق بجلی خود پیدا کریں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں یہ کام بڑی آسانی سے کر سکتی ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی سوسائٹیوں میں تمام تر سرمایہ کاری پلاٹ خریدنے والوں سے رقم لے کر کرنا ہوتی ہے، جب وہ قیمت مقرر کریں تو اس میں سولر سسٹم سے بجلی لگانے کی لاگت کا اضافہ کر کے پلاٹ کے خریداروں سے اس مد میں رقم جمع کر سکتے ہیں اوراس کافائدہ خریدار کو بھی ہو گا۔ اگر اُسے معلوم ہو گا کہ وہ اپنی ضرورت کی بجلی تھوڑی سی اضافی رقم خرچ کر کے حاصل کر سکے گا تو وہ خوشی سے رقم ادا کرے گا اگر سرکاری بجلی کمپنیوں کو نئی رہائشی سکیموں کو بجلی نہ دینا پڑے، تو وہ بچنے والی بجلی دوسرے ضرورت مندوں کو فروخت کر سکیں گی۔ اس طرح لوڈشیڈنگ اگر ختم نہیں تو کم ضرور ہو گی۔

پاکستان میں جو بڑے بڑے سرکاری یا غیر سرکاری ادارے(مثلاً بینک، انشورنس کمپنیاں شوگر اور کھاد کے کارخانے وغیرہ) ایک خاص حد سے زیادہ منافع کماتے ہیں انہیں بھی پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اداروں میں شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے کے یونٹ لگائیں، کئی بینکوں نے تو اپنی اے ٹی ایم مشینیں اس سسٹم پر منتقل کر دی ہیں اب اُنہیں اپنی ان مشینوں کو رواں رکھنے کے لئے جنریٹر نہیں چلانے پڑتے، اس سلسلے کو توسیع دے کر بینکوں کی تمام برانچوں کو اس سسٹم پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ حکومت نے بجلی بچانے کے لئے کاروباری اداروں کو رات آٹھ بجے کے بعد کاروبار بند کرنے کا پابند کرنے کی کوشش کی تو اسے اس میں ناکامی ہوئی، کاروباری حضرات نے اس میں تعاون نہیں کیا، بڑی بڑی مارکیٹوں میں ایک ایک دکان یا شاپنگ مال پر بیک وقت سینکڑوں بلب دن کی روشنی میں بھی جلتے ہیں اور گرمیوں کا موسم ہو تو کئی کئی ائر کنڈیشنر بھی چلتے ہیں۔حکومت دکانداروں کو مقررہ وقت پر دکانیں بند کرنے پر تو قائل نہیں کر سکی نہ اُن سے اپنے حکم پر عمل کروا سکی ہے تو انہیں اس جانب ہی مائل کیا جائے کہ وہ پائلٹ پراجیکٹ کے تحت بعض مارکیٹوں میں شمسی توانائی کا سسٹم لگوانے کا تجربہ کریں، امید ہے یہ تجربہ کامیاب ہو جائے گا۔

شمسی توانائی سے جو بجلی حاصل ہوتی ہے رات کے وقت استعمال کے لئے اسے محفوظ ر کھنے کی خاطر مضبوط بیٹری سسٹم لگانے کی ضرورت ہے۔ اگر ادارے مرحلہ وار پروگرام کے تحت اس سسٹم پر منتقل ہوں گے، تو وہ بجلی کی کمی دور کرنے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں گے۔ اس طرح حکومت پر بھی دباؤ کم ہو جائے گا جو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہر وقت لوگوں کے طعنوں اور نکتہ چینی کا ہدف بنی رہتی ہے۔ پاکستان کی پارلیمینٹ اس لحاظ سے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی ہے اس خربوزے کو دیکھ کر اب دوسرے خربوزں کو بھی رنگ پکڑنا چاہئے اور گرین بجلی کی طرف منتقل ہونے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔

مزید :

اداریہ -