لندن سکول آف اکنامکس میں ’’جناح چیئر‘‘

لندن سکول آف اکنامکس میں ’’جناح چیئر‘‘
 لندن سکول آف اکنامکس میں ’’جناح چیئر‘‘

  

پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معیشت کا عالمی سطح پر ماہرین معاشیات اور عالمی ادارے نوٹس لے رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان محمد نوازشریف اور ان کی اقتصادی ٹیم ہر لحاظ سے شاباش کی مستحق ہے جس نے پاکستان کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال کو نہ صرف سنبھالا، بلکہ اسے بہتر کر کے بلندیوں کی طرف سفر شروع کیا۔ عوام کی بہتری کے لئے بھی بہت جلد اقدام سامنے آنے والے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ میں عالمی اقتصادی فورم کے بانی نے بھی پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت پر وزیراعظم کو مبارکباد دی جس پر محمد نوازشریف نے پریس بریفننگ میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپنے دوست احباب تو بہتر ہوتی ہوئی معیشت کی تعریف کرتے ہی تھے لیکن سب سے زیادہ خوشی ماہرین اقتصادیات کی تعریف سن کر ہوئی ہے‘‘۔۔۔یونائیٹڈ بزنس فورم کے چیئرمین اور بزنس لیڈر افتخار علی ملک نے لندن سکول آف اکنامکس کے پروفیسر کی طرف سے کی گئی تعریف پر وزیر اعظم محمد نوازشریف اور ان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا دانشور اپنی رائے دیتے ہوئے ڈنڈی نہیں مارتے۔ لندن سکول آف اکنامکس کا شمار دنیا کے چند بہترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے اور وہاں کے پروفیسر نے وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کے دوران جس طرح سے خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کی تعریف کی ہے اس پر پوری قوم کو فخر ہے۔

برٹش پروفیسر نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی بصیرت اور خدمات کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس لئے ان کی خواہش ہے کہ لندن سکول آف اکنامکس میں ’’جناح چیئر‘‘ قائم کی جائے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کو یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے کیونکہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا شمار دنیا کے چند بہترین لیڈروں میں ہوتا ہے اس لئے ان کے افکار اور نظریات سے ساری دنیا کو استفادہ کرنے کا موقع دینے کے لئے پہلے قدم کے طور پر لندن سکول آف اکنامکس میں ’’جناح چیئر‘‘ قائم کی جائے۔ قائداعظم کے پاکستانی قوم اور حکومت پر ان گنت احسانات ہیں اس لئے میری تجویز ہے کہ وہاں ’’جناح چیئر‘‘ حکومت پاکستان کے مالی تعاون سے قائم ہو اور جو طلبہ پاکستانی موضوعات پر ریسرچ کریں انہیں سکالر شپ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے عطا کیا جائے ویسے یہ کام تو وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف بھی انجام دے سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس تعلیمی شُعبے میں وظائف دینے کے لئے12ارب روپے سے زیادہ کا انڈومنٹ فنڈ موجود ہے۔ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ اگر وزیراعظم محمد نوازشریف تھوڑی سی دلچسپی لیں تو لندن شہر میں جس طرح سے انڈیا نے گاندھی کا مجسمہ نصب کیا ہے اسی طرح سے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا مجسمہ بھی نصب کرناچاہئے۔ اس سے دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں سیاحوں کو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو جاننے کا موقع ملے گا اور اس وجہ سے پاکستان کا مثبت امیج ابھرے گا۔

افتخار علی ملک نے مزید بتایا کہ پاکستان بھر میں اقتصادی سرگرمیوں کے ساتھ ریسرچ کے شعبے میں بھی کام کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔ ابھی ایک دن پہلے یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب میں تیسری انٹرنیشنل ریسرچ بزنس مینجمنٹ کانفرنس منعقد ہوئی جس کا موضوع تھا ’’اپر چونٹیز اینڈ چیلنجز آف ایمرجنگ مارکیٹس‘‘ اس میں یونائیٹڈ بزنس گروپ کے اہم رکن اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کے سابقہ صدر میاں محمد ادریس نے بہت زبردست خطاب کیا اور بتایا کہ آنے والے دنوں میں پاک چین اقتصادی راہداری کی وجہ سے پاکستان کی معاشی ترقی تیز رفتاری سے ہو گی، ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کے بھی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان میں صنعت کے علاوہ زراعت کے شعبے میں بھی ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ چنانچہ شائد اس آواز کو یو ایس ایڈ نے بھی سن لیا ہے، جس کی وجہ سے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اور یو ایس ایڈ کے درمیان ایک ایم او یو پر دستخط ہوئے ہیں۔ یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر مائلز ٹوڈر اور پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر آمنہ چیمہ نے اس پر دستخط کئے۔پاکستان حلال فوڈ کے شعبہ سے بھی بہت زیادہ کمائی کر سکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب وفاقی وزیر رانا تنویر نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان حلال فوڈ اتھارٹی بہت جلد قائم کر دی جائے گی۔ دلچسپ بات ہے کہ دنیا میں حلال فوڈ کا ٹریلین ڈالرز کا بزنس ہے جس میں سے پاکستان آٹے ہیں نمک سے بھی کم اپنا حصہ وصول کرتا ہے۔ حلال خوراک، ادویات اور کاسمیٹکس کے موضوع پر ہونے والی عالمی کانفرنس میں حاضرین نے اس بات کو سراہا کہ اب پاکستان حلال فوڈ اتھارٹی قائم کرنے میں سنجیدہ ہے۔سیالکوٹ میں ٹینری زون قائم کرنے کے لئے وسط ایشیا میں روڈ شو کے منصوبے کی منظوری دیدی گئی ہے۔ قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان میں پاکستان کی تجارتی نمائش مئی کے مہینے میں منعقد کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف مختلف ایکسپورٹ، ہونے والی مصنوعات کی کوالٹی مزید بہتر بنانے کے لئے جدید ترین مشینری درآمد کی جا رہی ہے۔ سرجیکل سیکٹر میں نئی مشینری کی خریداری کا پروجیکٹ منظور کر لیا گیا ہے۔اور ٹی ڈیپ نے یہ خوش خبری بھی سنائی ہے کہ کوئٹہ میں ایکسپو سینٹر کے لئے زمین کا انتخاب کر لیا گیا ہے اس کی وجہ سے پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت میں اضافہ ہوگا۔ مجموعی طور پر پاکستان کی معیشت تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے۔

مزید :

کالم -