سیاست کی منڈی میں سازشی تھیوریوں کا بازار گرم

سیاست کی منڈی میں سازشی تھیوریوں کا بازار گرم
 سیاست کی منڈی میں سازشی تھیوریوں کا بازار گرم

  

سیاست کی منڈی میں سیاسی سازشی تھیوریوں کا بازار ایک مرتبہ پھر گرم ہو گیا ہے۔ ہر طرف ایک نئی سیاسی سازشی تھیوری پیش کی جا رہی ہے۔ سیاسی بازار میں یک دم تیزی آگئی ہے۔ تانے بانے بنے جا رہے ہیں۔ مہرے سجائے جا رہے ہیں۔ مہروں کی چالوں پر نظریں جم گئی ہیں۔ کسی حد تک یہ کہاجا سکتا ہے کہ منڈی میں تیزی آصف زرداری کے بیان سے آئی ہے۔ یہ بیان چوبیس گھنٹے کے اندر مبینہ ہو گیا ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ جس طرح بیان جا ری ہوا ہے۔ اس طرح اس کی وضاحت جاری نہیں کی جا رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ آصف زرداری نے کچھ صحافیوں سے غیر رسمی بات میں اس بیان کے جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حصہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن باقی بیان کی تائید کی ہے۔ لیکن پھر بھی کوئی باقاعدہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ بلکہ پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما بھی اس بیان کے حوالہ سے مکمل کنفیوژن کا شکار نظر آرہے ہیں۔ محترم کائرہ صاحب نے پہلے تو اس کی انکوائری کا حکم دے دیا مگر شاید پھر انہیں بتا دیا گیا کہ انکوائری نہیں کرنی ابہام برقرار رکھنا ہے۔ اس لئے انہوں نے چند گھنٹوں بعد انکوائری کا حکم واپس لے لیا۔ بہر حال اس بیان کا مقصد سیاسی منڈی میں تیزی لانا تھا جو آگئی۔ اس بیان کے حوالہ سے ابہام قائم رکھ کر تیزی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سیاسی منڈی اس سے پہلے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے نیب کے حوالہ سے تیزی میں آچکی تھی۔ اس طرح آصف زرداری کے بیان نے میاں نواز شریف کی لائی ہوئی تیزی کو مزید تیز کیا ہے۔ اور سیاسی منڈی میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔

سب سے بڑی سازشی تھیوری جو سیاسی منڈی میں بک رہی ہے وہ یہ ہے کہ یہ بیان ایک گریٹ گیم کا حصہ ہے۔ گریٹ گیم کیا ہے۔ سادہ سی وہی پرانی گریٹ گیم ہے۔ جنرل راحیل شریف ریٹائر نہیں ہونا چاہتے۔ ان کا کرپشن اور احتساب کے حوالہ سے ایک واضح ایجنڈہ ہے۔ اور وہ اس ایجنڈہ کی تکمیل کے لئے ایک واضح روڈ میپ رکھتے ہیں۔ آئی ایس پی آر کا ٹویٹ کہ جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔ اسی گریٹ گیم کا حصہ ہے۔ یہ ٹویٹ اس لئے کیا گیا کہ عوام کو یقین دلا یا جا سکے کہ جنرل ر احیل شریف کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ گریٹ گیم کیا ہے۔ سازشی تھیوری بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ نیب کو اسی گریٹ گیم کے تحت تیز کیا گیا ہے۔ جناب چیف جسٹس اور عدلیہ بھی ایک خاص سمت میں جا رہی ہے۔

اس سارے کھیل میں مرکزی کردار جماعت اسلامی کا ہے۔ اس بار نہ کوئی ڈاکٹر طاہر القادری نہ کوئی عمران خان۔ اس بار جماعت اسلامی۔ جماعت اسلامی کرپشن کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر چکی ہے۔ جماعت اسلامی اس کھیل کی پرانی کھلاڑی ہے۔ جماعت اسلامی یہ کہہ رہی ہے کہ اس کی کرپشن کے خلاف تحریک کسی گریٹ گیم کا حصہ نہیں ہے۔ بلکہ انہوں نے تو دسمبر میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ مارچ سے کرپشن کے خلاف تحر یک شروع کر یگی۔ لیکن حیرانگی کی بات ہے لوگ دسمبر میں ہی مارچ کی بات کر رہے تھے۔

سیاست میں بات سے زیادہ بات کی ٹائمنگ اہم ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی کی ٹائمنگ بھی اہم ہے۔ کیا آصف زرداری کے بیان نے سیاسی منڈی میں جو تیزی لائی ہے اس کا عملی پروگرام جماعت اسلامی کے پاس ہے۔ کیا اسٹبلشمنٹ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے کہ گزشتہ دھرنوں میں انہوں نے جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی کو گریٹ گیم کا حصہ نہیں بنایا تھا ۔ اس لئے ایک طرف سے سراج الحق نے اپنی مصالحتی گیم اور دوسری طرف آصف زرداری نے پارلیمانی گیم سے ان دھرنوں کو اپنے مقاصد تک نہیں پہنچنے دیا۔ اس لئے اسٹبلشمنٹ اس بار گریٹ گیم ہی سراج الحق اور پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر کرر ہی ہے۔ اسی لئے پیپلزپارٹی نے نیب کے حوالہ سے حکومت کی کسی بھی ترمیم کو سپورٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پھر گریٹ گیم کیا ہے۔ وہی ہے کہ میں تو نہیں چاہتا تھا۔ لیکن ملک میں کرپشن بڑھ چکی تھی۔ حکومت کرپشن کو روکنے کے راستے میں رکاوٹ بن چکی تھی۔ کرپشن کے خلاف کام کرنے والے اداروں کو حکومت کام نہیں کرنے دے رہی تھی۔ وزراء کرپشن میں ملوث تھے۔ وزرا منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔ عدالتوں کو کام نہیں کرنے دیا جا رہا تھا۔ اس لئے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے یہ اقدام اٹھانا ضروری تھا ۔ ورنہ میں تو گھر جانے کا اعلان کر چکا تھا۔ اور پیپلز پارٹی جماعت اسلامی ساتھ ہو نگے۔ عمران خان بھی ساتھ ہو نگے۔ باقی سب بھی آجائیں گے۔ ایک ماحول بن چکا ہو گا۔

یہ ایک سازشی تھیوری ہے۔ دوسری تھیوری ہے کہ پیپلزپارٹی بالخصوص گزشتہ چند ماہ سے جنرل راحیل شریف کے خلاف ایک مہم چلا رہی ہے۔ پہلے اعتزا ز احسن نے جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف بیان دیا۔ پھر خورشید شاہ نے بھی بیان دیا۔ کہ ان کو توسیع نہیں ملنی چاہئے اور اب بھی اس طرح کے مبینہ اور مبہم بیان کا مقصد صرف اور صرف جنرل راحیل کو متنازعہ کرنا ہے۔

اور پھر تیسری تھیوری یہی ہے کہ میاں نواز شریف روز بروز سیاسی طور پر تنہا ہو رہے ہیں۔ اور سیاسی قوتیں جنرل راحیل شریف کے گرد جمع ہو رہی ہیں۔ ان کی مقبولیت بھی عروج پر ہے۔ اب جب گریٹ گیم ہو گی تو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کوئی اپوزیشن جماعت نہیں ہو گی۔ اکیلی ن لیگ کیا اجلاس کرے گی۔ ن لیگ کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ اور یہی سمجھتے ہوئے میاں نواز شریف کئی ماہ بعد پارلیمنٹ پہنچ گئے ہیں ۔ تا کہ بعد میں یہ نہ کہا جائے کہ صرف بحران میں ہی آتے ہیں۔کیونکہ بحران دستک دے رہا ہے۔ اور سب اس کی آہٹ سن رہے ہیں۔

مزید :

کالم -