پولیس مقابلہ اور ڈکیتی کی وارداتوں کے مقدمہ کا ایک ملزم بری

پولیس مقابلہ اور ڈکیتی کی وارداتوں کے مقدمہ کا ایک ملزم بری

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے پولیس مقابلہ اور ڈکیتی کی وارداتوں کے مقدمہ کے ایک ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کردیا جبکہ اس مقدمہ کے دیگر دو مجرموں کی 20،20سال قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے ان کی اپیلیں خارج کر دیں۔مسٹر جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے مجرموں تنویر، منشاء اور حبیب کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی، اپیل کنندگان کے وکیل عابد ساقی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ جھنگ پولیس نے 19فروری 2012ء میں پولیس مقابلہ میں اہلکاروں کو زخمی کرنے کے الزامات کے تحت اپیل کنندگان کے خلاف اقدام قتل اور دیگر دفعات کے تحت بے بنیاد مقدمہ درج کیا، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جھنگ علاقہ موچی والا میں پولیس مقابلہ کے دوران دو ملزم شاہد اور تنویر قاسم ہلاک ہو گئے تھے جبکہ تیسرا ملزم منشاء وقوعہ کے چند روز بعد کسی دوسرے پولیس مقابلہ میں ہلاک ہو گیا تھا ، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ پولیس نے ملزموں کی شناخت پریڈ نہیں کروائی اور انسداد دہشت گردی عدالت نے 10جولائی 2012ء کو ناقص تفتیش کے باوجود اپیل کنندگان کو بیس بیس سال قید کی سزا سنا دی ، انہوں نے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے ملزموں کو بری کرنے کا حکم دیا جائے، ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل خرم خان نے بنچ کو بتایا کہ پولیس نے دو ملزموں منشاء اور حبیب کو موقع سے گرفتار کیا جبکہ تیسرا ملزم تنویر فرار ہو گیا تھا ، ملزموں نے پولیس مقابلہ کے دوران راکٹ لانچرز کا استعمال کیا اور ان کے قبضہ سے بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا ، عدالتی استفسار پر انہوں نے کہا کہ ملزم تنویر کی شناخت پریڈ نہیں کرائی گئی تھی ، عدالت نے ملزموں منشاء اور حبیب کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی جبکہ شناخت پریڈ میں ملزم کی شناخت نہ کروانے کی بنیاد پر ملزم تنویر کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید :

صفحہ آخر -