آڈٹ رپورٹ 2014.15سندھ فیسٹول میں 46کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

آڈٹ رپورٹ 2014.15سندھ فیسٹول میں 46کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

  

 کراچی: (خصوصی رپورٹ ) آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ آڈٹ رپورٹ 15۔ 2014ء میں سندھ فیسٹول کے انعقاد میں 86 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2014ء میں ہونے والے سندھ فیسٹول میں اجازت لئے بغیر بے دریغ پیسہ خرچ کیا گیا۔ محکمہ سیاحت وثقافت اور آثار قدیمہ نے منظوری لئے بغیر ٹینڈر جاری کئے اور سندھ فیسٹول کے نام پر 86 کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کر ڈالی۔اس میں 42 کروڑ 50 لاکھ کی رقم ایسی بغیر منظوری کے خرچ کی گئی۔ آڈیٹر جنرل کی نشاندہی کے مطابق ٹینڈر جاری کئے بغیر ہی وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے 42 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری کرنے کی منظوری دی،اس میں 42 کروڑ کی رقم من پسند کنٹریکٹر کو جاری کی گئی۔ رقم کی منظوری کے لئے مشیر ثقافت شرمیلا فاروقی نے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کیا۔محکمہ آثار قدیمہ نے 13 کروڑ 40 لاکھ روپے اجازت کے بغیر سندھ فیسٹول پر خرچ کئے۔ محکمہ ثقافت نے 8 کروڑ 50 لاکھ کے بغیر تصدیق شدہ بلوں کو منظور کرایا۔ سندھ فیسٹول پر خرچ کئے جانے والے 17 کروڑ 57 لاکھ روپے کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا جا سکا۔ سترہ کروڑ روپے کی رقم کہاں گئی، محکمہ کے پاس اس کا فی الحال کوئی جواب نہیں ۔ یاد رہے کہ سندھ حکومت نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر 15 روزہ سندھ فیسٹول کا انعقاد کیا تھا جس میں موہنجوداڑو سمیت مختلف مقامات پر تقاریب منعقد کی گئی تھیں۔

مزید :

علاقائی -