ہمیں احتساب کرتے ہوئے قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے اقوال پر چلنا ہو گا: رفیق تارڑ

ہمیں احتساب کرتے ہوئے قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے اقوال پر چلنا ہو گا: رفیق ...

  

لاہور(جنرل رپورٹر) ہم پوری قوم بالخصوص نئی نسل کو تحریک پاکستان ،نظریۂ پاکستان ، مشاہیر تحریک آزادی کی حیات و خدمات اور قیام پاکستان کے اسباب و مقاصد سے آگاہ کررہے ہیں۔ ہماری منزل پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنانا ہے۔ ان خیالات کااظہار تحریک پاکستان کے کارکن، سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں آٹھویں سالانہ سہ روزہ نظریۂ پاکستان کانفرنس کے دوسرے روز منعقدہ پانچویں نشست میں اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ کانفرنس کا کلیدی موضوع’’پاکستان کی سربلندی اور بقاء کے لیے یکساں نظریاتی وژن‘‘ ہے۔ نشست کے مہمان خاص صوبائی وزیر تعلیم و امور نوجوانان رانا مشہود احمد خان تھے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید‘نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اورقومی ترانہ سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت مفتی محمد خبیب نے حاصل کی جبکہ معروف نعت خواں جمشید اعظم چشتی نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے کلام اقبالؒ پیش کیا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہدرشید نے اداکیے۔محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ میں یہاں موجود لوگوں کے جذبۂ حب الوطنی کو سلام پیش کرتا ہوں ۔آپ دوردراز کے علاقوں سے یہاں کسی ذاتی منفعت کی بجائے محض پاکستان کی محبت میں تشریف لائے ہیں۔ ہم پوری قوم بالخصوص نئی نسل کو تحریک پاکستان ،نظریۂ پاکستان ، مشاہیر تحریک آزادی کی حیات و خدمات اور قیام پاکستان کے اسباب و مقاصد سے آگاہ کررہے ہیں۔ یہ ملک کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آیا ۔قائداعظمؒ نے فرمایا تھا ہم محض ایک زمین کا ٹکڑا حاصل نہیں کررہے ہیں بلکہ ہم اسے اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے۔ ہم اپنی منزل سے بہت دور ہو گئے ہیں۔ ہمیں اپنا احتساب کرتے ہوئے ان لائنوں پر چلنا ہو گا جو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ نے ہمارے لیے کھینچی تھیں۔ صوبائی وزیر تعلیم و امور نوجوانان رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ مسلمانان برصغیر نے قائداعظمؒ کی قیادت میں اس ملک کے حصول کیلئے بڑی قربانیاں دیں ۔یہ ملک کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آیااور اس کے قیام کامقصد یہاں ایک ایسا مثالی اسلامی معاشرہ قائم کرنا تھا جو پوری دنیا کیلئے ایک ماڈل ہو۔ آج ہم میں سے ہر ایک کو یہ دیکھنا ہے کہ اس منزل کے حصول کیلئے ہم نے اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کی ہیں۔ آپ یہاں سے پاکستان کی محبت اور سربلندی کا پیغام لے کر جائیں۔ہمیں خود احتسابی کی روش اپنانا ہو گی ۔ انہوں نے کہا نصاب تعلیم میں بہتری لانے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ۔نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ آپ نے یہاں آکر پاکستان ،قائداعظمؒ ،علامہ محمد اقبالؒ اور مادرملتؒ سے اپنی بھرپور محبت اور وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ نظریۂ پاکستان فورمز کے ذریعے نظریۂ پاکستان کا پیغام ملک کے طول و عرض میں پھیل رہا ہے۔نظریۂ پاکستان فورمز مزید منظم انداز میں اپنے کام کو آگے بڑھائیں۔اس موقع پرروزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ ہر پاکستانی دوسروں کو ٹھیک کرنے کے بجائے اپنی اصلاح پر توجہ دے تو بہت جلد پاکستان ویسا بن جائے گا جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔ ہم دوسروں پر تنقیدکرنے کے عادی ہو گئے ہیں اور دوسروں کو اچھا مسلمان اور اچھا پاکستانی دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اپنی ذات اور حلقۂ اثر پر توجہ مرکوز کریں گے اور اپنے ساتھیوں نیز ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں گے تاکہ پوری قوم جسد واحد کی مانند ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت نصاب سازی کا اختیار صوبوں کو تفویض کرنا غیر دانشمندانہ اقدام تھا جس کے منفی اثرات ہمارے مستقبل پر مرتب ہوں گے۔ جن سیاسی رہنماؤں نے بلا سوچے سمجھنے نصاب سازی کا عمل صوبوں کے حوالے کرنے کی دستاویز پر دستخط کیے انہیں شرم آنی چاہئے۔ درحقیقت ہم نظریاتی معاملات کے حوالے سے بعض اوقات بڑی کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جو غیر نظریاتی عناصر موقع کی تاک میں ہوتے ہیں وہ اس سے پورا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کی کئی مرتبہ صوبہ خیبر پی کے میں حکومت رہی مگر اس کو بھی توفیق نہ ہوئی کہ وہاں قائداعظمؒ کے نام پر کوئی یونیورسٹی بنا دیتی۔ سرکاری اخراجات سے بنائے جانیوالے ایئر پورٹس اور یونیورسٹی کا نام’’ باچا خان‘‘ کے نام پر رکھ دیا حالانکہ ان کا تحریک پاکستان میں کوئی کردار نہ تھا۔ اس ایئر پورٹ کا نام پہلے ہی ’’سردار عبدالرب نشتر ایئرپورٹ‘‘ رکھ دیا جاتا تو ایسی نوبت نہ آتی۔جس دن باچا خان یونیورسٹی پر حملہ ہوا‘تب وہاں باچا خان کی برسی کے موقع پر مشاعرہ ہو رہا تھا۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ وہاں صرف نام ہی نہیں رکھا گیا بلکہ ان کا فلسفہ اور نظریات کو پھیلنے پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد کے نئے ایئرپورٹ کو قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خان سے منسوب کر دیاجائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں وقت کی پابندی کرنی چاہیے اور قائداعظمؒ کے فرمودات پر عمل کرنا چاہیے۔ممتاز دانشور و اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا کہ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جو تعلیم کے معجزے کی صورت میں معرض وجود میں آیا۔ سرسید احمد خان علی ۔کانفرنس کی چھٹی نشست میں ملک بھر سے آئے ہوئے نظریۂ پاکستان فورمز کے عہدیدران نے اظہار خیال کیا۔ نظریۂ پاکستان فورم اسلام آباد کے سیکرٹری ظفر اقبال بختاوری نے کہا کہ مجید نظامی وہ شخصیت تھے جنہوں نے نئی نسل کی نظریاتی تربیت میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا پاکستان کادشمن پاکستان کوچاروں طرف سے گھیر رہا ہے اور اس نے ہمیں ہر طریقے سے تقسیم کرنے کی تحریک جاری رکھی ہوئی ہے ۔معروف دانشور اور کالم نویس محمد آصف بھلی نے کہا کہ محترم ڈاکٹر مجید نظامی یہاں منعقدہ مختلف تقاریب میں بڑے تواتر کے ساتھ غلام حیدر وائیں کا تذکرہ کیا کرتے تھے جو اس ایوان اور ان اداروں کے بانی تھے۔ وہ ایسا اس لئے کرتے تھے کہ جو قومیں اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہیں وہ اپنی شناخت‘آزادی حتیٰ کہ جغرافیے تک محروم کر دی جاتی ہیں۔ صدر نظریۂ پاکستان فورم پشاور ملک لیاقت علی تبسم نے کہا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ دن رات نظریۂ پاکستان کے تحفظ کیلئے کوشاں ہے۔ ہم ان کی رہنمائی میں یہ پروگرام لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ صوبہ خیبرپی کے میں یہ کام کرنے میں ہمیں مشکلات کاسامنا ہے مگر ہم نے وہاں نظریۂ پاکستان کا یہ پرچم بلند رکھا ہوا ہے ۔ نظریۂ پاکستان فورم ملتان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کہا کہ ملتان میں نظریۂ پاکستان فورم کا قیام2008ء میں عمل میں آیا۔ ہم اب تک وہاں سینکڑوں پروگرام منعقد کر چکے ہیں۔ جو لوگ لسانی بنیادوں پر قوم کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں ہم ان کے خلاف صف آرا ہیں۔ نظریۂ پاکستان ہی پاکستان کی بنیاد ہے اور اس کو فروغ دیئے بغیر پاکستان مضبوط نہیں ہو سکتا۔ سیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے کہا کہ اس اہم قومی مشن میں آپ ہمارا ہاتھ بٹائیں ۔ہم اپنی سرگرمیوں سے ایک شعوری انقلاب لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ۔ تقریب کے اختتام پر محمد رفیق تارڑ نے مہمان خاص رانا مشہود احمد خان، سہیل وڑائچ، ظفربختاوری، محمد آصف بھلی، محمد ارشد قاسمی، پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی، ملک محمد یٰسین، حاجی انور علی انصاری، ملک لیاقت علی تبسم، شیخ خالد حسین، پیر محمد جمیل، میاں شبیر احمد ہاشمی، میاں علی حسن، الحاج اشرف قریشی، کرنل(ر) محمد سلیم ملک، رانا افتخار رسول خان، پروفیسر قدرت علی چوہدری، بیگم ثریا کے ایچ خورشید، بیگم مہناز رفیع، بیگم صفیہ اسحاق، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، فوزیہ چیمہ، رضیہ اختر، انجینئر محمد طفیل ملک، منظور خان، مصطفی کمال پاشا، الھاج غلام مصطفی شیخ، طارق علی کاکڑ، ارشد قمر سیالوی اور ھافظ محمد اکرم چشتی کو کانفرنس میں یادگاری شیلڈز پیش کیں۔ ملک لیاقت علی تبسم نے محمد رفیق تارڑ اور رانا مشہود احمد خان کو روایتی چترالی ٹوپیاں پیش کیں۔

لاہور (جنرل رپورٹر) تحریک پاکستان کے دوران مسلمانان برصغیر نے جس بے مثال اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا وہ اسلامی دنیا کیلئے ایک مثال ہے۔ مسلم اُمہ کے اتحاد کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کلیدی اور قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے امت کے اندر انتشار کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ مسلکی مفادات دینی مفادات پر غالب آ گئے ہیں۔ ہمیں دین کو ہر حال میں مقدم رکھنا ہو گا۔اسلام دشمن قوتوں کو علم ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا وہ اس کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں آٹھویں سالانہ سہ روزہ نظریۂ پاکستان کانفرنس کے دوسرے روز ساتویں نشست بعنوان’’ امت مسلمہ میں اتحاد و یگانگت کیسے ممکن ہے؟ ‘‘ کے دوران کیا۔ اس نشست کی صدارت تحریک پاکستان کے کارکن، سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور وائس چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی۔ اس موقع پر سجادہ نشین آستانۂ عالیہ شرقپور شریف صاحبزادہ میاں ولید احمد جواد شرقپوری، علامہ محمد اقبالؒ کے پوتے ولید اقبال ایڈووکیٹ، خانوادۂ حضرت سلطان باہوؒ صاحبزادہ سلطان احمد علی، تحریک جوانان پاکستان کے صدر محمد عبداللہ گل ، ممتاز عالم دین علامہ احمد علی قصوری، ڈائریکٹر جنرل محکمہ اوقاف و مذہبی امور، حکومت پنجاب ڈاکٹر طاہر رضا بخاری ، آستانۂ عالیہ مانکی شریف کے پیرزادہ نبی امین،صوبائی پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد ارشد،صدر فرزندان بانیان پاکستان خرم شہزاد،انجینئر محمد طفیل ملک، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، منیر ملک، ملک لیاقت علی تبسم، نذیر خان، عابد زاہد، عرفان عالم، محمد ایاز، ڈاکٹر احسان ظفر، انجم عطاء، حسن فاروق، ظفر اقبال، احسان اشرف، محمد سعید اور سیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین وحضرات کثیرتعداد میں موجود تھے۔اس نشست کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید‘نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اورقومی ترانہ سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت حافظ محمد وارث سلطانی نے حاصل کی جبکہ ایوب بھٹی نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔ نشست کی نظامت کے فرائض محمد آصف بھلی نے انجام دیے۔ ولید اقبال ایڈووکیٹ نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ نے جواب شکوہ میں اُمت کے اتحاد کے حوالے سے بات کی ہے ۔ مسلم اُمہ کے اتحاد کو فروغ دینے کیلئے ہمیں قائداعظمؒ کے وژن کو اپنانا ہوگا ۔ اگر ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہوں‘اپنے لوگوں کو یکساں مواقع دینے کا نظام رکھتے ہوں تووہ دن دور نہ ہوگا کہ پاکستان مسلم اُمہ کی یکجہتی اوراتحاد میں ایک اہم اور قائد کا کردار ادا کر سکے گا۔صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا بدقسمتی سے ہم نے امت کے اندر انتشار کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ مسلکی مفادات دینی مفادات پر غالب آ گئے ہیں۔ محمد عبداللہ گل نے کہا نبی کریمؐ نے اتحادِ امت کا درس دیا ہے ۔ آج ہمیں صحیح معنوں میں پاکستانی بننا ہو گا۔ ممتاز عالم دین علامہ احمد علی قصوری نے کہا کہ اُمت مسلمہ کے اتحاد کو اگر فروغ مل سکتا ہے تو مذہب کی قوت سے ہی مل سکتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل محکمہ اوقاف و مذہبی امور حکومت پنجاب ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے کہا علامہ محمد اقبالؒ نے مسلمانوں کے عروج و زوال کا ذکر کرتے ہوئے مسجد، مدرسہ اور خانقاہ کو مضبوط اور مستحکم کرنے پر زور دیا کہ اسی کی بدولت امت مسلمہ متحد ہو گی۔آستانۂ عالیہ مانکی شریف کے پیرزادہ نبی امین نے کہا کہ یہ ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا لہٰذا اس کی قدر اور حفاظت کریں ۔پروگرام کے دوران ڈاکٹر مجید نظامی اور جنرل (ر) حمید گل کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ آخر میں سجادہ نشین آستانۂ عالیہ شرقپور شریف صاحبزادہ میاں ولید احمد جواد شرقپوری نے دعا کروائی۔

مزید :

صفحہ آخر -