اہل تشیع کو بھی نئی مساجداور امام بارگاہیں بنانے کی اجازت دی جائے،علامہ سبطین حیدر

اہل تشیع کو بھی نئی مساجداور امام بارگاہیں بنانے کی اجازت دی جائے،علامہ ...

  

لاہور( شہزاد ملک تصاویر عمر شریف) شعیہ علماء پاکستان پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے اہل تشیع کو بھی نئی مساجد‘ نئے مدارس اور نئی امام بارگاہیں بنانے کی اجازت دی جائے ‘ امن کمیٹیوں میں بھی آبادی کے تناسب سے ہی مناسب نمائندگی دی جائے‘ عزاداری پر پابندی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے‘ فورتھ شیڈول آئین کے منافی اور ایک کالا قانون ہے‘34ممالک کے اتحاد کی بجائے 52اسلامی ممالک کا اتحاد کیوں نہیں ہم 34ممالک کے اتحاد کو فرقہ واریت کی ابتدا سمجھتے ہیں اور اس پر شعیہ قوم کو تشویش بھی ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے روز نامہ پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر مکمل عمل ہونا چاہئے پنجاب میں اس پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہر اطراف سے انگلیاں اٹھ رہی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی جزیات پر من و عن عمل کو یقینی بنایا جائے ہم آپریشن ضرب عضب اور فوج کی مکمل تائید وحمائت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم میں کہیں پر بھی کوئی دہشت گرد یا غلط آدمی موجود ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے ہم اس کو خود حکومت کے حوالے کریں گے لیکن اس کی آڑ میں ہماری کردار کشی نہ کی جائے اور ہم پر بہتان بازی سے گریز کیا جائے ہم ایک پر امن لوگ ہیں اور ملک میں قیام امن کی خاطر سب سے زیادہ جانوں کے نذرانے بھی ہم نے دئیے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ حکومت وہ پالیساں بنائے جن سے عوام کو براہ راست فوائد ہو سکیں عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات ان کے گھروں کی دہلیز پر مہیا کرنا حکومت کاکام ہے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -