پنجاب اسمبلی سے خواتین پر تشدد سے تحفظ کابل منظورہونا خوش آئند ہے،راغب نعیمی

پنجاب اسمبلی سے خواتین پر تشدد سے تحفظ کابل منظورہونا خوش آئند ہے،راغب نعیمی

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)معروف دینی اسکالر وناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ علامہ ڈاکڑ محمدراغب حسین نعیمی نے کہاکہ پنجاب اسمبلی سے خواتین پر تشدد سے تحفظ کابل منظورہونا خوش آئند ہے۔تاہم قانون سازی کے ساتھ ریاست قوانین پر عملدرآمدبھی یقینی بنائے۔قانو ن سازی کے ساتھ مردوں اورلڑکوں کی اخلاقی تربیت کرنا بھی ازحدضروری ہے۔کہ مردحضرات قانون کے نفاذ کے بغیر ہی خواتین کو ان کے حقوق دیں۔معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح تشویشنا ک ہے۔تین طلاقیں اکٹھی دینے پر تعزیراً سزااورقبل از وفات بچوں(لڑکوں اورلڑکیوں)میں برابری کی بنیاد پرجائید اد کی تقسیم کے بارے میں بھی قانون سازی کی جائے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی سے’’ خواتین پر تشدد سے تحفظ کا بل منظور‘‘ہونے پر اپنے ردِعمل دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزیدکہاخواتین پر گھریلو تشدد، معاشی استحصال، جذباتی، نفسیاتی، بدکلامی جیسے اخلاقی جرائم مسلم معاشروں کیلئے بدنماداغ ہیں۔دین اسلام کی تعلیمات عدم تشد د پرمبنی ہیں۔تشدد کرنے والے مرد کوبطورتعزیراً دی جاسکتی ہے۔قوانین کے غلط استعمال کوروکنے کیلئے بھی اقدامات کیے جائیں۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔جومقام ومرتبہ خواتین کو اسلام نے دیاہے اسکی دیگر مذاہب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔نبی کریم ؐ کی سیرت مبارکہ سے انسانی ہمدری کا درس ملتاہے۔نبی کریم ؐ نے اس مرد کو بہترین مرد قرار دیا جواپنے اہل خانہ سے اچھا سلو ک کرتاہے۔ نبی کریم ؐ نے عورتوں کے حقوق کاتحفظ اورانہیں جینے کاحق جس طرح دیااسکی مثال دنیا کی پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔نبی کریم ؐ نے صرف فکری اور نظری اعتبار سے ہی عورت کومقام و مرتبہ دیابلکہ قانون کے ذریعے سے عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی اور مردوں کے ظلم کی روک تھام کا موثر نظام دیا۔جہاں شریعت نے مرد کو ناگزیر حالت کی بناء پر طلاق دینے کا اختیار سونپ رکھا ہے وہاں عورتوں کو بھی کسی معقول وجہ کے باعث مرد سے خلع لیناکااختیار بھی دیاہے۔معاشرے کی فلاح کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان مردوعورت اسلام کی معاشرتی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -