حکومت خواتین کو درپیش مسائل حل کرے، ضیاء الحق نقشبندی

حکومت خواتین کو درپیش مسائل حل کرے، ضیاء الحق نقشبندی

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)حکومت خواتین کو درپیش مسائل حل کرے۔ خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ غیرت کے نام پر قتل، چھوٹی عمر میں شادیوں، کاروکاری، قرآن سے شادی، خواتین کو وراثت، تعلیم اور ووٹ کے حق سے محرومی جیسے غیر اسلامی، غیر اخلاقی اور غیر آئینی افعال کی روک تھام کے لیے حکومت فعال کردار ادا کرے۔دینی مدارس کے نظام اور نصاب کو سٹیٹ کے ڈسپلن کے تابع کیا جائے۔ دہشت گردی میں ملوث مدارس کے خلاف کاروائی کی جائے۔یہ بات چیئرمین تنظیم اتحاد امت پاکستان محمد ضیاء الحق نقشبندی نے اپنی بیان میں کہی انہوں نے کہا کہ امن کا مضمون ہر سطح کے نصاب میں شامل کیا جائے۔ انسانیت کو ڈر اور شر سے نجات دلائی جائے۔جمعہ کے خطبات کو واچ کرنے کا مؤثر نظام بنایا جائے اور نفرت انگیز تقریریں کرنے والے خطباء کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔

پاکستان اور بھارت باہمی تنازعات کو مذاکرات سے حل کریں اور بھارت مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے کے لیے ہٹ دھرمی کا رویہ چھوڑ دے۔ بھارت پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردوں کی سرپرستی سے باز آجائے۔ تمام طبقات گولی کی بجائے بولی کا کلچر اپنائیں اور پھیلائیں۔۔ اشتعال کی بجائے اعتدال کا پُرامن راستہ اختیار کیا جائے۔ سیاسی و مذہبی جماعتیں کشیدگی کی بجائے کشادگی کا مظاہرہ کریں۔ دنیا بھر میں امتیازی رویے اور دہرے معیار ختم کیے جائیں۔تمام مکاتب فکر نظریات کا مقابلہ طاقت کی بجائے نظریات سے کرنے کا راستہ اختیار کریں۔ نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد کے لیے سرکاری محکموں اور متعلقہ اداروں کو فعال اور متحرک کیا جائے۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قائم کیے گئے ادارے ’’نیکٹا‘‘ کو مطلوبہ فنڈز فراہم کیے جائیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -