سپر پاور امریکہ اور چین میں اتفاق اور متعدداختلافات ساتھ ساتھ

سپر پاور امریکہ اور چین میں اتفاق اور متعدداختلافات ساتھ ساتھ

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی امریکہ کے چار روزہ سرکاری دورے پر اس وقت واشنگٹن میں موجود ہیں۔ ان کا دورہ 22 فروری سے شروع ہوا جو 25 فروری تک جاری رہے گا۔ اس دوران وہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ایک اہم ملاقات کرکے ایک مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب کرچکے ہیں۔ کیلی فورنیا کے مغربی ساحل پر صدر اوبامہ کی دعوت پر گزشتہ ہفتے جنوب مشرقی ایشیا کے دس ممالک کی تنظیم آسیان کے سربراہ اجلاس کے فوراً بعد چینی وزیر خارجہ کی واشنگٹن آمد بہت معنی خیز ہے۔ امریکہ سمیت اس تنظیم کے بیشتر ارکان کو چین کے جنوبی سمندر میں مصنوعی جزیرے بنانے، وہاں اپنے بحری جہازوں اور آبدوزوں کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے اور اس کے آس پاس جہاز رانی پر کنٹرول بڑھانے پر اعتراض ہے۔ تاہم صدر اوبامہ نے اس موقع پر یہ احتیاط کی کہ جہاز رانی کے بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کی بات تو کی لیکن چین کو براہ راست تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ اس وقت امریکہ اور چین کے باہمی تعلقات اس سطح پر ہیں کہ وہ کھل کر ایک دوسرے کے حلیف ہیں اور نہ حریف۔ دنوں ممالک ڈپلومیسی کی اچھی روایت قائم رکھے ہوئے ہیں۔ جہاں ضرورت پڑتی ہے وہ پنجہ آزمائی بھی کرلیتے ہیں اور جب حالات کا تقاضا ہو تو ایک دوسرے کے ساتھ بھی چل لیتے ہیں۔ امریکہ کو شکایت ہے کہ اس پر ہونے والے بہت اہم سائبر حملوں کے پیچھے چین کا ہاتھ ہے لیکن امریکہ نے اس مسئلے کو زیادہ نہیں بڑھایا۔ امریکی انتظامیہ کی طرف سے چینی حکومت کو شبہے کا فائدہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں شاید چین کے غیر سرکاری تجارتی اداروں کا ہاتھ ہے۔ منگل کے روز جب امریکہ اور چین کے وزرائے خارجہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی عمارت میں ملاقات میں مصروف تھے عین اسی وقت تھوڑے فاصلے پر واقع کیپٹل ہل میں امریکی نیوی کے ایڈمرل ہیری ہیرس چین پر تنقید میں مصروف تھے۔ بحرالکاہل میں امریکی بحری بیڑے کے چوٹی کے کمانڈر سینیٹ کی آرمڈ فورسز کمیٹی کے سامنے اپنے شہادتی بیان میں بتا رہے تھے کہ چین نے جنوبی سمندر کے متنازعہ جزیرے میں فائٹر جیٹ طیارے متعین کردیئے ہیں جو علاقے کے دیگر ممالک کو مشتعل کرنے کا باعث ہوسکتا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -