ملک بھر میں 180مشکوک مدارس کو بند کر دیا گیا: چودھری نثار

ملک بھر میں 180مشکوک مدارس کو بند کر دیا گیا: چودھری نثار

  

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ایوان زریں کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت 16 فروری تک نفرت انگیز تقریر اور مواد کی مد میں 2471 مقدمات رجسٹرڈ کئے گئے ہیں جبکہ 2345 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے لاوڈ سپیکرز کے ناجائز استعمال کی مد میں 9945 مقدمات درج کئے گئے اور 10177 افراد کو گرفتارکیا گیا ہے وزارت اداخلہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اس وقت ملک میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 699 ہے بدھ کو قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وقفہ سوالات کے موقع پر وزارت داخلہ کی جانب سے تحریری آگاہ کیا گیا کہ نیشنل ایکشن پروگرام پر عملدرآمد کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتیں اقدامات کر رہی ہیں اس اقدام کے تحت 16 فروری تک نفرت انگیز تقریر اور مواد کی مد میں 2471 مقدمات رجسٹرڈ کئے گئے ہیں ان مقدمات کے تحت 2345 افراد کو گرفتار اور 73 دکانوں کو بند کیا گیا ہے انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ ملک میں لوڈسپیکر کے ناجائز استعمال پر 9945 مقدمات درج کئے گئے جن میں گرفتار افراد کی تعداد 10177 اور 2664 مقدار میں سازو سامان ضبط کیا گیا ہے ملک میں 182 مشکوک مدارس کو بند کیا گیا ہے جن میں پنجاب میں 2، سندھ میں 167 اور کے پی کے میں 13مدارس شامل ہیں جبکہ سندھ میں 92 غیر اندراج سدہ مدارس کو بھی بند کیا گیا ہے ۔ ملک میں غیر ملکی امداد سے چلنے والے 190 مدارس ہیں جن میں پنجاب میں 147 ، سندھ میں 6، کے پی کے میں 7 اور بلوچستانمیں 30 مدارس شامل ہیں حکام نے مزید بتایا کہ ملک میں مدارس کی کل تعداد 717 ہے جبکہ رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 699 ہے وزیر مملکت داخلہ بلیغ الرحمان نے ایوان کو بتایا کہ اسلام آباد میں جدید سہولتوں سے آراستہ ماڈل جیل تعمیر کی جا رہی ہے اس پر 4 ارب 53 کروڑ روپے لاگت آئے گی انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل ڈیٹا میں رجسٹریشن اتھارٹی میں 2015 کے دوران بدعنوانی دھوکادہی کی وجہ سے 301 ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا افضل نے ایوان کو بتایا کہ یکم جون 2013 سے 31 دسمبر 2015 تک 3800 ارب روپے کا قرضہ لیا گیا ہے جبکہ اسی عرصہ میں حکومت نے بیرونی قرضہ بشمول آئی ایم ایف کے قرضہ جات کے ضمن میں 10739 ملین ڈالر کا قرضہ کی ادائیگی کی ہے جن میں بیرونی قرضہ جات 60 ارب 74 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اور آئی ایم ایف کے 4 ارب 66 کروڑ 50 لاکھ ڈالر شامل ہیں پارلیمانی سیکرٹری ترقی و منصوبہ بندی ثقلین بخاری نے نعیمہ کشور خان کے سوال کے جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ حکومت نے افغانستان کی تعمیر نو پروگرام کے تحت 500 ملین ڈالر کی رقم مختص کی ہے یہ پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں کی گئی ہیں اس پروگرام میں شکوک و شبہات کی وجہ سے 2013 میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے اس کا آڈٹ کروایا جس میں بے قاعدگیاں آئی تھیں جن میں ٹینڈر میں ترمیم ، منصوبوں پر آنے والے اخراجات و دیگر شامل تھے جس کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بعد میں کلیئر کر دیا تھا

اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ مردم شماری وقت کی اہم ضرورت ہے،18سال ہوگئے آبادی میں بے پناہ اضافہ ہورہاہے،چھوٹے صوبے بھی تحفظات کا اظہارکررہے ہیں اگر حکومت ایک مرحلے میں مردم شماری نہیں کراسکتی تو2مراحل میں کرائے،حکومت پی آئی اے کی تو نجکاری کررہی ہے مگر پاکستان ایئرویز بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، حکومت پی آئی اے کا خسارہ کم کرے،فیشن ڈیزائننگ کے کالجز بند کئے جارہے ہیں ،تعلیم میں مالیاتی نقصان سے اداروں کو بند نہیں کرنا چاہئے۔وہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہارخیال کررہے تھے،قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ مردم شماری کا اہم مسئلہ ہے،بلوچستان اور سندھ کے وزرائے اعلی کے بیانات بھی آچکے ہیں،ہمارے مستقبل کا دارومدار مردم شماری پرہے اور شماریاں ڈویژن میں افسران کی تعداد اورنگرانی کے حوالے سے بھی سوالات جنم لے رہے ہیں،18سال گزرچکے ہیں مردم شماری نہیں ہوئی اورآبادی میں بے ہنگم اضافہ ہورہاہے،آج آبادی کے بارے میں بتایا جاتاہے کہ20کروڑ آبادی ہے،اس قومی مسئلہ پر ہمیں منفی سیاست نہیں کرنی چاہئے،میں حکومت کی کی کارکردگی کو سراہتاہوں کہ وہ مردم شماری کرنے جارہے ہیں،مردم شماری سے ہم معاملات کو حل کرسکتے ہیں،ملک میں زراعت،صنعت اور دیگر شعبوں میں ترقی کیلئے بھی مردم شماری ایک اہم اوزار ہوگا،اوراس ایوان کو مشترکہ اورمتفقہ طورپر مردم شماری کرانے کیلئے عوامی مفاد میں فیصلے کرنے ہونگے،فوج کی طرف سے بھی3لاکھ75ہزارجوان مردم شماری کیلئے نہیں دیئے جاسکتے،حکومت کو مردم شماری کو2مراحل میں کرائے تاکہ فوج کی کمی کا سامنا نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ2011میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائننگ کے کالجز بنائے گئے تھے مگر اب ان کو بندکیا جارہاہے،تعلیم میں مالیاتی نقصان سے اداروں کو بند نہیں کیاجانا چاہئے،صرف لاہور میں چلایا جائے گا،باقی اضلاع میں اسے ختم کیاجائیگااور2سال سے تعلیمی ادارے میں داخلے پر بھی پابندی ہے،نئی پاکستان ایئرویز لائن بنائی گئی ہے،پی آئی اے کی توہم نجکاری کررہے ہیں اورنئی ایئرلائن بنائی گئی ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -