میٹرو ٹرین کیلئے چینی فنڈز جاری ہونے سے تنقید کرنیوالوں کے عزائم چکنا چور ہو گئے: شہباز شریف

میٹرو ٹرین کیلئے چینی فنڈز جاری ہونے سے تنقید کرنیوالوں کے عزائم چکنا چور ہو ...

  

لاہور(خصوصی رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے یہاں چین کے قونصل جنرل یو بورن نے ملاقات کی اور انہیں ایگزم بینک آف چائنہ کی جانب سے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کیلئے فنڈز کو موثر قرار دینے پر مبارکباد دی۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چین کی قیادت، حکومت اور ایگزم بینک کے حکام نے لاہوراورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے کیلئے فنڈز موثر کیے جانے کے اعلان سے وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت پرایک بار پھر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے جس پر ہم چین کی حکومت، قیادت اور ایگزم بینک کے اعلیٰ حکام کے شکرگزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کیلئے فنڈز کو موثر قرار دینا ایک اہم سنگ میل ہے اور پاکستان کے 18 کروڑ عوام اس اہم پیش رفت پر انتہائی خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پاکستان کا منصوبہ ہے اور اس منصوبے کی تکمیل سے شہری میٹرو ریل پر عزت اور فخر سے سفر کریں گے۔میٹروٹرین کے منصوبے کیلئے چین کے ایگزم بینک کی جانب سے فنڈز موثر ہونے کا اعلان پاکستانی عوام کیلئے خوشخبر ی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ چین نے پاکستان کی موجودہ قیادت پر جو اعتماد کیا ہے وہ دونوں ملکوں کی دوستی میں ایک تاریخ ساز اہمیت کا حامل ہے ۔ فنڈز موثر ہونے سے تنقید کرنے والے مٹھی بھر عناصر کے عزائم چکناچور ہو گئے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ عام آدمی کے مفادات کے منصوبوں کو متنازعہ بنانے والی سیاسی جماعتوں کو عوام سے کوئی سروکار نہیں اور ایسی سیاسی جماعتوں کو منفی طرز سیاست سے گریز کرتے ہوئے مفاد عامہ کے منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا نہیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی مقامات کے تحفظ کیلئے ہرممکن اقدام اٹھایا گیا ہے اور کوئی تاریخی ورثہ متاثر نہیں ہوگا۔ چین کی حکومت اور قیادت نے جس بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر پورا اتریں گے اور میٹرو ریل کا منصوبہ دن رات محنت کرکے مکمل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر چینی قیادت ،حکومت،پاکستان میں چین کے سفیر اورچینی قونصل جنرل کا بھی شکریہ ادا کیا ۔چین کے قونصل جنرل یو بورن نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف محنت کیساتھ مفاد عامہ کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ خواجہ احمد حسان، ایم ڈی پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت یہاں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے عوام کو ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی معیاری سہولتوں کی بہتری کیلئے مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں صحت عامہ کی سہولتوں کو مزید بہتر بنانے کیلئے بنیادی اصلاحات کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت ایک عبادت سے کم نہیں۔معیاری طبی سہولتوں تک رسائی عام آدمی کا حق ہے اوریہ حق اس تک ہر صورت پہنچائیں گے اوراس ضمن میں ڈسٹرکٹ و تحصیل ہیڈ کواٹرز ہسپتالوں میں طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے ملکر کام کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کومفت ادویات کی فراہمی ،طبی آلات و مشینری کو درست حالت میں رکھنے کے ساتھ صفائی کے نظام پر بھر پور توجہ مرکوز کی جائے۔صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے ہر طرح کے وسائل حاضر ہیں ۔ڈی سی اوز اور ای ڈی اوز ہیلتھ ہسپتالوں میں صحت عامہ کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کا خود جائزہ لے کر اسے مزید بہتر بنائیں۔انہوں نے کہا کہ دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کیلئے ہسپتالو ں میں طبی آلات اور مشینری درست حالت میں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ طبی آلات و مشینری کی دیکھ بھال اور مرمت کیلئے عالمی معیار کی بائیومیڈیکل ورکشاپ کا قیام جلد عمل میں لایا جائے گاتاکہ مستقبل میں طبی آلات و مشینری کی مرمت اور دیکھ بھال کا کام بہترین انداز سے فوری طورپر ہوسکے اورمریضوں کو مشینیں خراب ہونے کی وجہ سے مشکل کا سامنا نہ کرنے پڑے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں طبی آلات اور مشینری کے آڈٹ کا کام جلد مکمل کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور ان حقائق کی روشنی میں فیصلے کیے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں طبی آلات اور مشینری کو خراب رکھنے میں ملوث مافیا کا گٹھ جوڑ ہر صورت توڑیں گے اورہسپتالوں میں مریضوں کو معیاری طبی سہولتو ں کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہیلتھ سروس ڈلیوری کو بہتر بنانے کیلئے شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم پلان مرتب کرکے پیش کیا جائے کیونکہ عوام کوعلاج معالجہ کی معیاری سہولتیں فراہم کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے لہٰذااس حوالے سے اگلے ماہ کے وسط تک سفارشات کو حتمی شکل دی جائے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ طبی آلات و مشینری بائیو میٹرک ٹیگنگ کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مجھے صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کے نتائج چاہئیں اورعوام کو بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی میں کوئی تساہل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہسپتالوں میں او پی ڈیز میں مریضوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کیلئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ مل کر مربوط لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی وزراء، مشیران اور سیکرٹری صاحبان ہفتے میں 2 روز فیلڈ میں رہ کر فرائض سرانجام دیں گے ۔ صوبائی وزراء، مشیران اور سیکرٹری صاحبان فیلڈ میں جا کر محکموں کی کارکردگی ،تعلیم ،صحت اوردیگر سماجی شعبوں کی بہتری کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیں گے اوراس ضمن میں رپورٹ باقاعدگی سے پیش کریں گے۔ اس اقدام سے عوام کو فراہم کی جانے والی سہولتوں میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔ وزیراعلیٰ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال قصور کی ایک ڈائلسز مشین تین ماہ تک خراب رہنے کا نوٹس لیتے ہوئے ایم ایس ہسپتال کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اورسرزنش کی ۔چیف سیکرٹری خضر حیات گوندل، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری میڈیکل ایجوکیشن اینڈ سپیشلائزڈ ہیلتھ، سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ، چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ڈی سی او قصور ،ای ڈی او ہیلتھ اورایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال قصور ویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے یہاں لندن سکول آف اکنامکس کے ڈائریکٹرپروفیسرکریگ کال ہون کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی، جس میں پنجاب حکومت اورلندن سکول آف اکنامکس کے درمیان ریسرچ کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات میں پنجاب کے تعلیمی اداروں اورلندن سکول آف اکنامکس طلباء و فیکلٹی ممبران کے تبادلوں کے امکانات کا بھی جائزہ لیاگیا اوراس ضمن میں مستقبل میں قریبی رابطہ رکھتے ہوئے مزید اقدامات کرنے پراتفاق کیا گیا۔ڈائریکٹرلندن سکول آف اکنامکس کریگ کال ہون نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کیساتھ ریسرچ کے شعبہ میں تعاون کریں گے۔انہوں نے کہا کہ لندن سکول آف اکنامکس اگلے برس لاہور میں بین الاقوامی سمٹ کا انعقاد کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں ۔صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد ،مشیر ڈاکٹر اعجاز نبی،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن،ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی اورمتعلقہ حکام کے علاوہ لندن سکول آف آکنامکس کے اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے یہاں ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ورنر ای لی پیج نے ملاقات کی۔ ملاقات میں آبپاشی، توانائی، انفراسٹرکچر،شہری سہولتوں کی بہتری،واٹر مینجمنٹ،سیلاب سے بچاؤ کے حوالے سے اقدامات اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے اس موقع پر لاہو رمیں بلیو یا پرپل لائن کیلئے فنانسنگ کرنے پر دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کا بڑا پارٹنر ہے اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے پنجاب میں مختلف شعبوں میں منصوبوں پرکامیابی سے عملدر آمد ہورہا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پنجاب میں 5 ہزار سکولوں کو سولر پر منتقل کرنے کے فیصلے کا خیر مقد م کرتے ہیں جبکہ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے بھی 5 ہزار سکولوں کو سولر پر منتقل کررہی ہے۔اس طرح مجموعی طورپر صوبے کے دس ہزار سکولوں کو سولر پر منتقل کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہری سہولتوں کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی ایشیائی ترقیاتی بینک کا تعاون لائق تحسین ہے اوراس ضمن میں جو پروگرام شروع کیا گیا ہے اس پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ پنجاب حکومت عوام کو ٹرانسپورٹ کی معیاری، پائیدار، باکفایت اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی کے جامع پروگرام پر عمل پیرا ہے، لاہور کے بعد راولپنڈی اسلام آباد میں میٹرو بس پراجیکٹس سے لاکھوں افراد روزانہ مستفید ہورہے ہیں جبکہ ملتان میں بھی میٹروبس پراجیکٹ پر کام جاری ہے اسی طرح لاہور اورنج لائن میٹروٹرین کا منصوبہ انتہائی تیزرفتاری سے چین کے تعاون سے مکمل کیا جارہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے بلیو لائن یا پرپل لائن میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے فنانسنگ کی فراہمی میں دلچسپی کے اظہار کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت بلیو اورپرپل لائن کی فزیبلٹی پر کام کررہی ہے جو کہ اگلے ماہ مکمل ہوجائے گی۔۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف انتہائی تیزرفتاری اور شفاف طریقے سے منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں جو کہ قابل تعریف ہے۔پنجاب حکومت کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلشن شپ ہے ۔صوبائی وزیر آبپاشی یاور زمان، مشیر ڈاکٹر اعجاز نبی، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات،ایم ڈی پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی، متعلقہ سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

مزید :

صفحہ اول -