آصف علی زرداری کی جانب سے بیان کلیرنس کے بغیر کسی نے جاری کیا؟

آصف علی زرداری کی جانب سے بیان کلیرنس کے بغیر کسی نے جاری کیا؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری:

سابق صدر آصف علی زرداری کا جو بیان بدھ کے اخبارات میں بینر ہیڈلائن کے طورپر شائع ہوا، سارادن تبصروں اور تجزیوں کی زد میں رہا، جن دوستوں کو تجزیئے کی بہت جلدی تھی انہوں نے غالباً بیان پوری طرح پڑھا بھی نہیں اور ایسے ایسے تبصرے شروع ہو گئے جو بیان کو کھینچ تان کر بھی جائز تصور نہیں کئے جاسکتے تھے، بعض لوگوں کا خیال یہ تھا کہ یہ اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے بیان کے اثرات کم کرنے کی شعوری کوشش ہے، بعض یہ دورکی کوڑی لائے کہ اب امریکہ سے پاکستان آمد کی راہ بھی ہموار ہوجائے گی، غرض جس کسی کے دماغ میں جو آیا وہ اس نے نشریاتی لہروں کے سپرد کردیا، لیکن اس بیان کی اب جو وضاحت آئی ہے وہ بھی بڑی دلچسپ ہے، اور اس بیان کے ایک حصے کو میڈیا سیل کی غلطی قرار دیا گیا ہے اور پیپلزپارٹی اس کی تحقیقات بھی کررہی ہے، اس شخص کا پتہ بھی چلا لیا گیا ہے جس نے ’’بغیر کلیرنس ‘‘ بیان جاری کردیا، وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ آصف علی زرداری نے خود ایسا بیان جاری نہیں کیا سینیٹر سعید غنی کا کہنا ہے کہ میڈیا سیل کی غلطی سے آصف علی زرداری کا آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے متعلق بیان جاری ہوا، انہوں نے کہا کہ فرحت اللہ بابر کو ہی آصف علی زرداری کی طرف سے بیان جاری کرنے کا اختیار ہے، یہ اختیار اسلام آباد اور کراچی میں قائم میڈیا سیلز کو بھی نہیں ہے کہ وہ آصف علی زرداری کی طرف سے بیان جاری کریں۔

سیاسی بیانات کی تردید کرنا تو ہمیشہ سے سیاستدانوں کا حق رہا ہے اور یہ حق تسلیم بھی کیا جاتا رہا ہے کسی بھی بیان کے چاہے کتنے بھی ٹھوس شواہد موجود ہوں اگر کوئی سیاستدان اپنے بیان کی تردید کردیتا ہے، وضاحت کردیتاہے، یا کم ازکم اس سیاق و سباق کو بیان کردیتا ہے جو بیان جاری کرتے وقت اس کے پیش نظر تھا تو اسے مانا جاتا ہے تاہم الیکٹرونک میڈیا میں بعض اوقات بڑی دلچسپ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے، جس بیان کی تردید کی جارہی ہوتی ہے اگر اس کی ویڈیوریکارڈنگ بھی ساتھ سنادی جائے تو تردید کا سارا لطف ہی غارت ہو جاتا ہے۔

آصف علی زرداری نے اپنے تازہ بیان میں کیا کہا اور کیانہیں کہا، لیکن وضاحتی بیان سے لگتا ہے کہ ان کی جانب سے کوئی بیان تیار ضرور ہوا تھا، مشکل یہ آن پڑی کہ اس کے بعض حصے بھی جاری ہو گئے جن کی ’’کلیرنس‘‘ نہیں ملی تھی، ظاہر ہے میڈیا سیل نے جب بیان لکھا تو کسی نہ کسی کی ایڈوائس پر ہی لکھا ہوگا، بیان لکھنے سے پہلے صاحب بیان کی جانب سے کچھ آؤٹ لائنز بھی سمجھائی گئی ہوں گی ، جنہیں یا تو سمجھانہیں گیا یا پھر کسی اور وجہ سے بیان جاری ہوگیا، ہمارے ایک سینئر صحافی دوست بتایا کرتے تھے کہ متحدہ پاکستان کے ایام میں جب وہ نئے نئے صحافت میں آئے تو اس وقت جنرل ایوب خان کی حکومت تھی اے ٹی ایم مصطفیٰ مرکزی وزیر تھے، وہ ڈھاکہ جاتے ہوئے تھوڑی دیر کے لئے لاہور ائرپورٹ پر رکے تو ان کی ڈیوٹی لگی کہ وہ ان سے وی آئی پی لاؤنج میں بات کرلیں۔ جب بات چیت شروع ہوگئی تو غالباً اے ٹی ایم مصطفیٰ نے محسوس کیا کہ دوران گفتگو بعض باتیں ایسی آگئی ہیں جن کا اخبارات میں چھپنا مناسب نہیں تو انہوں نے رپورٹر سے کہا کہ خبرکے فلاں الفاظ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ ہیں، اب رپورٹر کو ان الفاظ کا مفہوم سمجھ میں نہ آیایا انہوں نے دانستہ اسے نظر انداز کرکے خبر جاری کردی جو اس وقت کی ایک اہم نیوز ایجنسی کے ذریعے پورے ملک کے اخبارات میں چھپ گئی تو دوسرے دن طوفان مچ گیا، رپورٹر سے وضاحت طلب کی گئی تو اس نے حلفاً کہا کہ اے ٹی ایم مصطفیٰ نے میرے ساتھ یہ باتیں کی ہیں، جب انہیں بتایا گیا کہ وزیر صاحب کا کہنا ہے کہ باتیں انہوں نے ضرور کی تھیں لیکن یہ بھی کہہ دیا تھا کہ فلاں فلاں حصہ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ ہے۔ تو عین ممکن ہے کہ آصف علی زرداری کی جانب سے جو بیان تیار کیا گیا ہو اس پر اچھی طرح نظرثانی نہ ہوسکی ہو، اور میڈیا سیل کی بے احتیاطی سے بیان جاری ہو گیا ہو، لیکن ہمیں سینیٹر سعید غنی کے بیان کا یہ حصہ بہت پسند آیا کہ اس شخص کو تلاش کرلیا گیا ہے جس نے بغیر کلیرنس کے بیان جاری کردیا۔

بیان کس طرح جاری ہوا، کس نے جاری کیا، کسی کی لاپروائی تھی یانہیں، اس سے قطع نظر اس بیان نے ان سینئر رہنماؤں کوضرور پریشان کردیا جنہوں نے ایک سے زیادہ بار یہ بیان دیا تھاکہ جنرل راحیل شریف کواپنے عہدے کی میعاد میں توسیع نہیں لینی چاہئے۔ ان کے یہ بیانات اس وقت آنا شروع ہوگئے تھے جب ابھی اس موضوع پر جنرل راحیل شریف کی طرف سے آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا تھا، جب آئی ایس پی آر نے یہ ٹویٹ کردیا کہ جنرل صاحب اپنے وقت پر ریٹائر ہونا پسند کریں گے اور وہ توسیع کے خواہش مند نہیں تو ان رہنماؤں نے اس بیان کا خیر مقدم کیا، اب جب جناب زرداری سے منسوب یہ بیان سامنے آگیا کہ جنرل راحیل شریف کی جانب سے توسیع نہ لینے کا بیان قبل ازوقت ہے، تو ان رہنماؤں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اب وہ کیا مؤقف اختیار کریں بلکہ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ پیپلزپارٹی نے پنجاب اسمبلی میں ایک قرار داد بھی جمع کرادی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے ، یہ قرارداد پیپلزپارٹی کے رکن خرم جہانگیر وٹو نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان وفاقی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی دشمن مل کر ملکی سلامتی ،امن اور ترقی کو بد ترین خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔ایسے میں اس امر کی ضرورت ہے کہ ذاتی اعتراضات اور سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر قوم اور سیاسی قوت مسلح افواج کے شانہ بشانہ یکجان ہو کر دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں‘ پاکستانی فوج کی قربانیوں اور جدوجہد کو سیاسی مصلحتوں اور اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد او رکامیابی کی متمنی ہے۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا توسیع نہ لینے کا اعلان بلا شبہ لائق تحسین تو ہے لیکن دہشتگردی کے خلاف جاری قومی ایکشن پلان کے پیش نظر قومی تاریخ کے اس نازک موڑ پر ان کا یہ اعلان قبل از وقت ہے۔ جنرل راحیل شرف کی بے خوف اور مدبرانہ قیادت میں جدوجہد بہت جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی لہٰذا ان کے اس اعلان سے عوام کی امید مایوسی میں بدلنے کا امکان ہے ‘ معروضی حالات اور عوامی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ایوان وفاقی حکومت پر بھرپور زور دیتا ہے کہ وہ قومی مفاد اور ملکی سلامتی کی خاطر جنرل راحیل شریف کی سروس میں توسیع کرے۔‘‘لگتا ہے یہ قرار داد بھی جناب آصف علی زرداری کے تازہ ترین بیان کو سامنے رکھ کر عجلت میں پیش کردی گئی اب بیان کی وضاحت تو ہوگئی لیکن قرارداد کی وضاحت کیونکر ہوگی یہ بعد میں پتہ چلے گا۔

مزید :

تجزیہ -