ہنگو میں ناظمین اور کونسلروں کا فنڈ ز کی عدم دستیابی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

ہنگو میں ناظمین اور کونسلروں کا فنڈ ز کی عدم دستیابی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

  

 ھنگو(بیورورپورٹ)حلقہ پی کے 42تحصیل ھنگو کے35ویلج کونسلوں ،نیبر ہوڈ کونسلوں اور جنرل کونسلروں کا فنڈ نہ ملنے اور اختیارات نہ ملنے کے خلاف صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج ،احتجاجی مظاہرہ کونسلر اتحاد کے چیئر مین و ویلج کونسل فاروق آباد کے ناظم خالق الرحمان کے زیر قیادت ھنگو پریس کلب کے سامنے ہو ا احتجاجی مظاہرے میں سپین خاوری ویلج کونسل کے ناظم غنی ،سیدانو بانڈہ ویلج کونسل کے ناظم ابن علی کے علاوہ تحصیل ھنگو کے 35ویلج کونسلوں و نیبر ہوڈ کونسلوں کے ناظمین ،نائب ناظمین ،و جنرل کونسلروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی مظاہرین نے پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جس میں ضلع ناظم کی بے بسی نا منظور ،اختیارات دئے جائیں ،فنڈز ہم کو منتقل کئے جائیں ،بصورت دیگر ہم وزیر اعلی ہاؤس پشاور کے سامنے احتجاج کرنے پر مجبورہونگے مظاہرین نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ اور اے ڈی لوکل گورنمنٹ کے خلاف شدید نعرے بازی کی پریس کلب کے سامنے مین جی ٹی روڈ کو ادھا گھنٹہ بند رکھا مظاہرین نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کتابوں میں تو ہمارے اختیارات لکھے گئے ہیں مگر عملی طور پر ہمارے واڈوں میں ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں ہے ہم کسی بھی سکول ،بی ایچ یو یا دیگر محکموں کو جاتے ہیں وہ ہمارے اختیارات کو نہیں مانتے بلکہ ہمارے ساتھ بات تک گوارا نہیں کرتے یہ کہتے ہیں کہ اپ لوگ اختیارات کے حوالے سے ہمیں لیٹر دیکھائیں انہوں نے کہا کہ تمام ویلج کونسلوں اور نیبر ہوڈ کونسلوں کو فنڈز تو ائے ہیں مگر اے ڈی لوکل گورنمنٹ نے اپنے اکاؤنٹ یا فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رکھے ہیں ہمارے اکاؤنٹس کو منتقل نہیں کرتے جس کے باعث ترقیاتی کا م رکھے ہوئے ہیں اے ڈی لوکل گورنمنٹ کہتے ہیں کہ پہلے اپ لوگ پی سی ون بنائیں پی سی ون کے حساب سے سکیم کا فنڈ ملے گا جو کہ سراسر نا انصافی ہے کیونکہ اگر ہم ایک لاکھ روپے کے سکیم کا پی سی ون بنائی وہ تین لاکھ سے زیادہ بن جاتا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہم کو فنڈ منتقل کریں ہم تین لاکھ روپے کا سکیم ایک لاکھ روپے میں کریں گے اگر ہم نے کرپشن کیا تو پہلے ہمارے ساتھ احتساب کیا جائے اس کے برعکس پی سی ون بنانے میں سب سے زیادہ پیسہ ضائع ہوتا ہے اور سب سے زیادہ کرپشن کا چانس پی سی ون بنانے میں ہے اس میں کمیشن خوری ہو سکتی ہیں اسلئے اگر ہم اپنے مرضی سے فیزبیلٹی رپورٹ بنائی اور اپنے طریقے سے کام کریں تو کرپشن بھی نہیں ہوگا اور ہم تین لاکھ روپے کا سکیم ایک لاکھ میں کر سکتے ہیں اس کیلئے ہمارے مانیٹرنگ کیا جائے اور چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے ہمارا کوئی اعتراض نہیں بصورت دیگر اگر ہم کو اختیارات نہیں دئے گئے اور فنڈ ہم کو نہیں ملا تو ہم وزیر اعلی خیبر پختونخواہ ہاؤس کے سامنے پشاور میں شدید احتجاجی مظاہرے کریں گے ۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -