6 اعلیٰ پولیس افسروں کی گرفتاری کی حکم امتناعی میں توسیع

6 اعلیٰ پولیس افسروں کی گرفتاری کی حکم امتناعی میں توسیع

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم میانخیل اور جسٹس یونس تہیم پرمشتمل دورکنی بنچ نے قومی احتساب بیورو کے ہاتھوں 6اعلی پولیس افسروں کی گرفتاری روکنے سے متعلق جاری حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے رٹ درخواستوں کی سماعت16مارچ تک ملتوی کردی فاضل بنچ نے درخواست گذاروں ساجد علی خان ٗ عبداللطیف گنڈاپور ٗ ساجد کمال اورکزئی ٗ کاشف عالم ٗ عبدالمجید مروت اورڈاکٹرسلیمان کی رٹ درخواستوں کی سماعت شروع کی تو ان کے وکیل انوارالحق نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکلوں کے خلاف قومی احتساب بیورو نے اسلحہ کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کیاہے حالانکہ پشاورکی احتساب عدالت پہلے ہی درخواست گذاروں پرفردجرم عائد کرنے سے انکار کرچکی ہے اورپشاورہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف نیب کی رٹ خارج کی ہے لیکن اس کے باوجود نیب نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے وارنٹ گرفتاری جاری کیاحالانکہ اس حوالے سے کیس ٹرائل کورٹ میں زیرسماعت ہے اورسپریم کورٹ کے خالدعزیزکیس میں یہ قرار دیاگیاکہ جب کیس عدالت میں داخل ہوجائے اورریفرنس جمع ہوجائے تو پھراس کیس کے حوالے سے کسی بھی ملزم کی گرفتاری کااختیار چیئرمین نیب کے پاس نہیں رہتا بلکہ یہ صرف عدالت کااختیار ہے کہ وہ کس کو طلب کرے اورکس کو نہیں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جو وارنٹ جاری ہوا ہے وہ بدنیتی پرمبنی ہیں کیونکہ تین عدالتوں سے نیب کاموقف غلط قرار دیاجاچکاہے جبکہ اس موقع پر خالد محمود ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایاکہ ان کے موکلوں کے خلاف کوئی شہادت نہیں ہے اورنہ ہی ریفرنس میں اس کے رول کو واضح کیاگیاہے اگرنیب کایہ موقف ہے کہ وہ عدالت کو بعض شواہد ان کیمرہ بتاناچاہتی ہے تو یہ آئین کے منافی ہے جس پرفاضل چیف جسٹس نے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب جمیل صراف نے عدالت کو بتایا کہ جب ایک مرتبہ کیس عدالت میں آگیاہے تو آپ نے کس طرح وارنٹ جاری کئے ہیں جس پرانہوں نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین نیب کے پاس یہ ا ختیار ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرسکتاہے چونکہ درخواست گذاروں کے بعض وکلاء ناگزیروجوہات کی بناء پرسماعت ملتوی کرنے کی درخواست کرچکے ہیں اس بناء جب کیس مکمل طورپرعدالت کے سامنے پیش ہوگا تو یہ سارے حقائق پیش کئے جائیں گے اسی طرح عدالت نے پروفیسرعبدالرحیم نے ایک مفصل فیصلہ بھی دیا ہے جس پر انوارالحق نے عدالت کو بتایا کہ عبدالرحیم کا کیس اس وقت عدالت میں داخل نہیں ہواتھا اوران دونوں کیسوں میں تضاد ہے بعدازاں عدالت نے سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی ۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -