محکمہ فشریز کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے دریائے ہرو سے مچھلی کا انخلا ء شروع

محکمہ فشریز کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے دریائے ہرو سے مچھلی کا انخلا ء شروع

  

اٹک (نمائندہ پاکستان)محکمہ فشریز کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے دریائے ہرو سے مچھلی کا انخلا ء شروع ،کرپٹ اہلکاروں نے مقامی مچھیروں کے ساتھ مل کر دریائے ہرو کو ذاتی جاگیر سمجھ کر پانی میں غیر قانونی مہا جال لگوا رکھے ہیں جس کی بدولت دن رات مچھلیاں پکڑکر مارکیٹ میں فروخت کر کے جیبیں بھرنے لگے،دریائے ہرو اور غازی بروٹھہ نہرکے سنگم تک مچھلیوں کے شوقین کے شکاریوں جو کہ بنسی (کنڈی) سے شکار کرتے ہیں ،ان کے لئے بہترین پوائنٹ سمجھا جاتا ہے،محکمہ فشریز کے مطابق فروری، مارچ و اپریل3 ماہ مچھلی کا شکار کرنا ممنوع ہے کیوں کہ ان مہینوں میں مچھلیاں انڈے دیتی ہیں اور لاروہ بنتا ہے جس سے مچھلی کی نسل و افزائش میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اس علاقے میں جہاں سے مچھلیاں دریائے سندھ سے دریائے ہرو میں داخل ہوتی ہیں وہاں پر فشریز کے کرپٹ اہلکاروں کے تعاون سے غیر قانونی مہا جال لگا کر روزانہ کی بنیاد پرچھوٹی بڑی مچھلیاں پکڑ کر ان کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔اہل علاقہ نے ڈی سی او اٹک سے فوری نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -