تاریخ کو اس کے حقیقی انداز میں نہیں پڑھایا گیا ،میاں رضا ربانی

تاریخ کو اس کے حقیقی انداز میں نہیں پڑھایا گیا ،میاں رضا ربانی

  

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر) چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے یونیورسٹیوں کو خود مختار بنانے اور تعلیم کو ترجیح دینے اور تعلیمی اداروں میں پارلیمانی تاریخ اور جمہوریت کو سلیبس کا حصہ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی تسلط اور جبر کو برقرار رکھنے کیلئے تاریخ کو اس کے حقیقی انداز میں نہیں پڑھایا گیا ۔اور ضرورت اس امر کی ہے کہ عملی اقدامات کے ذریعے پارلیمانی تاریخ اور جمہوریت سے متعلق آگاہی پھیلائی جائے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پارلیمنٹ اور یونیورسٹیوں کے مابین تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے منعقدہ ایک پارلیمانی فورم میں بطور مہمان خصوصی کیا ۔جس کا انعقاد اسلام آباد میں ہونے والی پہلی سوشل سائنسز ایکسپو2016 کے موقع پر کیا گیا ۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے پارلیمان اور اکیڈمیہ کے مابین رابطہ اور تعاون انتہائی ضروری ہے تاکہ طلباء اور نوجوان نسل میں جمہوریت ، پارلیمانی نظام اور جمہوری روایات کے متعلق شعور اجاگر کیا جا سکے اور اس نظام کی اہمیت سے متعلق آگاہی پھیلائی جا سکے ۔انہوں نے اس ایکسپو کو انتہائی خوش آئندہ قرار دیا اور کہا کہ اس قسم کی نمائشوں کے انعقاد سے سوشل سائنسز کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مد د ملے گی ۔چیئرمین سینیٹ نے شرکاء کو سینیٹ کی جانب سے اکیڈمیہ کے ساتھ روابط کو بڑھانے کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ سینیٹ سیکرٹریٹ میں انٹر شپ کے پروگرام شروع کیے جا چکے ہیں اور اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر 10 یونیورسٹیوں کے ساتھ مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط بھی ہو چکے ہیں تاکہ نوجوان نسل کو پارلیمان کے کام کرنے کے طریقہ کار اور پارلیمانی نظام کی اہمیت کے بارے میں جان کاری حاصل ہو سکے ۔اس موقع پر سینٹر برائے سوک ایجوکیشن کے سربراہ ظفراللہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر ناصر علی خان وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی ہری پور اور عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان کے علاوہ PIPS کے سربراہ راشد منصور ذکا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور یونیورسٹیوں میں پارلیمانی نظام اور جمہوریت کے متعلق نصاب کے متعارف کرانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں معاشرے میں عزت کا مقام دینے کے حوالے سے اسلام نے14 سو سال پہلے گرانٹی کر دیئے ہیں اور انسانی حقوق کے سب سے بڑا معاہدہ میثاق مدینہ کی شکل میں موجود ہے ۔انہوں نے کہا کہ یورپ اور مغربی دنیا میں تو حقوق کے حوالے سے اقدامات بعد میں ہوئے انہوں نے جہیز کو ایک لعنت قرار دیا اور کہا کہ کم عمری میں بچیوں کی شادی کرنا ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔چیئرمین سینیٹ نے BISP کے اقدامات اور کاوشوں کو سراہا اور اس امید کو اظہار کیا کہ ایسے اقدامات سے خواتین کو مزید تحفظ ملے گا ۔ اس موقع پر BISP کی سربراہ اور وزیر مملکت ماروی میمن نے بھی خطاب کیا جبکہ انہوں نے کارو کاری کے خلاف جدوجہد کرنے والی حلیمہ بھٹوکو بھی متعارف کرایا ۔حلیمہ بھٹو نے شرکاء کو اپنے اوپر ہونے والے مظالم اور نا انصافی سے آگاہ کیا ۔چیئرمین سینیٹ نے حلیمہ بھٹو کی جدوجہد اور ہمت ، جرت اور استقلال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر 10 ہزار حلیمہ بھٹو اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کریں تو اس معاشرے کی تقدیر بدل جائے گی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -