مدینہ جیوٹ ملز خان پور بگا شیر کی بندش، ورکرز کے احتجاج میں دستی بھی شریک

مدینہ جیوٹ ملز خان پور بگا شیر کی بندش، ورکرز کے احتجاج میں دستی بھی شریک

  

خان گڑھ ( نمائندہ پاکستان) بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے پاکستان کی جیوٹ ملز کو جیوٹ کی فراہمی بند ہونے کے باعث پاکستان کی گیارہ جیوٹ ملز میں سے صرف چار جیوٹ ملز کام کر رہی ہیں مدینہ جیوٹ ملز خان پور بگا شیر میں خام پٹ سن نہ ہونے کے باعث ملز سے 350 ورکرز نکالے جا چکے ہیں جبکہ مزید چارسو ورکرز فارغ کیے جار ہے ہیں گزشتہ یوم ملز ورکرز کی جانب سے مدینہ جیوٹ ملز انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا گیا جسکی اطلاع پر مزدور رہنما جمشید دستی بھی جیوٹ ملز پہنچ گئے مگر ملز انتظامیہ کی جانب سے گیٹ بند کر دیا گیا اس موقع پر گیٹ کے باہر موجود ورکرنے مزدور رہنما کو بتایا کہ ملز کے اندر احتجاج کرنے والے تین سو سے زائد ورکرز کو باہر نہیں آنے دیا جا رہا تاہم ملز انتظامیہ کی جانب سے غضنفر حسین اور مہر عبدالمجید سیال نے جمشید دستی کے ساتھ مزاکرات کیے اور بتایا کہ جنوری کی تنخواہ دے دی گئی ہے جبکہ ملز ابھی مکمل طورپر بند نہیں ہوئی پٹ سن کا خام مال نہ ہونے کے باعث مل بند کرنے پر مجبور ہیں مزدور رہنما نے ملز انتظامیہ کو بتایا کہ پٹ سن کی بندش کے معاملے پر قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروایا ہے مگر تاحال حکومت نے جواب نہیں دیا جمشید دستی نے ملز انتظامیہ کو تنبیہ کی کہ وہ ورکرز کے واجبات فوری طورپر ادا کریں بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزدور رہنما جمشید دستی کا کہنا تھا کہ پولی بیگ میں زیادہ کمیشن ملنے پر حکومت جیوٹ ملز کی تباہی میں مصروف ہے انہوں نے کہا کہ نا اہل حکومت نے 2012 ء کے بعد سے کسی صنعتی مزدور کو میرج یا ڈیتھ کلیم نہیں دیا تمام کیس لاہور اسلام آباد میں رکے ہوئے ہیں۔

جمشید دستی

مزید :

راولپنڈی صفحہ اول -