نشے میں طیارہ اڑانے کا الزام، ہائیکورٹ نے پائلٹ کی ضمانت منظور کرلی

نشے میں طیارہ اڑانے کا الزام، ہائیکورٹ نے پائلٹ کی ضمانت منظور کرلی
نشے میں طیارہ اڑانے کا الزام، ہائیکورٹ نے پائلٹ کی ضمانت منظور کرلی

  

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے شراب کے نشے میں نجی ائیر لائن کا جہاز اڑانے کے الزام میں گرفتار پائلٹ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ملزم عصمت محمود کو پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدائت کر دی۔ ملزم کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ جہاز کے لینڈنگ گئیر ٹوٹنے کے باعث حادثہ پیش آیا مگر پائلٹ کو بلاجواز مقدمے میں پھنسا دیا گیا۔شاہین ائیر لائنز کے طیارے اڑان بھرنے کے قابل نہیں۔ جسکی وجہ سے اس حادثے کے بعد اب تک اسی ائیر لائن کے چار مزید طیاروں کو گراونڈ کر دیا گیا ہے۔ عصمت محمود کے خلاف شراب نوشی کا مقدمہ نجی لیب سے کرائے گئے خود ساختہ ٹیسٹ کی بنیاد پر کیا گیا جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ پائلٹ نے اب تک انیس ہزار چار سو گھنٹوں کی اڑان بھری اور اپنی سروس کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر شاہین ائیر لائن کے لائسنس کی ممکنہ معطلی کے باعث پائلٹ کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب انور گوندل نے کہا کہ پائلٹ کی مبینہ غفلت کے باعث کئی قیمتی جانیں داو پر لگیں جسکی وجہ سے پائلٹ کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا گیا لہذا اسکی ضمانت منظور نہ کی جائے۔ سول ایوی ایشن کے وکیل نے کہا کہ کو پائلٹ کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ پائلٹ ہوش و حواس میں نہیں تھا۔ جس پر عدالت نے سول ایوی ایشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر پائلٹ نے غفلت کا مظاہرہ کیا تو کو پائلٹ نے طیارے کا انتظام خود کیوں نہیں سنبھالا۔ بادی النظر میں دکھائی دے رہا ہے کہ کو پائلٹ بھی شریک ملزم ہے۔

مزید :

لاہور -