غریبوں کا علاج دلی خواہش، چاہتے ہیں علاج کیلئے کوئی اپنی جائیداد نہ بیچے، ہر حکومت کو غریبوں کی فلاح بارے سوچنا چاہئے: وزیراعظم

غریبوں کا علاج دلی خواہش، چاہتے ہیں علاج کیلئے کوئی اپنی جائیداد نہ بیچے، ہر ...
غریبوں کا علاج دلی خواہش، چاہتے ہیں علاج کیلئے کوئی اپنی جائیداد نہ بیچے، ہر حکومت کو غریبوں کی فلاح بارے سوچنا چاہئے: وزیراعظم

  

مظفر آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ غریبوں کیلئے قومی صحت پروگرام کا اجراءحکومت کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے، غریبوں کا علاج دلی خواہش ہے اور اس پر جتنی بھی رقم خرچ کی جائے، کم ہے۔ ہم معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کے بارے میں سوچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی شخص علاج کیلئے اپنی جائیداد نہ بیچے،وزیراعظم نواز شریف نے مستحق افراد میں قومی صحت کارڈز بھی تقسیم کئے اور مظفر آباد میڈیکل کالج کیلئے 10 کروڑ روپے دینے کیساتھ ساتھ 2 بسیں دینے کا اعلان بھی کیا۔

تفصیلات کے مطابق مظفر آباد میں وزیراعظم قومی صحت پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف، صدر آزاد کشمیر، وزیراعظم آزاد کشمیر، وفاقی وزیر صحتسائرہ افضل تارڑ سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ قومی صحت پروگرام سے روزانہ 200 روپے سے کم آمدن والے افراد استفادہ حاصل کر سکیں گے اور ہر فرد کو 3 سے 6 لاکھ روپے تک حاصل ہو سکیں گے اور تین لاکھ سے زائد کے اخراجات بیت المال دے گا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ قومی صحت پروگرام ہمارے منشور کا حصہ ہے جس پر بہت عرصے سے کام جاری تھا اور آج اس کا افتتاح حکومت کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو قابل عمل بنانے کیلئے کافی عرصے سے کام جاری تھا۔ انشورنس اور دیگر معاملات کو حتمی شکل دینے میں کافی وقت صرف ہوا اور ابتدائی طور پر اس کا اجراءاسلام آباد میں کیا گیا اور آج مظفر آباد میں بھی اس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں جب اس سکیم کا اجراءکیا گیا تو لوگ ہسپتالوں میں گئے اور اپنا علاج کرایا۔ ان میں ایک ایسا شخص بھی شامل تھا جو دل کا مریض تھا اوراپنی 5 بچیوں کا پیٹ پالنے کیلئے سڑک کنارے چپس بیچتا تھا۔

مریم نواز شریف نے خود اس شخص کو فون کر کے حال دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ اس کے دل کا بائی پاس ہو گیا ہے اور وہ اب صحت یاب ہو رہا ہے۔ ذرا اندازہ کریں کہ ایک ایسا شخص جس کی آمدنی اتنی کم ہو کہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ بھی نہ پال سکے، اپنا علاج کیسے کرائے گا؟ ہو سکتا ہے کہ بچیوں کی فکر کے باعث ہی اسے دل کی بیماری بھی ہوئی ہے۔ اس معاشرے میں ایسے سفید پوش موجود ہیں جو مزدور کے باوجود بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکتے اور کسی کے سامنے سوال بھی نہیں کرتے، میں نے لوگوں کی جائیدادیں بکتے دیکھی ہیں اور لوگوں کو سڑکوں پر آتے دیکھا ہے، قومی صحت سکیم کا اجراءایسے ہی لوگوں کیلئے ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان کے والد بھی غریبوں کے علاج معالجے پر خصوصی توجہ دیتے تھے اور اس مقصدکیلئے انہوں نے 2 ہسپتال بھی بنوائے جو مکمل طور پر ویلفیئر ہیں اور ان کا ایک پیسہ بھی خاندان پر حرام ہے۔ میں ان تمام لوگوں کو اور اداروں کو بھی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دینا چاہتا ہوں جو اس طرح کے کارخیر میں حصہ لیتے ہیں اور غریبوں کا مفت علاج کرتے ہیں، حکومت نے بھی اس پالیسی کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت غریبوں کا مفت علاج کیا جائے گا اور انہیں بہترین سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریب میں شامل جن لوگوں کو صحت کارڈ ملے ہیں وہ آج سے ہی ہسپتال میں جائیں اور اپنا علاج شروع کرائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے جس کی آبادی 20 کروڑ ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ ہمارا یہ ملک خوشحال ہو جائے۔ ہم معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کے بارے میں سوچتے ہیں اور ہر حکومت کی ترجیح غریبوں کی فلاح ہونی چاہئے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -