عرب شہری کاٹی وی پروگرام میں خواتین کے بارے میں شرمناک دعویٰ کہ ہنگامہ برپا ہوگیا، گرفتاری کا حکم آگیا

عرب شہری کاٹی وی پروگرام میں خواتین کے بارے میں شرمناک دعویٰ کہ ہنگامہ برپا ...
عرب شہری کاٹی وی پروگرام میں خواتین کے بارے میں شرمناک دعویٰ کہ ہنگامہ برپا ہوگیا، گرفتاری کا حکم آگیا

  

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک عرب شہری نے ٹی وی پروگرام میں خواتین کے بارے میں ایسا شرمناک دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔انتظامیہ بھی اس کیخلاف حرکت میں آگئی اور گرفتاری کا حکم جاری کر دیا گیا ہے ۔ اماراتی نیوز 24/7کے مطابق مصر میں ایک فیس بک پیج کے ایڈمنسٹریٹر کو بیویوں کے بے وفا ہونے کے بیان پر گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس آدمی کے خواتین سے متعلق شرمناک بیان پر سوشل میڈیا پر بھی کافی تنقید کی جا رہی ہے ۔ اس فیس بک پیج ایڈمنسٹریٹرتیمو رال سوبکے نے ملک کے معروف ٹی وی ٹاک شو میں دعویٰ کیا تھا کہ قدامت پسندملکوں میں ہر تیسری شادی شدہ خاتون شوہروں کے ساتھ بے وفاہوتی ہیں۔

پبلک پراسیکیوٹر نے منگل کے روز مصری خواتین کی توہین اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں تیمو رال سوبکے کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ خواتین سے متعلق یہ شرمناک دعویٰ ایک نجی چینل سی بی سی پر دسمبر میں نشر کیا گیا تھا لیکن اس نے کسی تنازعے کو جنم نہ دیا تاہم کلب فیس بک پیج پر پوسٹ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا جس کے نتیجے میں مذکورہ شو کو بھی پندرہ دن کے لئے معطل کر دیا گیا ہے ۔

تیمو رال سوبکے نے ”ڈائریز آف آ سفرنگ ہزبنڈ “یعنی ”متاثرہ شوہر کی زندگی کے خفیہ پنے“کے نام سے فیس بک پیج بنا رکھا ہے اور اور اس کے دس لاکھ سے زائد فالوورز بھی ہیں۔ تیمو رال سوبکے نے فیس بک پیج پر شائع کیا کہ ” 30فیصد خواتین بداخلاقی کے لئے تیار ہیں،ان خواتین کو ان کی حوصلہ شکنی کرنے والا کوئی نہیں ملا،آجکل خواتین کی جانب سے شوہروں کو دھوکہ دینا اور باہر منہ مارنا بہت عام ہو گیا ہے ،ایسے سینکڑوں شوہر جو بیرون ملک ہیں ان کی بیویاں شادی شدہ ہونے کے باوجود ناجائز تعلقات استوار کرنے میں ملوث ہیں“۔اس شخص نے مزید کہا” شوہر بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی بیویاں انہیں دھوکہ دے رہی ہیں تاہم ان کے پاس اپنی بیویوں کو معاف کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں جب تک وہ انہیں چھوڑ نہ دیں ۔ قانونی ماہر طارق اسماعیل کا کہنا ہے کہ اگر سوبکے کو مجرم قرار دیا گیا تو اسے کم از کم تین سال جیل کی سزا ہو سکتی ہے ۔

مزید :

جرم و انصاف -