روس کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، ایک ہی حملے میں درجنوں جرنیل مارے گئے

روس کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، ایک ہی حملے میں درجنوں جرنیل مارے گئے
روس کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، ایک ہی حملے میں درجنوں جرنیل مارے گئے

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں داعش و دیگر باغی تنظیموں سے لڑائی میں مصروف روسی افواج کو اب تک کا سب سے بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ اتوار کے روز شام کے شہر لتاکیا(Latakia) کے قریب واقع روس کے فوجی اڈے پر ایک خوفناک کاربم دھماکہ ہوا جس میں درجن بھر روسی فوجی جنرل ہلاک ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملہ شامی حکومت کے مخالف باغی گروپوں احرارالشام اور بیان موومنٹ نے کیا۔ احرارالشام کے میڈیا آفس کی طرف جاری ایک بیان میں اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ”یہ دھماکہ احرارالشام اور بیان موومنٹ نے مقامی باغیوں سے مل کر طور پر کیا ہے۔ مقامی باغی روسی فوجی اڈے پر موجود تھے اور انہوں نے ہی روسی جرنیلوں کے اکٹھا ہونے کی مخبری کی اور دھماکہ کرنے میں مدد دی۔ “

مزید جانئے: لبنان کیخلاف عرب دنیا اکھٹی، کویت اورقطر بھی میدان میں آگئے،اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت

احرارالشام کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ”اس دھماکے میں درجن بھر روسی جرنیل ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔“ بیان موومنٹ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اس دھماکے کے اعلان میں اس لیے تاخیر کی گئی تاکہ حملہ کرنے والے ہمارے ساتھی بحفاظت واپس پہنچ سکیں۔ ان کے واپس آنے کے بعد اس کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ “ یروشلم پوسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جس فوجی اڈے کو باغیوں نے نشانہ بنایا ہے یہ شام کی سرزمین پر روسی افواج کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ فوجی اڈا لتاکیا سے محض 15کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ شام میں متحارب فریقین کی طرف سے ہفتے کے روزسے فائربندی کا اعلان سامنے آیا تھا، اس کے عین اگلے روز اس دھماکے کا اعلان کر دیا گیا۔ فائر بندی کے معاہدے میں امریکہ اور روس یہ اعلان کر چکے ہیں کہ یہ فائربندی داعش اور النصرہ فرنٹ کے خلاف نہیں ہو گی۔ اس دھماکے کے بعد متوقع طور پر روس احرارالشام کے خلاف فائربندی نہ کرنے کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -